کیلیفورنیا: یوٹیوب نے چند نئے فیچرز متعارف کرائے ہیں، جن سے والدین اپنے بچوں یا نوجوانوں کے لیے مواد کے حوالے سے مزید کنٹرول حاصل کر سکیں گے، تاکہ وہ عمر کے لحاظ سے مناسب ویڈیوز دیکھ سکیں۔
سب سے پہلا فیچر اسکرین ٹائم کی حد ہے، جو کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس پر والدین کے لیے دستیاب ہوگا۔ اس فیچر کے ذریعے والدین اپنے بچوں کے لیے شارٹس دیکھنے کا وقت متعین کر سکتے ہیں۔ والدین 60 منٹ تک کا وقت مختص کر سکتے ہیں، جس کے بعد بچوں کو مزید شارٹس دیکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مستقبل میں والدین کو یہ سہولت بھی ملے گی کہ وہ اس وقت کو زیرو پر سیٹ کر کے اپنے بچوں کو شارٹس سے بالکل دور رکھ سکیں۔ اس کے علاوہ، والدین کو سونے کا وقت یا بریک ریمائنڈرز جیسی اضافی خصوصیات بھی ملیں گی، تاکہ بچوں کی نیند اور صحت کو بہتر بنایا جا سکے۔
یوٹیوب کا کہنا ہے کہ یہ انڈسٹری کا پہلا فیچر ہے، جس میں والدین کو اپنے بچوں کے شارٹس مواد پر مکمل کنٹرول فراہم کیا گیا ہے۔
اسی دوران، یوٹیوب آسان اکاؤنٹ سوئچنگ کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کروا رہا ہے، جس سے وہ والدین جن کے پاس مشترکہ موبائل یا ٹیبلیٹس ہیں، اب بہت آسانی سے بچوں کے اکاؤنٹس کے درمیان سوئچ کر سکیں گے۔ کمپنی نے بتایا کہ آئندہ چند ہفتوں میں نیا سائن اپ فیچر بھی متعارف کرایا جائے گا، جس کے ذریعے والدین اپنے بچوں کے لیے آسانی سے اکاؤنٹس بنا سکیں گے اور بغیر کسی مشکلات کے ان کے درمیان سوئچ کر سکیں گے۔
اس کے علاوہ، یوٹیوب نے نئے گائیڈ لائنز اور اصول بھی جاری کیے ہیں تاکہ کری ایٹرز ایسے ویڈیوز بنائیں جو نوجوانوں کے لیے نہ صرف دلچسپ بلکہ عمر کے مطابق اور اعلیٰ معیار کے ہوں۔ یہ رہنما اصول عالمی ماہرین جیسے امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن اور بوسٹن چلڈرن ہسپتال کی ڈیجیٹل ویلنس لیب کے تعاون سے تیار کیے گئے ہیں۔
ان اصولوں کا مقصد نوجوانوں کے لیے تعلیمی اور مؤثر مواد کو ترجیح دینا ہے تاکہ وہ تفریح اور تعلیم میں بہتر توازن قائم کر سکیں۔