Wed, September 16, 2026

اپیسٹین فائلز کا پینڈورا باکس 

اپیسٹین فائلز کا پینڈورا باکس 

کیا آپ ایک میلینئل ہیں اور آپ کے دادا دادی حیات ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اول تو آپ خوش نصیب ہیں، اور بہت خاص ہیں، کیونکہ چنیدہ ہیں، تو خیر ان کے پاس جائیے اور ان سے پوچھیے کہ ان کا اپنی مہندی کے فنکشن میں ناچتی دولہن کے بارے میں کیا خیال ہے؟ پھر انہیں سمجھائیے کہ لیو ان ریلیشن کیا ہوتا ہے اور اس کے بعد ان سے ان کی رائے کی جانکاری لیجیے۔ مجھے آپ کے جواب کا انتظار کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے، مجھے علم ہے ان کے ردِ عمل کا۔ مجھے کیسے معلوم؟ کیا میرے دادا دادی حیات ہیں؟ نہیں مجھے تو ان کے ساتھ وقت بتانا نصیب ہی نہیں ہوا کبھی۔ بس ان کے رواج حالات و واقعات وضع قطع کے بارے میں اپنے تایا ابو سے بہت سن رکھا ہے۔ میں نے اپنی پچھلی سے پچھلی پیڑھی کے حالات و واقعات ان کی زبانی سنے، اکثر و بیشتر میں اور رضا ان کے پاس بیٹھ جایا کرتے ہیں، اب وہ باہر ہوتا ہے تو یہ فریضہ میں اکیلے سر انجام دیتی ہوں، بس کبھی ساتھ ساتھ پاو¿ں دباتے جانا، سردیاں ہوں تو مونگ پھلی کے دانے چھیل کر ان کے ہاتھ پہ دھرتے جانا یا مالٹے چھیل کر پھاڑیاں ان کو تھماتے جانا وہ اپنی امپورٹڈ میلبرون کے لمبے کش لگاتے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ قصے سناتے جاتے ہیں، تو میں نے ان کے ساتھ ان کا بچپن جیا ان کی جوانی، اکہتر کی جنگ، پنجاب نے پرانے میلے عرس رہتل بہتل، بجلی سے پہلے کا زمانہ سب ان کی زبانی دیکھ رکھا ہے۔ اس لیے مجھے معلوم ہے کہ آپ کے دادا ان سوالوں پہ آپ کو پہلے کس نظر سے دیکھیں گے اور پھر کن الفاظ میں تاسف کا اظہار کریں گے۔ خیر اب یہی دو سوال آپ اپنے کسی ہم عمر ہم جماعتی سے پوچھیں۔جواب مختلف ہے نا؟ بیچ میں نہ صرف دو پیڑھیاں ہیں بلکہ والٹ راستو کی ماڈرنائزیشن تھیوری کی چار سٹیجز بھی ہیں۔ اچھا خیر ذہن واپس اپنے گھر میں لائیے اور سوچیے اس کا ڈکٹیٹر کون ہے؟ شاید آپ کی والدہ، اب اگر آپ دو یا دو سے زائد بہن بھائی ہیں تو ذرا ایک لمحے کے لیے اس کو ذہن میں لائیے جو سب بچوں میں والدہ کے زیادہ قریب ہے۔ ایک غلطی آپ کریں تو کیا ردِ عمل آتا تھا اب وہی غلطی والدہ کا چہیتا/ چہیتی کرے تو کیا ردِ عمل آتا تھا؟ اور کیا طاقتور کا چہیتا بہت سی چیزوں سے مستشنی نہیں تھا؟ اب ذرا ذہن پاکستان لائیے اور سوچیے جو موجودہ آرمی چیف ہیں یہ اور آپ بچپن میں سکول میں ایک ہی بنچ پہ بیٹھتے تھے تو گویا آج چیف آپ کے دوست ہیں، کیسا محسوس ہو رہا ہے؟ جس ملک میں کسی کا ایک معمولی ایس ایچ او جاننے والا ہو وہ پروں پہ پانی نہیں پڑنے دیتا، سینا چوڑا کر کے پھرتا ہے، اس پہ ایف آئی آر نہیں ہوتی تو آپ کا تو چیف دوست ہے، آپ کے ششکوں کا کیا عالم ہوگا؟ اب اسی ذہن کو پوری دنیا میں گھمائیے، سات براعظموں کی اتنی بڑی دنیا کا ایک چوہدری ہے جسے ہم امریکہ کا صدر کہتے ہیں، مانا دنیا ملٹی پولارٹی کی طرف جا رہی ہے اور ورلڈ آرڈر شاید آنے والی کچھ دہائیوں میں پھر سے بدل جائے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 1989 سے یو ایس ایس آر کی ڈوما میں پاس ہونے والی گلاس ناسٹ اور پریس ٹرایئکا کے بعد سے جو دنیا یونی پولر ہوئی اور اس نے امریکہ کو بطور مائی باپ دیکھا وہ آج بھی قائم و دائم ہے۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہاں آپ مشہورِ زمانہ بلکہ بدنامِ زمانہ اپیسٹین فائلز کے بارے میں پڑھنے آئے تھے اور میں نے آپ کو کن باتوں میں الجھا لیا چلیں آتے ہیں اس طرف بھی آتے ہیں بس آپ نے وہ دو باتیں نہیں بھولنی جو میں نے شروع میں آپ سے کیںتو جفری ایپسٹین ایک ریاضی کا استاد تھا، جوڑ توڑ کر کے ترقی کی یا تنزلی کی منازل اس تیزی سے چڑھا کہ دنیا کا کم و بیش ہر رئیس اس کا رفیقِ خاص گنا جاتا ہے۔
خیر اس شخص کو پہلی مرتبہ 2006 میں گرفتار کیا گیا اور پھر 6 جولائی 2019 کو سیکس ٹریفیکنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا، اور کہتے ہیں کہ اس نے 10 اگست 2019 کو جیل میں ہی خود کشی کر لی۔ واللہ اعلم ۔
خیر 2019 میں اس کی گرفتاری کے بعد کچھ مواد شائع کیا گیا، پھر 2024 میں اور ابھی حالیہ 2026 میں امریکی ڈپارٹمنٹ آف جسٹس نے تین ملین سے زائد ڈاکومنٹس شائع کیے ہیں جس میں 2000 کے لگ بھگ ویڈیوز اور 180,000 تصاویر شامل ہیں، اس میں اپسٹین کی نامور افراد سے گفت و شنید بھی شامل ہے اور کئی بڑے نام جیسے سٹیفن ہاکنگ، بل گیٹس ، پرنس اینڈریو، ٹرمپ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں کسوی کا امارتی تاجرہ کے ہاتھوں اس شیطان کو دیا جانا،اور انسانی گوشت کھانے سے لیکر کم عمر بچوں پر تشدد کرنے تک کی بہت بہت داستانیں ہیں۔ شیطان کی پوجا، بچوں کی قربانی، پینڈیمک کی پلاننگ اور گھناو¿نے افعال کی ایک لمبی فہرست ہے۔ کچھ لوگ یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ وہ مرا نہیں تھا وہ روپوش ہوا۔ خیر وہ چاہے بھاڑ میں جائے آپ واپس میرے سوال پر آئیے، ایک ایس ایچ او آپ کا دوست ہے اور آپ دونوں نے بچپن میں شرارتیں اور کانڈ کیے ہیں، اگر آج ان کا خلاصہ کھلے تو باوردی ملازم بدنام ہوتے ہیں، تو کیا وہ کھلنے دیں گے؟ تو یہاں یہ شیطان ٹرمپ کا دوست رہا ہے، اور جو جو کچھ کھل کر سامنے آرہا ہے اس سے ٹرمپ کے کردار پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں، آخر کیسے؟ آج ایک دھڑا اس بات پہ بھنگڑے ڈال رہا ہے کہ ان فائلز میں عمران خان کا نام بھی ہے تو دوسرا صفائیاں دے رہا ہے کہ اسے خطرہ کہا گیا۔ کچھ ڈائریکٹ فائلز سے جا کر تفاصیل پڑھنے میں مگن ہیں تو کچھ ٹوہ میں لگے ہیں کہ کہیں سے کچھ سنسنی خیز مل جائے سہی۔ میں نے شروع میں آپ سے ایک گزارش کی تھی کہ جو چیز آج آپ کی پیڑھی کے لیے نارمل ہے اس پہ آپ کے دادا کو دل کا دورہ پڑنے کا خدشہ ہے۔مطلب ہم کہاں سے چلے؟ کہ رشتہ پکا ہونے پر دولہن کا چھپ جانا اور شرماتے پھرنا سے لے کر آدھا پیٹ نکال کر اپنی ہی مہندی پہ سہیولیوں کے ساتھ ناچنا۔۔۔۔ وقت کے ساتھ ہم بدل جاتے ہیں، ہماری اخلاقیات ہماری اقدار۔۔۔ پیڑھی در پیڑھی تغیر و تبدل دیکھتی ہیں، آج ان فائلز پہ آپ حیران ہیں پانچ دس سالوں میں آپ کی ایسی ذہن سازی کر لی جائے گی کہ آپ کو یہ سب بھی نارمل لگنے لگے گا، اور تب شاید یہ دنیا انسانوں کے رہنے قابل نہ رہے، تب شاید ظہورِ امام ہو جائے، کیونکہ قیامت تو بلاآخر آنی ہی آنی ہے۔ 
ذہن سازی کے علاوہ یہ فائلز اور ان کی تحقیق اور تجسس انسان کو بہت منفی طاقتوں کے چنگل میں پھنسا دیتا ہے۔ اگر آپ تاحال اس کی گہرائی میں نہیں اترے تو میری گزارش ہے کہ نہ اتریں، اترنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں تو ترک کر دیں، با وضو ہوں چہار قل تلاوت کریں اور ربِ کائنات سے تمام جنوں انسانوں اور شیطانوں کی پناہ مانگیں۔ دنیا میں ہر شے کا علم ہونا ضروری نہیں ہوتا، پردہ صرف اس تمبو نما چادر کا نام نہیں جس سے آپ عورتوں کو ڈھانپنا فرض سمجھتے ہیں، پردہ برائی اور غلاظت کے علم کا بھی ہے، اور پاکیزگی آپ کے ایمان کا حصہ ہے، آج آپ تجسس میں یہ شیطانی کرتوتیں دیکھیں گے کل یہ آپ کو وسوسے دیں گی، خدا پناہ کیا معلوم پرسوں آپ کے لیے یہ سب نارمل ہو جائے۔ 

ٹیگز: