نوآبادیاتی نظام کے تحت انگلینڈ کے زیر تسلط چلنے والے ممالک میں بنگلہ دیش، پاکستان اور بھارت کے نظام ہائے حکومت و عدالت تقریباً ایک جیسے ہیں۔ سیاسی نظام اس لیے مضبوطی نہ پکڑ سکا کہ گورے نے جب برصغیر پر قبضہ کیا تو یہاں بادشاہت تھی، اب آزادی ملنے پر ظاہر ہے بادشاہت تو بحال نہیں ہونا تھی۔ گورے کا دیا گیا جمہوری نظام تھا، جمہوری نظام میں مسلمان ان حالات میں بھارت کے ساتھ رہتے تو محکوم رہتے۔ اگر آج آبادی کا تناسب دیکھیں تو بنگلہ دیش، پاکستان اور دیگر ممالک بھارت سمیت میں مسلمانوں کی تعداد اگر جمہوری یدھ میں ہوتی تو مقابلہ یا انتخاب ممکن ہے۔ بہرحال نظریات کا بالکل مختلف ہونا ایک ناقابل تردید حقیقت تھی جو دو قومی نظریہ کے اعتبار سے شہرت پا گئی۔ محض ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں دو قومی نظریہ ہی ہے، ایک مسلمان دوسرے غیر مسلم، اس میں ملحد بھی شامل کر لیں۔ بات لمبی ہو گئی۔ انگلینڈ کے زیر تسلط رہنے پر ہندوستان کو ایک لکھا ہوا قانون ملا، بہت ساری ایجادات نصیب ہوئیں۔ سب سے بڑھ کر فوج اور عدلیہ کا مربوط نظام ملا۔ مختصر یہ کہ فوج اور عدلیہ میں انگریز حکومت نے تعیناتیوں کے معاملے میں میرٹ پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ آزادی کے بعد فوج میں تو آج تک میرٹ ہے اور باقی تمام اداروں سے بہتر کارکردگی۔ عدلیہ کا بین الاقوامی تجزیات اور سروے میں کارکردگی کا نمبر قابل ذکر نہیں سمجھتا کیونکہ کچھ فخر کی بات نہیں۔ یہ یاد رہے کہ سیاسی مقدمات کے فیصلے ہدف تنقید رہے ہیں مگر دیگر مقدمات میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کا معیار کا قابل قدر و ستائش ہے۔ میرے ایک بنگلہ دیشی دوست امام حسین ایڈووکیٹ جو چند سال پہلے وہاں کی سپریم کورٹ کے ٹریژری سیکرٹری رہے ہیں، بتا رہے تھے کہ ڈھاکا ہائی کورٹ کا ایک جج بیوی سے جھگڑا کر کے رات ہائی کورٹ آ گیا، عملہ بلا لیا اور یوں جج صاحب کا مسکن ہائی کورٹ میں ان کی عدالت کا ایریا بن گیا۔ پھر وہاں چیف جسٹس نے اس کی بیوی کو سمجھایا اور یوں میاں بیوی قاضی القضاۃ کے کہنے پر راضی ہوئے۔ اب ان حالات سے دوچار ہائی کورٹ کا جج کیا فیصلہ کرے گا سوائے وکلا کے گلے پڑنے کے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی کسٹم، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس ٹریبونل ہیں، وہاں وہ ایک جوڈیشل ممبر کی بات سنا رہے تھے کہ کرپشن کے حوالے سے وہ اتنے مقبول ہیں اور سستا انصاف مہیا کرتے ہیں کہ 20 ہزار روپے بھی نہیں چھوڑتے۔ سنگھاڑ ایک قبیلے اور ذات کا نام ہے لوگ ان کو شکل کی مناسبت سے ممبر سنگھاڑا کہتے ہیں۔ موصوف شراب کے رسیا اور بڑے دبنگ کرپٹ ہیں۔میرا خیال ہے ایسے شخص کے احباب اور گھر والے بھی پیمنٹ کو ہی ترجیح دیں گے۔ ورنہ حلق میں حرام انڈیلتے ہوئے کچھ تو خیال آتا ہے کہ انصاف کی کرسی پر ہوں اور پھر انصاف بھی قومی خزانے پر۔ جس میں ٹریلین روپے کے مقدمات زیر التواء ہیں، میں نے کہا سر چھوڑیں آپ کیا اپنے ملک بنگلہ دیش کو لے کر بیٹھ گئے، پھر کبھی بات کریں گے۔ اب فون بند ہوا تو میں اپنے عدالتی خصوصاً کسٹم اور آئی آر ٹریبونل کے حوالے سے سوچنے لگ گیا۔ ہمارے ہاں سیکشن 194/3A کسٹم ایکٹ کے تحت چیئرمین کو اختیار حاصل تھا کہ وہ بنچ بنائے البتہ سنگل بنچ وفاقی حکومت کی دی گئی ہدایت کے مطابق ہوتا ہے لیکن 2023 کے فنانس ایکٹ میں یہ شق ختم کر دی گئی مگر چیئرمین جو کہ نہایت ایماندار آدمی ہیں، اب بھی 50 لاکھ ڈیوٹی اور ٹیکسز کے مقدمات میں سنگل بنچ بنائے چلے جا رہے ہیں۔ بعض ممبران جن میں زیادہ تر ممبر جوڈیشل ممبر کی ہے وہ ٹیمپرڈ گاڑیاں، سمگلڈ گاڑیاں، سمگلڈ اشیا چھوڑے جا رہے ہیں حتیٰ کہ اپریزمنٹ اور ایئرپورٹ پر جو مقدمات کسٹم والے دل تھام کر بناتے ہیں وہ بھی کسٹم ٹریبونل میں زیادہ تر مزاج کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ البتہ ایک اختیار ہے جس کو مرضی بلا لیں۔ بہرحال مزاج کے سامنے کون دیوار بن سکتا ہے۔ کوئی کسی وزیر کا بھرتی ہے، کوئی کسی بڑے دفتر لہٰذا کون بولے۔ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ اسلام آباد کے فیصلوں کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہائیکورٹ کا وقت ضائع نہ ہو جبکہ قومی خزانہ بھینٹ چڑھ گیا۔
جو وکلاء کنفرٹ لیول رکھتے ہیں ان کے پاس دلیل ہی ایک ہوتی ہے کہ کلکٹر کو بلائیں۔ جب سامنے ڈیپارٹمنٹ کا وکیل ہے تو کلکٹر کو بلانے کا کیا جواز ہے جو ہدایت دینا ہیں دیں۔ فنانس ایکٹ میں سیکشن 194/5میں کہا گیا کہ ایک کمیٹی ممبران کا جائزہ لے گی۔ ماشاء اللہ لوگ سومنات کا مندر سمجھ کر ٹریبونل کو ڈیل کرکے گھروں کو چلے گئے جائزہ لینے والی کمیٹی ہی نہیں بنی جس نے شہرت یا بدنامی کارکردگی یا واردات کی بناء پر ممبران کو برخاست کرنا تھا۔
غرضیکہ فیلڈ مارشل جناب سید عاصم منیر اور وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف کی سمگلنگ روکنے کی تمام کوششیں ایف بی آر میں غلط تعیناتیوں، بعض ممبران ٹریبونلز کے مزاج سے رائیگاں جا رہی ہیں۔ روس توڑنے والوں نے مشورہ صرف یہ دیا تھا کہ غیر متعلقہ اور غیر ہنرمند لوگوں کو اہم تعیناتیاں دے دیں لہٰذا روس گھٹنوں کو آ گیا۔ DOREہو یا کوئی اور سکیم اگر سب کی پڑتال ہوگی تو دن میں تارے دکھائی دیں گے۔ ایک کسٹم آفیسر کا طریقہ واردات ہے کہ وہ پہلے اپریزمنٹ اور ایگزامینیشن کو اپاہج کرتے ہیں جس طرح لاہور میں کیا اور سڑک چھاپ کرپٹ ڈالروں میں کروڑ پتی ہو گئے۔ اب یہ سلسلہ کراچی میں کسٹم کلیئرنس کو سنٹرل کرنے کی صورت میں چل نکلا ہے، بہت جلد ہوشربا انکشافات سامنے آئیں گے۔
ایف آئی اے لاہور نے صرف ایک آدمی کی تفتیش کی اس نے 3درجن سے زائد لوگوں کا انکشاف کر دیا جن کے بارے میں آگے کالم میں لکھا جائے گا اور تفصیلات ویلاگ میں دی جائیں گی۔ جناب فیلڈ مارشل اور وزیراعظم صاحبان آپ کی کوششیں رائیگاں نہیں جانا چاہئیں۔ تعیناتیوں پر نظرثانی کرلیں کسٹم روس بنتا جا رہا ہے اور مالیاتی امور ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی کے سفید ہاتھی بن چکے ہیں۔