ہم مٹے نہیں ،ٹوٹے نہیں، رکے نہیں اور اسی سال کا سفر طے کرچکے ۔اونچ نیچ دیکھ چکے ۔سرد گرم چکھ چکے ۔دنیا میں بہت سے ممالک سے بہترلیکن پھر بھی شاکی ۔پاکستان کا قیام طویل سیاسی، نظریاتی اور جمہوری جدوجہد کا نتیجہ ۔ محض ایک جغرافیائی خطے کے حصول کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی آزاد ریاست کے قیام کی جدوجہد کاثمر، جہاںہم اپنی مذہبی، تہذیبی، معاشرتی اور سیاسی شناخت کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔ اس تاریخی کامیابی کے پیچھے قائداعظم محمد علی جناح کی مدبرانہ قیادت، علامہ محمد اقبال کی فکری رہنمائی اور برصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی جدوجہد شامل ۔سب جانتے ہیں کہ برصغیر میں مسلمانوں اور ہندو¶ں کے مذہب، تہذیب، معاشرت اور سیاسی مفادات میں نمایاں فرق تھا۔ مسلمانوں میںیہ احساس بڑھتا گیا کہ متحدہ ہندوستان میں ایک مستقل اقلیت کی حیثیت سے ان کے سیاسی اور تہذیبی حقوق محفوظ نہیں رہیں گے۔ اور آج اگر میں ہندوستان کو دیکھوں تو قائداعظم کی سیاسی بصیرت کو سلام باردیگر پیش کرنے کو دل کرتا ہے۔
پاکستان کو آزادی کے فوراً بعد شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ ملک کے پاس محدود مالی وسائل، کمزور صنعتی ڈھانچہ اور کم انتظامی وسائل۔ لاکھوں مہاجرین ہندوستان سے پاکستان آئے جن کی آبادکاری ایک بہت بڑا انسانی اور انتظامی چیلنج تھی۔اس کے باوجود پاکستانی قوم نے ہمت نہیں ہاری۔ محدود وسائل کے باوجود ریاستی ادارے قائم کیے گئے، معیشت کو منظم کیا گیا، دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا گیا اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شروع ہوئی۔آزادی کے بعد پاکستان نے کئی شعبوں میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کیں۔ زرعی میدان میں آبپاشی کے بڑے منصوبے قائم ہوئے، صنعتی شعبے میں ترقی ہوئی اور ملک میں سڑکوں، بندرگاہوں، بجلی اور مواصلات کا بنیادی ڈھانچہ پھیلایاگیا۔
پاکستان نے دفاعی میدان میں بھی نمایاں پیش رفت کی۔ 1998ءمیں ایٹمی تجربات کے بعد پاکستان ایک اعلان شدہ ایٹمی طاقت بن گیا، جس نے خطے میں اس کی دفاعی اور تزویراتی حیثیت کو نمایاں طور پر تبدیل کیا۔آج دفاعی میدان میں پاکستان دنیاکے بہت سے ممالک سے بہت آگے ۔ ایک وقت تھا جب ہمارے دفاع کا انحصار امریکی ایف سولہ پر تھا لیکن اب وقت یہ بھی ہے کہ ہم جے ایف سیونٹین تھنڈر طیارے خودبنارہے ہیں ۔ نہ صرف بنارہے ہیں بلکہ ایکسپورٹ بھی کررہے ہیں ۔پاکستان کا میزائل پروگرام جدیدترین ۔چین اور ترکی کے تعاون سے دفاعی صنعت اوج ثریاپر ۔دنیا کے بڑے بڑے ممالک یہاں تک پہنچنے کے خواہشمند لیکن کامیابی پاکستان کے حصے میں ۔ہم پھر بھی شاکی ؟
مئی 2025ءکا پاک بھارت فوجیمعرکہ ایک اہم واقعہ تھا، جسے ''معرکہ حق'' کا نام دیاگیا۔ پاکستان نے اس معرکے میں تاریخی کامیابی حاصل کی ۔ اپنے سے دس گنا بڑی فوج کو شکست دی۔ہندووستان کا غرورخاک میں ملایا،اس کا وہم نکال باہر کیا۔مودی رحم کی بھیک مانگنے پرمجبور ہوا۔اس شکست کے بعد سے اب تک ہندوستان دنیا میں تنہا ۔اکیلا بے بس ۔وہ ہندوستان جس کو اپنی سفارتی قوت پرناز تھا وہ ہندوستان جو پاکستان کو تنہاکرنے کے مشن پر نکلا تھا وہ ہندوستان آج خود دنیا میں تنہا اور کریڈٹ پاکستان کو۔ہم پھر بھی شاکی؟
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ میں کئی اہم سفارتی کامیابیاں بھی موجود ۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں مسلسل کردار ادا کیا اور عالمی امن کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ابھی کل ہی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے پاکستان کے فوجی افسر میجر جنرل جواد احمد کو امن مشن کا کمانڈر مقرر کیا ہے ۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری نے پاکستان اور چین کے معاشی تعلقات کو ایک نئی جہت دی۔ چین پاکستا ن کالوہے توڑ دوست ۔ہر طرح کی صورتحال میں ساتھ۔ہندوستان کے ساتھ جنگ میں مکمل رہنمائی اور اس کے بعد جے 35طیارے بھی پاکستان کو دینے کے لیے تیار۔ پاکستان ،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ مکہ ۔اس معاہدے میں کویت ،مصراور دوسرے اسلامی ممالک آنے کو تیار ۔پاکستان امت مُسلمہ کا مسلمہ قائد۔نیٹو ممالک کی طرز پر مسلم دنیا کا دفاعی اتحاد اور پاکستان اس کا قائد ،سوچ کردیکھیں ۔کیا سینہ چوڑا نہیں ہوتا؟ یہ سب کچھ قابل فخر لیکن ہم پھربھی شاکی ؟
یہ حقیقت کہ آج پاکستان کو کامیابیوں کے ساتھ ساتھ کئی سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج معاشی استحکام ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، قرضوں کا بوجھ، توانائی کے مسائل اور کمزور برآمدات ملکی معیشت پر دبا¶ ڈالتے ہیں۔تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ملک کی نوجوان آبادی پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ بن سکتی ہے، لیکن اس کے لیے معیاری تعلیم، فنی تربیت، روزگار اور تحقیق کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہیں۔مسائل ہیں لیکن ایسا نہیں کہ ہم صرف شکوے کرتے رہیں، شکایات کرتے رہیں وہ وقت جو اپنے آپ کو تعمیر کرنے میں صرف ہوسکتا ہے وہ وقت بھی شکوے شکایات کرنے میں گزاردیں ۔سب کچھ تباہ وبرباد ہے ۔والا ورد ہی زندگی کا مقصد اور مشن بنالیں ۔
یہ کالم نہیں دل کی کچھ باتیں ہیں ۔مسائل میں بھی وسائل کے اندر رہنا آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرتا ہے ہمیں وہ راستہ تلاش کرتے رہنا ہے ۔اسی سال کی تاریخ میں سب کچھ خراب نہیں ہے بہت کچھ اچھا بھی ہے حقیقت میں خراب کم اور اچھا زیادہ ہے ۔اپنی بات کا اختتام چیئرمین ایف بی آرراشد محمود لنگڑیا کے حالیہ کالم کے ایک اقتباس سے کروں گا ،انہوں نے لکھا کہ ©”جو قوم اتنے بڑے طوفان میں کشتی نہ ڈوبنے دے، اُس کے ملاحوں میں وہ ہنر ضرور ہو گا جو ساحل تک لے جائے بشرطیکہ وہ ماتم کی رِیت چھوڑ کر چپو تھام لیں۔سو پختہ قومی رویّہ نہ بے جا ماتم ہے، نہ کھوکھلی خودفریبی بلکہ ایک تشکر بھرا عزم: شکر اُس بقا پر جس کی کوئی ضمانت نہ تھی، عزم اُس تعمیر کا جس کیلئے یہ بقا حاصل کی گئی۔ اناسی برس پہلے تین دلیلیں آمنے سامنے تھیں۔ایک درست ثابت ہوئی۔ آج کا پاکستانی اس مشکل فیصلے کا وارث ہے جو ہمارے بزرگوں نے اپنے ووٹ سے لکھا تھا ہم وجود کی جنگ جیت چکے، اب تعمیر کی گھڑی ہے۔ اور جو قوم ایک بار مٹنے سے انکار کر چکی ہو، اُس کے لیے تعمیر سے انکار کیونکر ممکن ہے۔
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا