Wed, September 16, 2026

پارلیمان سے صدر مملکت کا خطاب اور پی ٹی آئی کا رویہ 

پارلیمان سے صدر مملکت کا خطاب اور پی ٹی آئی کا رویہ 

پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے، ویسے تو جب 2001ءمیں امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کیا تو پاکستان کو اس جنگ میں کودنا پڑا۔ پاکستان کے پاس اس امریکی جنگ میں شریک ہونے کے علاوہ کوئی بھی دوسرا آپشن موجود ہی نہیں تھا کیونکہ نائن الیون کے بعد امریکہ نے اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا کہ یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں اور نہیں کی صورت میں نتائج بھگتنا ہوں گے گویا پوری دنیا کو واضح طور پر بتا دیا گیا کہ دہشت گردی کی عالمی جنگ میں امریکی حلیف بننے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہوگا پھر ہم نے دیکھا کہ ناٹو ممالک ہوں یا ایساف فورسز، درجنوں ممالک کی سپاہ امریکی پرچم تلے افغانستان پر حملہ آور ہوئیں۔ پاکستان کی زمین و فضا امریکی بوٹوں کی زد میں آ گئیں۔ کراچی کے ساحلوں سے لے کر طورخم بارڈر تک امریکی اسلحے و سامان رسد سے لدے ٹرالروں نے ہماری سڑکوں کا بیڑا غرق کیا۔ ہماری سرزمین پر امریکی اڈے قائم ہوئے جہاں سے لڑاکا طیارے اور ڈرون اڑتے اور افغانستان میں تباہی پھیلاتے۔ بلیک واٹر اور سی آئی اے کے ایجنٹوں نے بھی یہاں قدم جمائے۔ امریکہ بیس سال تک یہاں لڑتا رہا حتیٰ کہ 2021ءمیں ناکامی کا داغ لئے یہاں سے رخصت ہو گیا لیکن اس دوران یہ جنگ پاک افغان بارڈر سے پھیلتی پھیلتی، پاکستان کے بندوبستی علاقوں تک پہنچی اور پھر کراچی کے ساحلوں تک پھیل گئی۔ آج اس دہشت گردی کی وحشت پورے پاکستان میں پھیلی ہوئی ہے۔ ہمارے دو صوبے بالخصوص دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں جنہیں نہ صرف ہمارے ازلی دشمن انڈیا کی امداد حاصل ہے بلکہ کابل میں حکمران طالبان بھی ہمارے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں تمام دہشت گرد گروپ بشمول قوم پرست ریاست کی رٹ اور عملداری کو چیلنج کر رہے ہیں۔ چھوڑے گئے امریکی ہتھیاروں کی دستیابی نے ان کی حربی اور ضربی قوت میں اضافہ کر دیا ہے، وہ آگے بڑھ بڑھ کر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ بنوں میں دہشت گرد حملہ ہو یا مدرسہ حقانیہ میں خودکش حملہ، اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ پاکستانی معیشت سنبھل رہی ہے لیکن مشکلات کا شکار ہے۔ اس میں کھلے پن کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کا شکنجہ اور بھی سخت ہوتا نظر آ رہا ہے۔ بجٹ 2025ءنے عوام کی مشکلات میں کمی نہیں کی، ٹیکس جمع کرنے کے بلند ہدف نے عوام کی مشکلات بڑھائی ہیں۔ اس کے باوجود آٹھ مہینوں کے بعد 600ارب روپے کا شارٹ فال معاشی بدحالی کا ثبوت ہے ہم قرض واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ہم کبھی سعودی عرب سے کہتے ہیں کہ ہمیں ادھار پر تیل دے دو۔ ہم ادائیگی ابھی نہیں کر سکتے ہیں، کبھی یو اے ای کو کہتے ہیں کہ ہمارے خزانے میں پڑے ہوئے تمہارے پیسے ہماری لئے ضروری ہیں، انہیں واپس نہ نکالو بلکہ ابھی ایک سال کے لئے اور پڑے رہنے دو تاکہ ہم بدحالی کا مقابلہ کر سکیں۔ کبھی ہم چین کو کہتے ہیں کہ ہم ابھی اپنے ذمے قرض کی قسط ادا نہیں کر سکتے ہیں، اسے رول اوور کر دو۔ یہ سب کیا ہے، معاشی بدحالی نہیں تو اور کیا ہے۔ 
ہمارا ہمسایہ افغانستان ناصرف پاکستان پر حملہ آور دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کر رہا ہے بلکہ اس کے شہری جنہیں ہم نے ایک عرصے تک یہاں پناہ دے رکھی تھی ہمارے دشمنوں کے معاون بنے ہوئے ہیں۔ افغان، پاکستانیوں کو للکارتے ہیں، یہاں ہمارا کھاتے ہیں اور ہمیں ہی پاکستان میں بسنے والے گھورتے ہیں۔ ہمیں للکارتے ہیں۔ انہیں اپنے ملک میں تو شاید ایک وقت کی روٹی دستیاب تھی اور نہ ہو سکتی ہے یہاں وہ خوشحال زندگیاں گزار رہے ہیں۔ ان کے کاروبار ہیں، انہیں کمائی کرنے، کاروبار خریدنے، پھیلانے کی آزادی بھی ہے۔ اس کے باوجود وہ پاکستان کے باسیوں کے شکرگزار نہیں ہیں۔ عالمی سطح پر بھی وہ ہمارے دشمن بھارت کی کامیابیوں پر بھنگڑے ڈالتے ہیں، ہمارا منہ چڑاتے ہیں۔ ہم نے انہیں یہاں ایک عرصے سے پال رکھا تھا لیکن اب ان سے گلو خلاصی کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ ایسے نازک حالات میں ہمارے اپنے داخلی حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں۔ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ ایک سیاسی جماعت، ملک دشمنی ہی نہیں ریاست دشمنی پر اتر چکی ہے۔ انہیں پاکستان اور اس کے عوام کا نہیں بلکہ قیدی نمبر 804 کا مفاد عزیز ہے۔ صرف اس کی رہائی چاہتے ہیں۔ پاکستان کو بدنام کرنے، پاکستان کے خلاف کام کرنے کی آزادی چاہتے ہیں۔ وہ اس راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ملیامیٹ کرنا چاہتے ہیں۔ 
پارلیمان مقدس ترین ایوان مانا جاتا ہے۔ یہ عوام کی خواہشات اور ان کے نمائندگان کا مسکن ہی نہیں بلکہ ریاست پاکستان کی شان و شوکت کا امین ہے۔ اس کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت کے خطاب کے وقت پی ٹی آئی کے لوگوں نے جو ہلڑبازی کی جس طرح صدرمملکت کی توہین کی اس سے قوم کے سر شرم سے جھک گئے۔ یہ صدر مملکت وہ ہیں جنہوں نے الیکشن 2024ءکے انتخابی نتائج آنے کے بعد پی ٹی آئی کو حکومت سازی کے لئے آگے بڑھ کر تعاون کی پیشکش کی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ پی ٹی آئی نے اس پیشکش کو بڑی حقارت سے ٹھکرا دیا تھا۔ پی ٹی آئی ایک انتشاری ٹولہ ہے جس نے فکری و عملی طور پر پورے معاشرے میں گند ڈال دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا عام ورکر ہو یا کسی بھی سطح کا قائد، ان پڑھ جاہل اخروٹ ہو یا پڑھا لکھا۔ اس کا انداز فکر اور انداز گفتگو ایک ہی طرح کا ہوگا۔ گلی محلہ ہو یا جلسہ گاہ اور ٹی وی پروگرام، اندرون ملک ہو یا بیرون ممالک یہ لوگ فکری و عملی طور پر انتشار و افتراق پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ہمارے حکمران ابھی تک انہیں سیاسی جماعت سمجھتے ہوئے معاملات کر رہے ہیں لیکن یہ لوگ اپنی فکری و عملی انارکی کے ذریعے پاکستان کو ہر سطح پر نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں۔

ٹیگز: