قطر ، عمان ، سعودی عرب اور ترکیہ بھی ہیں لیکن در حقیقت پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی دن رات محنت اور حد درجہ کاوشوں کے بعد امریکہ اور ایران مذاکرات کی میز پر آئے اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے پر تیار ہو گئے ۔ پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ یہ کوئی معمولی ثالثی نہیں ہے بلکہ درجن سے زیادہ ممالک کو اتفاق رائے پر لانا پڑتا ہے جس میں سعودی عرب،متحدہ عرب امارات کا اپنا اور ایران کا اپنا جبکہ ترکیہ پھر امریکہ اور اسرائیل کا اپنا بیانیہ ہے اور دو بڑی طاقتیں چین اور روس کی اپنی الگ پالیسیاں ہیں ۔ پوری دنیا نے اس عمل خیر پر اطمینان کا اظہار کیا اور پاکستان کی انتھک محنتوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اب اگر کسی ایک فریق یا دونوں فریقوں کی غلطی سے جنگ دوبارہ شروع ہو گئی ہے تو اس میں سوشل میڈیا کا کوئی بقراط ہمیں بتائے گا کہ پاکستان کی کیا غلطی ہے ۔ اگر ایران کی بات کریں تو خدا کے بندوں پوری دنیا تمھیں فاتح مان رہی ہے بلکہ امریکہ کے اندر لوگ ٹرمپ کو شکست کے طعنے دے رہے ہیں تمھیں اربوں ڈالر مل رہے ہیں آبنائے ہرمز کھلنے سے پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ایران کے تیل کے ٹینکر بھی پوری دنیا میں جانا شروع ہو گئے تھے اور چند دنوں میں ایران نے دنیا کو کئی ارب ڈالر کا تیل بیچ ڈالا تھا اور پوری دنیا میں اور خاص طور پر پاکستان میں پیٹرول سستا ہونے سے عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا تھا اور مزید سستا ہونے کی امید بھی ہو گئی تھی اب اس قدر ثمرات اور پوری دنیا کے امن کے لئے اگر تین بحری جہاز آبنائے ہرمز میں غلط روٹ پرآ ہی گئے تھے تو ان سے صرف نظر بھی تو کیا جا سکتا تھا انہیں وارننگ یا ہوائی فائرنگ سے بھی ڈرایا جا سکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور امریکہ بھی شاید اسی انتظار میں ہوتا ہے کہ ایران کچھ کرے اور وہ اس پر میزائل ماری شروع کر دے ۔ ایران نے تو تین بحری جہازوں پر معمولی فائرنگ کی تھی لیکن اسی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان پر سیکڑوں میزائل فائر کیے جس سے درجنوں افراد شہید ہوئے لیکن اسرائیل کے ساتھ وہ سفاک رویہ اختیار نہیں کیا گیا جس کا اظہار ایران کے ساتھ کیا گیا۔
ایران نے کیا کیا اور اس کے جواب میں امریکہ کیا کر رہا ہے اور پھر ایران کیا کر رہا ہے یہ ایک الگ داستان ہے لیکن اس ساری صورتحال پر سوشل میڈیا پر نہیں بلکہ پاکستان کے قومی الیکٹرانک میڈیا پر کوئی عام بندہ نہیں بلکہ فارن سروس کے ریٹائرڈ اہل کار عجیب عجیب باتیں کرتے نظر آتے ہیں کہ جنھیں سن کر انسان سوچتا ہے کہ کیا انہیں اس جدید دور کی دنیا کا علم نہیں مثلاً ایک صاحب فرما رہے تھے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنائی کو منظر عام پر آ کر آیت اللہ خامنائی کے جنازے میں شرکت کرنی چاہئے تھی در حقیقت اس وقت یہ امریکہ اور اسرائیل کی شدید خواہش ہے کہ مجتبیٰ خامنائی منظر عام پر آئیں اور یہ کس قدر شدید خواہش ہے اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 90 فیصد امکان ہے کہ مجتبیٰ خامنائی اب اس دنیا میں نہیں ہیں اس بیان کا مقصد ماسوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ مجتبیٰ خامنائی اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینے کے لئے منظر عام پر آئیں لیکن ایران نے اپنی قیادت کی شہادتوں کے بعد شاید یہ سبق سیکھا ہے کہ احتیاط لازم ہے اس لئے کہ ہم پہلے بھی اپنی انہی تحریروں میں ایرانی انٹیلی جنس کی ناقص کارکردگی پر کافی کچھ کہہ چکے ہیں کہ انہیں برسوں سے اپنے درمیان رہنے والے اسرائیلی اور ہندوستانی ایجنٹوں کی خبر ہی نہیں ہوئی اس کے علاوہ افغان جنگ کے دوران امریکی اہلکار کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ وہ اپنے ڈرون سے زمین پر رینگنے والے کاکروچ کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں تو اگر ایک بار کوئی بھی بندہ سیٹلائٹ کے کیمرے کی آنکھ میں آ جاتا ہے تو پھر اس کی زد سے نکلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور پھر اسے کسی بھی وقت نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
کالم کے آخر میں کچھ چٹکلے ۔ اول اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد نے امریکہ کو آگاہ کیا ہے کہ ایران امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے ۔ اس خبر کو ہم نے لطیفہ اس لئے کہا کہ ٹرمپ بہادر ہر روز اپنے بیان میں اس بات کو فخریہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ایران کی پہلے اور دوسرے درجے کی قیادت کو ختم کر دیا ہے اور یہی بات اسرائیلی وزیر اعظم اور وزراءبھی کہتے لیکن ٹرمپ بہادر صاحب اور اسرائیلی جو کہتے ہیں وہ جنگی حکمت عملی ہے لیکن ایران اگر یہ کرے نہیں بلکہ صرف کہے تو وہ سازش ہے ۔ اندازہ کریں کہ ایک سپر پاور اور وہ بھی اس دنیا کی اکلوتی سپر پاور اور اس کا صدر جو دنیا کا طاقتور ترین انسان ہے وہ ہر روز ایک بیان داغ دیتا ہے کہ میں نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ تباہ کر دی اس کی ڈرون اور میزائل صلاحیت ختم کر دی لیکن امریکہ جب بھی ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایران کسی انتظار کے بغیر فوری طور پر عرب ممالک میں امریکن اڈوں پر میزائل فائر کر کے اس کا ترنت جواب دے دیتا ہے لیکن بقول ٹرمپ بہادر کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ ختم کر دی اور اس کی میزائل اور ڈرون صلاحیت تباہ کر دی ۔ ایران اور امریکہ دونوں کو مذاکرات کی میز پر ہی آنا ہے چاہے اب آ جائیں یا مزید تباہی کے بعد اور اس میں خدائے بزرگ برتر کی ذات نے چاہا تو سرخرو پاکستان ہی ہو گا ۔