امریکا اور چین کے درمیان تعلقات ہمیشہ عالمی سیاست کا مرکز رہے ہیں، مگر حالیہ دنوں میں امریکی صدر کے دورہ چین نے بین الاقوامی منظرنامے کو ایک نئی اہمیت دے دی ہے۔ اس دورے کو صرف دو طاقتور ممالک کی سفارتی ملاقات نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اسے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ تصادم، کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔ عالمی مبصرین کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا بیجنگ اور واشنگٹن مل کر خطے میں امن کے لیے کوئی قابلِ عمل راستہ نکال سکیں گے یا دنیا ایک نئی بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔
بیجنگ پہنچنے پر امریکی صدر کا جس انداز میں استقبال کیا گیا، وہ چین کی سفارتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ چینی نائب صدر ہان ژینگ خود استقبال کے لیے موجود تھے جبکہ دونوں ممالک کے سفیروں اور اعلیٰ حکام کی موجودگی نے اس دورے کی اہمیت کو مزید واضح کر دیا۔ تقریباً تین سو چینی نوجوانوں کا امریکی اور چینی پرچم اٹھا کر استقبال کرنا بھی ایک علامتی پیغام تھا کہ چین دنیا کو محاذ آرائی کے بجائے تعلقات میں بہتری اور استحکام کا تاثر دینا چاہتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے ہمراہ ان کے بیٹے ایرک ٹرمپ، بہو لارا ٹرمپ اور معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک کی موجودگی بھی اس دورے کو محض سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی اور تجارتی اعتبار سے بھی اہم بناتی ہے۔ چین اور امریکا دونوں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اگر ان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات پوری عالمی معیشت پر پڑیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملاقات میں تجارت، ٹیرف، سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں کے معاملات کو بھی خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
تاہم اس دورے کا سب سے اہم پہلو ایران اور امریکا کے درمیان جاری تناو¿ ہے۔ صدر ٹرمپ نے بیجنگ روانگی سے قبل واضح طور پر کہا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ایران جنگ کے معاملے پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔ یہ بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا اب چین کو صرف ایک اقتصادی حریف نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی طاقتور فریق کے طور پر دیکھ رہا ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
امریکا اس وقت مختلف عالمی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات اور اندرونی اقتصادی دباو¿ نے واشنگٹن کو ایک مشکل صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے۔ امریکی معیشت پر جنگی اخراجات کا بوجھ بڑھ رہا ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی امریکا کو مسلسل تنقید کا سامنا ہے۔ ایسے میں امریکا کے لیے ایک نئی اور طویل جنگ میں الجھنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب واشنگٹن سفارتی راستے تلاش کرنے پر مجبور دکھائی دیتا ہے۔
دوسری طرف چین کی پالیسی ہمیشہ نسبتاً محتاط اور اقتصادی بنیادوں پر استوار رہی ہے۔ بیجنگ بخوبی جانتا ہے کہ جنگیں صرف بارود اور ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معیشتوں کو بھی تباہ کر دیتی ہیں۔ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مکمل جنگ چھڑتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تیل منڈی، تجارت اور سرمایہ کاری پر مرتب ہوں گے، جس سے چین بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی لیے چین مسلسل کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بات کر رہا ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی یہی پیغام دیا گیا کہ دونوں ممالک کے صدور عالمی امن، ترقی اور دوطرفہ تعلقات سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ چین نے واضح کیا کہ وہ امریکا کے ساتھ برابری، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ یہ بیان اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بیجنگ اب خود کو عالمی سفارت کاری کے ایک ذمہ دار اور متوازن کردار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
یہاں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ چین کے پاس ایسے کئی “بڑے کارڈز” موجود ہیں جو امریکا کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ چین نہ صرف دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے بلکہ عالمی سپلائی چین، تجارتی منڈیوں اور صنعتی پیداوار میں بھی اس کا کردار بہت بڑا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے ساتھ چین کے قریبی تعلقات بھی اسے اس تنازع میں ایک مو¿ثر ثالث بنا سکتے ہیں۔ چین اگر چاہے تو تہران اور واشنگٹن کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان بھی اس معاملے میں ایک اہم فریق کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان اور چین دونوں مسلسل اس مو¿قف کی حمایت کر رہے ہیں کہ صرف سیز فائر کافی نہیں بلکہ جنگ کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ یہ سوچ دراصل خطے میں پائیدار امن کے تصور کو ظاہر کرتی ہے۔ کیونکہ عارضی جنگ بندی وقتی سکون تو دے سکتی ہے مگر مستقل امن کے لیے بنیادی تنازعات کا حل ضروری ہوتا ہے۔
عالمی سیاست میں اس وقت طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکا اب اکیلا فیصلہ ساز نہیں رہا جبکہ چین مسلسل اپنی سیاسی اور اقتصادی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔ ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی سطح کی مفاہمت پوری دنیا پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اگر صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ ایران کے معاملے پر کسی مشترکہ حکمتِ عملی پر متفق ہو جاتے ہیں تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ دورہ اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان اختلافات کے باوجود دونوں ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ مکمل تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔ امریکا کو چین کی منڈیوں کی ضرورت ہے جبکہ چین بھی امریکی معیشت اور عالمی مالیاتی نظام سے الگ نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات ان کے اختلافات سے کہیں زیادہ بڑے دکھائی دیتے ہیں۔
اگر اس دورے کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان تناو¿ میں کمی آتی ہے تو یہ صرف دو ممالک کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت پیغام ہوگا۔ کیونکہ آج دنیا جنگوں، معاشی بحرانوں اور سیاسی عدم استحکام سے تھک چکی ہے۔ عالمی طاقتوں کو اب ہتھیاروں کے بجائے مذاکرات، مفاہمت اور اقتصادی تعاون کو ترجیح دینا ہوگی۔ چین اور امریکا اگر واقعی سنجیدگی سے امن کی راہ اختیار کرتے ہیں تو شاید آنے والے دنوں میں دنیا ایک نئی تباہ کن جنگ سے بچ جائے۔