اسلام آباد: پاکستان اور چین کے مابین روایتی انفراسٹرکچر کے بعد اب ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چین کے ایک اعلیٰ سطح کے 11 رکنی کاروباری وفد نے ملاقات کی، جس میں چین کے مشہور آئی بی آئی (IBI) گروپ نے پاکستان میں اپنا "ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر" قائم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان بڑھتے ہوئے کاروباری روابط پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
چینی سرمایہ کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ چین نے صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ اور دور اندیش قیادت میں معاشی ترقی کی نئی بلندیوں کو چھوا ہے، جو پوری دنیا کے لیے ایک رول ماڈل ہے۔ وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں چین کا باقاعدہ سرکاری دورہ کرنے جا رہے ہیں اور وہ اس اہم دورے کے لیے انتہائی پرامید ہیں۔
پاکستان اور چین کی دوستی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے اور اب یہ تعلقات کاروباری شراکت داری (B2B) میں تبدیل ہو رہے ہیں۔معاشی ماہرین کے مطابق، آئی بی آئی گروپ کی جانب سے پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر کا قیام ملکی آئی ٹی سیکٹر کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس اقدام سے پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس، ای کامرس اور ٹیکنالوجی کی منتقلی (Technology Transfer) کو فروغ ملے گا، جس سے مقامی سطح پر نوجوانوں کے لیے روزگار کے سینکڑوں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت چینی سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن کے تحت تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرے گی۔