Wed, September 16, 2026

ٹرمپ کا عراق میں امریکی تیل کمپنیوں کی سرمایہ کاری بڑھانے کا اعلان

ٹرمپ کا عراق میں امریکی تیل کمپنیوں کی سرمایہ کاری بڑھانے کا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کے ساتھ توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر تعاون اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کا اعلان کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر مجوزہ 20 فیصد چارجز ختم کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔

وائٹ ہاؤس میں عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور عراق کے درمیان متعدد اہم اقتصادی معاہدے طے پائیں گے، جن کا محور تیل اور توانائی کا شعبہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنیاں عراق میں تیل کی پیداوار بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کریں گی، جس سے نہ صرف عراق کے قدرتی وسائل سے بہتر استفادہ ممکن ہوگا بلکہ دونوں ممالک میں روزگار اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عراق دنیا کے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور باہمی معاہدے دونوں ملکوں کی معیشت کے لیے سودمند ثابت ہوں گے۔ ان کے مطابق عراق میں تیل کی پیداوار میں اضافہ امریکی کمپنیوں کے ذریعے کیا جائے گا، جس سے اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

امریکی صدر نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کی تجویز ختم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی جگہ اب تجارتی روابط اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ خلیجی ممالک امریکا میں سرمایہ کاری کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے رہنماؤں سے ہونے والے مثبت مذاکرات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا دوبارہ مضبوط ہو رہا ہے اور ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے فیصلے کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک کے رہنماؤں نے ان سے رابطہ کیا اور تجویز دی کہ آبنائے ہرمز پر فیس ادا کرنے کے بجائے امریکا میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جائے، جسے انہوں نے زیادہ مؤثر اور فائدہ مند قرار دیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز جیسے عالمی بحری راستے پر کسی بھی ملک کو فیس وصول کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے، اور وہ خود بھی اس آبی گزرگاہ کے استعمال پر محصولات عائد کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عراق کو مستقبل میں کسی بھی تعاون کی ضرورت پڑی تو امریکا اس کی مدد کے لیے تیار ہوگا، جبکہ ایران کو بھی پہلے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا موقع دیا گیا تھا۔

اس سے قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایرانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم دیگر ممالک کے تجارتی اور مال بردار جہاز معمول کے مطابق اس اہم سمندری راستے سے سفر جاری رکھ سکیں گے۔

بعد ازاں ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کی موجودگی سے قطع نظر آبنائے ہرمز کھلی رہے گی۔ ان کے مطابق امریکا خطے میں بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنائے گا اور عالمی تجارت کے اس اہم راستے کی سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام کارگو جہازوں پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کا مقصد بحری سلامتی کے اخراجات پورے کرنا اور عالمی تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانا بتایا گیا تھا، تاہم اب اس تجویز کو باضابطہ طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔

ٹیگز: