Wed, September 16, 2026

بجلی کے بلوں میں "نیا فیصلہ"

بجلی کے بلوں میں

بجلی کے بلوں کو لے کر نیپرا نے ایک اور فیصلہ سنا دیا ہے اور حسب معمول اس فیصلے کا وزن ان کندھوں پر رکھا گیا ہے جو پہلے ہی جھکے ہوئے ہیں۔ اب 100 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارف کو بھی ماہانہ 200 روپے فکسڈ چارجز ادا کرنا ہوں گے۔ 200 یونٹ تک والے پروٹیکٹڈ صارف پر 300 روپے لازم ہوں گے۔ 100 یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارف پر 275 روپے اور 200 یونٹ تک والے نان پروٹیکٹڈ پر 300 روپے فکسڈ چارجز عائد کر دیے گئے ہیں۔ یہ وہ گھرانے ہیں جو گرمی میں پنکھا ناپ تول کر چلاتے ہیں۔ جو بچوں کو سمجھاتے ہیں کہ غیر ضروری بتی بند کر دو۔ جو بجلی کے بل آنے سے پہلے ہی اندازہ لگا لیتے ہیں کہ اس مہینے کس خرچ کو روکنا پڑے گا۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ کم استعمال بھی رعایت نہیں رہا۔ آپ جتنا بھی بچا لیں ایک رقم آپ کو بہرحال ادا کرنی ہو گی۔ فکسڈ چارجز کا مطلب سادہ ہے۔ چاہے آپ ایک بلب جلائیں یا پورا گھر روشن کریں ادائیگی لازمی ہے۔ یہ بجلی کی قیمت نہیں بلکہ یہ نظام کی لاگت ہے اور نظام ہمیشہ کمزور سے وصولی کرتا ہے۔ 
تحفظ کس سے ہے؟ مہنگائی سے تو نہیں،بل کے اضافے سے نہیں اور پالیسیوں کے اثر سے تو ہرگز نہیں۔ ایک تنخواہ دار آدمی مہینے کے آغاز میں بیٹھ کر حساب بناتا ہے۔ مکان کا کرایہ،بچوں کی فیس، راشن، دوائیاں،ٹرانسپورٹ اور اب ایک ایسی رقم جو استعمال سے آزاد ہے جو صرف اس لیے دینی ہے کہ آپ صارف ہیں۔ 300 یونٹ تک کا صارف امیر نہیں ہوتا۔ یہ وہی متوسط اور نچلا متوسط طبقہ ہے جو نہ سبسڈی کے قابل سمجھا جاتا ہے نہ مراعات کے۔ اس کے لیے 200 یا 300 روپے بھی معنی رکھتے ہیں۔ یہ کسی کے لیے دودھ کا خرچ ہے، کسی کے لیے گیس کا بل، کسی کے لیے بچے کی کاپی کتاب یا دوائی کے پیسے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا تصور صرف وصولی تک محدود ہو چکا ہے۔ برسوں سے گردشی قرضے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ لائن لاسز کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بجلی چوری کا ذکر کیا جاتا ہے۔ مہنگے معاہدوں اور پیداواری صلاحیت کی ادائیگیوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ مگر جب عملی قدم اٹھایا جاتا ہے تو اس کا سیدھا اثر گھریلو صارف پر آتا ہے۔ وہ صارف جو نہ پالیسی بناتا ہے نہ معاہدہ کرتا ہے نہ بجلی چوری کے بڑے نیٹ ورک چلاتا ہے۔ وہ صرف بل ادا کرتا ہے۔
فکسڈ چارجز کا فلسفہ یہ ہے کہ تقسیم کار کمپنیوں کے کچھ اخراجات مستقل ہوتے ہیں اس لیے صارف سے بھی مستقل رقم وصول کی جائے۔ یہ دلیل کاغذ پر درست معلوم ہو سکتی ہے مگر سماجی حقیقت کاغذ سے مختلف ہوتی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں بڑی آبادی محدود آمدنی پر گزارا کرتی ہو وہاں ہر مستقل چارج ایک مستقل دباو¿ میں بدل جاتا ہے۔ جب آمدنی فکسڈ نہ ہو مگر اخراجات فکسڈ کر دیے جائیں تو توازن ٹوٹ جاتا ہے۔ اس توازن کے ٹوٹنے کا اثر صرف بجٹ پر نہیں پڑتا بلکہ ذہنوں پر پڑتا ہے۔ہر حکومت آتی ہے اور کہتی ہے حالات مشکل ہیں، ہمیں گردشی قرضہ ختم کرنا ہے۔ ہر حکومت مالیاتی دباو¿ کا حوالہ دیتی ہے لیکن کبھی یہ سوال نہیں اٹھاتی کہ بوجھ ہمیشہ ایک ہی طبقے پر کیوں گرتا ہے۔ کیا بجلی کے شعبے کی تمام خرابیوں کا حل یہی ہے کہ کم استعمال کرنے والے پر بھی مستقل فیس لگا دی جائے۔ کیا اصلاحات کا مطلب صرف صارف سے وصولی ہے۔ کیا ریاست کی ذمہ داری صرف بلوں کی وصولی تک محدود ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ 300 یونٹ تک کے بیشتر صارفین وہ ہیں جو شدید گرمی میں بھی ایئر کنڈیشنر نہیں چلاتے یا بہت محدود استعمال کرتے ہیں۔ ان گھروں میں بزرگ ہوتے ہیں جو گرمی برداشت کرتے ہیں تاکہ بل قابو میں رہے۔ وہ مائیں ہوتی ہیں جو کپڑے ہاتھ سے دھو لیتی ہیں تاکہ مشین کم چلے۔ وہ طلبہ ہوتے ہیں جو لوڈشیڈنگ میں بھی موبائل کی روشنی میں پڑھ لیتے ہیں۔ ان سب کو اب بتایا جا رہا ہے کہ بچت کی کوشش اپنی جگہ مگر فیس اپنی جگہ۔مسئلہ رقم کا نہیں مسئلہ ترجیح کا ہے۔ جب پالیسی سازی میں سب سے پہلے کمزور کی جیب دیکھی جائے تو وہاں انصاف کا دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے۔ اگر واقعی اصلاحات مقصود ہیں تو سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ لائن لاسز کم کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے۔ بجلی چوری کے بڑے نیٹ ورکس کے خلاف کتنی مو¿ثر کارروائی ہوئی۔ تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کیا اصلاحات کی گئی ہیں۔ جب ان سوالوں کے جواب واضح نہ ہوں تو فکسڈ چارجز محض آسان راستہ معلوم ہوتے ہیں۔
یہ فیصلہ بجلی کے بلوں کا نہیں بلکہ ایک رویے کا اعلان ہے۔ یہ پیغام ہے کہ کم استعمال کرنے والا بھی محفوظ نہیں کہ تحفظ کا لفظ محض درجہ بندی ہے سہولت نہیں۔ ریاست کی طاقت اس کی وصولی میں نہیں اس کے توازن میں ہوتی ہے۔ اگر بوجھ برابر تقسیم نہ ہو تو اعتماد ٹوٹتا ہے اور جب اعتماد ٹوٹ جائے تو شہری صرف ادائیگی کرتا ہے وابستگی نہیں رکھتا۔ وہ نظام کا حصہ تو رہتا ہے مگر دل سے اس کے ساتھ نہیں رہتا۔معاشی پالیسیوں میں سب سے اہم عنصر اعتماد ہوتا ہے۔ جب شہری کو یہ یقین ہو کہ مشکل وقت میں ریاست اس کا سہارا بنے گی تو وہ بوجھ بھی برداشت کر لیتا ہے۔ مگر جب اسے محسوس ہو کہ ہر نیا فیصلہ اس کی جیب تک پہنچ کر رکتا ہے تو وہ سوال کرنے لگتا ہے۔ یہ سوال بغاوت نہیں ہوتا بلکہ یہ سوال بقا کا ہوتا ہے۔ حکومت کوئی بھی ہو اگر پالیسی کا پہلا اثر کمزور پر پڑے تو اسے عوام دوست کہنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ٹیگز: