دنیا بھر میں اراکین پارلیمینٹ مقابلہ کرتے ہیں کہ جن لوگوں کے ووٹ نے انہیں رکن بننے کا موقع دیا ہے وہ اپنے ووٹرز ، عوام کے مسائل کے حل کیسے کرسکتے ہیں انہوںنے کتنی خدمت کی ، مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں مقابلہ اس بات کا ہوتا ہے کہ وہ عوام کے پیسوں سے بڑی تنخواہیں لینے کے علاوہ اپنی زندگی عوام کے پیسوں سے کس طرح پر تعیش بنا سکتے ہیں ؟؟ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔” انوکھا لاڈلہ کھیلن کو مانگے چاند“ شائد انہی کیلئے کہا گیا ہے ، جب بھی پارلیمینٹ میں ان ”غریب“ اراکین اسمبلی اور سینٹ میں کوئی بل اسطرح کا آتا ہے جس میں انکے لئے مراعات کا ذکر ہو یہ سب یکجا ہو جاتے ہیں۔ اب نیا شوشہ چھوڑا گیا ہے کہ اراکین کو ” بلیو پاسپورٹس دئیے جائیں ، اب ستم یہ ہے کہ وہ بلیو پاسپورٹ اپنے بچوں،اپنی بیگم یا بیگمات کیلئے بھی مانگ رہے ہیں اور ”تاحیات....“ یہ تاحیات مراعات پہلے ہی اس ملک کی کمزور معیشت پر حرام کا بوجھ ہیں۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بلا کسی ہچکچاہٹ منظوری بھی دے دی ہے۔ مراعات کے خواہشمندوںکا کہنا ہے کہ نوکر شاہی کے اراکین کو بلیو پاسپورٹس کی آسائش ملتی ہے تو ہمارے اہل خانہ کو کیوں نہیں عوام دوستی تو یہ تھی کہ وہ آواز اٹھاتے کہ ملازمت کے بعد یہ مراعات واپس لے لی جائیں، فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کی کوششوں سے جس معیشت کو ملکوں ملکوں گھوم کر قرض لیکر بہتر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اپنے آپ کو عوام کی خدمت کے دعویدار اسکا ”پٹرا“ بٹھانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ گزشتہ دنوںتمام تر اختلاف کے بعد خیبر پخونخواہ وزیراعلیٰ کی جانب سے دی جانے والی مراعات کو گورنر نے فوری منظوری دے دی۔ جس پر تنقید کے بعد شائد اسے واپس لے لیا گیا ہے۔
پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ قومی معیشت ابھی تک قرضوں کے بوجھ سے پوری طرح آزاد نہیں ہو سکی، مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، بے روزگاری نوجوانوں کے خواب نگل رہی ہے، صنعتکار غیر یقینی حالات کا شکوہ کرتے ہیں، کسان اپنی محنت کا پورا معاوضہ نہیں پا رہا، تاجر ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ٹیکس چور ٹیکس نہیں دیتے ، جبکہ لاکھوں پاکستانی بہتر مستقبل کی تلاش میں وطن چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
ایسے میں اگرپارلیمینٹ کے ایوانوں سے یہ آواز بلند ہو کہ ارکانِ پارلیمنٹ کے اہلِ خانہ کو بھی ”بلیو پاسپورٹ“ دیا جائے تو یہ صرف ایک انتظامی تجویز نہیں رہتی بلکہ قوم کی ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ یہ سوال پوچھنا ہر شہری کا حق ہے کہ گزشتہ کئی برسوں میں پارلیمینٹ کی کامیابیاں کیا ہیں؟ کیا مہنگائی میں نمایاں کمی آئی؟ کیا بجلی سستی ہوئی؟ کیا نوجوانوں جو لاکھوں میں ہیں انہیں ملازمتیں ملیں؟ کیا سرکاری اداروں کی کارکردگی میں وہ انقلاب آیا جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟ کیا انصاف عام آدمی کی دہلیز تک پہنچا؟ اگر جواب عوام کی نظر میں تسلی بخش نہیں تو پھر یہ بھی جائز سوال ہے کہ ایوان کی توانائی کہاں صرف ہو رہی ہے؟سرکاری پاسپورٹ ریاستی ذمہ داری کی علامت ہوتا ہے، خاندان کا استحقاق نہیں۔ اگر کوئی منتخب نمائندہ سرکاری وفد کا حصہ ہے تو اس کے لیے متعلقہ سفری سہولتیں قابلِ فہم ہیں، مگر اس اصول کو اہلِ خانہ تک بڑھانے کا مطالبہ ایک ایسی بحث کو جنم دیتا ہے جس میں عوام اپنے آپ کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں۔ ریاستی وسائل کی بنیاد عوامی ضرورت ہونی چاہیے، نہ کہ عہدے سے وابستہ اضافی سہولت۔
ہوناتو عوام کے نام نہاد ہمدردوںکی یہ کوشش ہونی چاہئے تھی پاکستان کے ”سبز “پاسپورٹ کی عزت میں اضافہ ہو جو دنیا کے مقابلے بہت نچلے درجے پر ہے، بدقسمتی سے پاکستان کی سیاست میں ایک تاثر مسلسل مضبوط ہوا ہے کہ عوام کے مسائل پر اتفاق رائے مشکل ہوتا ہے لیکن جب مراعات، تنخواہوں یا سہولتوں کا معاملہ آئے تو سیاسی اختلافات کی شدت کم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ تاثر درست ہو یا نہ ہو، اس کا وجود ہی جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ جمہوریت اعتماد سے چلتی ہے اور اعتماد شفاف طرزِ عمل سے پیدا ہوتا ہے۔
اگر ایوان میں ایک ہی دن میں بے روزگار نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کے پروگرام، زرعی اصلاحات، برآمدات میں اضافے، صحت اور تعلیم کے معیار، مقامی صنعت کے فروغ اور ٹیکس نظام کی بہتری پر اسی جوش و جذبے سے بحث ہو جس جوش سے مراعات کے معاملات زیرِ غور آتے ہیں تو شاید پاکستان کی تصویر بدل سکتی ہے۔آج پاکستان کے لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم کے باوجود روزگار کے منتظر ہیں۔ چھوٹا تاجر کاروبار چلانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ کسان موسمی تبدیلی، مہنگی کھاد اور کم منافع سے پریشان ہے۔ ان تمام مسائل کے درمیان اگر پارلیمنٹ کے ایجنڈے میں عوام کو اپنی مشکلات کم اور مراعات کی خبریں زیادہ دکھائی دیں تو مایوسی پیدا ہونا فطری ہے۔پنجاب میں خوشحالی کے چرچے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب قیادت اپنے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے قربانی دیتی ہے۔ اقتدار کو ذاتی مفاد کا وسیلہ نہیں۔ اسی اصول پر چلنے والی قیادت ہی عوام کے دلوں میں جگہ بناتی ہے۔ جمہوریت کی خوبصورتی صرف ووٹ لینے میں نہیں بلکہ ووٹ کا حق ادا کرنے میں ہے۔ منتخب نمائندہ جب عوام کی آواز بن جائے تو ایوان مضبوط ہوتا ہے، اور جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کے مسائل ثانوی حیثیت اختیار کر گئے ہیں تو جمہوریت کمزور پڑنے لگتی ہے۔ پاکستان کے عوام کو پارلیمینٹ سے امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ عملی طور اقدامات کرے مہنگائی کم کرے، روزگار پیدا کرے، برآمدات بڑھائے، تعلیم و صحت کو بہتر بنائے اور نوجوانوں کو امید دے۔ یہی وہ ایجنڈا ہے جو پارلیمنٹ کو تاریخ میں عزت دلا سکتا ہے۔ باقی تمام مراعات وقتی سرخیاں تو بن سکتی ہیں، مگرقوموں کی تقدیر نہیں بدل سکتیں۔