نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نئی دہلی میں برکس (BRICS) وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی تنازع کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ایرانی قوم اپنی آزادی، خود مختاری اور سرزمین کے دفاع کے لیے پوری طاقت کے ساتھ لڑنے کے لیے چوبیس گھنٹے تیار ہے، تاہم تہران سفارت کاری کے تحفظ اور اس کے فروغ کے لیے بھی مکمل طور پر آمادہ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برکس ممالک اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے۔ ایران کے خلاف کی جانے والی دونوں ممالک کی غیر قانونی جارحیت کی عالمی سطح پر کھل کر مذمت کی جائے۔
برکس اجلاس کے حاشیے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے بھی خصوصی ملاقات کی۔ اس ہائی پروفائل بیٹھک میں خطے کی تازہ ترین اور کشیدہ صورتحال پر گہرائی سے گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی سطح پر بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے اور روس ایران تزویراتی (Strategic) روابط کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔