Wed, September 16, 2026

 معرکہ حق کا اعتراف حق

 معرکہ حق کا اعتراف حق


وطن عزیز کے اٹھہتر سال کی آزادی کا جشن معرکہ حق کی فتح کی سرشاری نے دوبالا کر دیا ہے۔ حصول آزادی سے تحفظ آزادی کے سفر میں قوم زخم کھاتی، کامیابیاں اور کامرانیاں سمیٹتی اس منزل تک آن پہنچی ہے لیکن الحمدللہ ، قومی وجود پر زخم لگنے کے باوجود اس کی قوت مضمحل نہیں ہوئی بلکہ اس کے عزم و ارادے کی حرارت اور توانائی مزید بڑھی ہے۔ یوم آزادی کے رنگ معرکہ حق میں اپنے اپنے شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی شخصیات کو اعزازات کی تفویض سے مزید نکھر گئے۔ شیرِ پاکستان فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، پاکستان کی فضاو¿ں کے محافظ ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو، پاکستان کے پانیوں میں وطن کی حفاظت یقینی بنانے والے ایڈمرل نوید اشرف سمیت افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں، شہدائے پاکستان، سول سروس کے افسران اور صحافتی شخصیات کے علاوہ دلیر شہریوں کو اعزازات عطا کیے گئے۔ تقریب کا سب سے خوبصورت پہلو وہ منظر تھا جب شہیدوں کے والدین، اہل خانہ اور معرکہ حق میں زخمی ہونے والے جوانوں کی آمد پر فیلڈ مارشل سمیت عسکری قیادت اور تمام حاضرین محفل نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر احترام اور عقیدت کا اظہار کیا۔ اس منظر سے کئی حاضرین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وطن کے لیے اس سے بڑی قربانی نہیں ہو سکتی جس کا اعزاز و اکرام اور انعام تو بس اللہ کریم ہی عطا فرما سکتے ہیں۔ 
تقریب کا دوسرا خوبصورت پہلو یہ تھا کہ پاکستان کے دفاع، سلامتی اور عزت و وقار کے لیے ہر محاذ پر خدمات انجام دینے والوں کی پذیرائی ہوئی۔ یہ پوری قوم کی وحدت اور وطن کے لیے ایک ہو کر لڑنے کا پیغام تھا۔ یہی وہ جذبہ ہے جو پاکستان کی ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ شکووں، گلوں اور محرومیوں کی بات ہو سکتی ہے لیکن کچھ مرحلے ایسے ہوتے ہیں جن میں اِن سب کو بھلا کر ایک بڑے مقصد کے لیے ایک ہونا ہی دانشمندی اور قومی بقا کے اعلیٰ نصب العین کی تکمیل کا تقاضا ہوتا ہے۔ اعزازات کی تقاریب تو کوئی نئی بات نہیں، یہ ہر سال کی روایت ہے لیکن معرکہ حق کی نسبت نے اسے خاص بنا دیا جس میں کئی خاص پہلو اور بھی تھے جن میں ایسے افراد بھی شامل تھے جنہیں سچ میں کہا جائے تو گم نام ہیروز کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ ایسا ہی ایک نام عزیزم ارشد محمود ملک کا بھی تھا۔ رحمت خدا وندی کا جانے کون سا جلوہ تھا جو ایک سوٹڈ بوٹڈ اور سجے سنورے جوان ارشد ملک کو فقر و گوشہ نشینی کی زندگی کی طرف لے گیا۔ بقول استاد گرامی عرفان صدیقی، ارشد ملک درویش ہے۔ پرانے دوست ہونے اور ارشد ملک کو قریب سے جاننے کی وجہ سے میں یہ نہیں کہوں گا کہ یہ وزیراعظم شہباز شریف صاحب کی ذاتی سرپرستی اور ایک جوان رعنا با صلاحیت لکھاری کی عزت افزائی ہے بلکہ میں یاروں کے یار جاوید شہزاد مرحوم کو یاد کرتے ہوئے بس یہ گواہی دوں گا کہ ارشد ملک تمہیں ماں جی کی دعا لگ گئی ہے جن کی محبت آج بھی آنسو بن کر تمہاری آنکھوں سے رواں ہو جاتی ہے۔ آج ماں جی حیات ہوتیں تو جناب صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہاتھوں تمہارے سینے پر سجنے والے اعزاز پر بہت خوش ہوتیں اور ان کی تمام عمر کی محنت کی تھکن اتر جاتی۔ ارشد ملک کو جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ اپنے لیے کچھ نہ کرنے پر ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنتا ہے لیکن شکر ہے کسی نے تو اس کی گوشہ نشینی میں انقلاب برپا کر دینے والی صفت کا اعتراف کیا۔ تحریک انصاف کو تحریک میں بدلنے والے دو مخلص کردار اکبر ایس بابر اور ارشد ملک ہیں لیکن دونوں کا مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ہی کریڈٹ لینے اور خودنمائی سے سیکڑوں کوس دور رہتے ہیں۔ دوسروں کو آگے کر کے خود پیچھے ہو جاتے ہیں۔ ارشد ملک نے تو نہایت روشن صحافتی کیرئیر اور ایک بڑے چینل میں آفر بھی نظریے کی لگن میں قربان کر دی تھی لیکن اللہ تعالیٰ کسی کی محنت رائیگاں نہیں فرماتا۔ جناب عطااللہ تارڑ جواں سال ہی نہیں جواں ہمت بھی ہیں جنہوں نے جس دلیری سے پی ٹی آئی کے دورِ انتقام کا سامنا کیا تھا اور وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ عدالتوں اور انتقام گاہوں میں پروانہ وار موجود رہتے تھے، اسی دبدبے، تنتنے اور ہمہمے سے بھارت کو ابلاغی محاذ پر ناک آو¿ٹ کر دیا۔ محترمہ عنبرین جان قابل فخر ہیں۔ وہ 1965ءکی جنگ میں وطن عزیز پر قربان ہونے والے والد میجر عارف جان شہید کی بیٹی ہیں۔ حلیم طبعیت اور پیشہ ورانہ قابلیت ان کی پہنچان ہے۔ ہمیشہ دلنشیں مسکراہٹ کے ساتھ دوستوں کو سینے سے لگا لینے والے مبشر حسن اگرچہ پرنسپل انفارمیشن افسر کی نہایت دو دھاری تلوار پر چلنے والی نوکری پر مامور ہیں لیکن ان کی زندہ دل شخصیت ایسی طلسم ہوشربا ہے جس میں جانے والا پھر اس سے نکل نہیں پاتا۔ کبھی راضی نہ ہونے کی پہچان رکھنے والے میڈیا کو راضی رکھنا وہ جانتے ہیں۔ کسی کو ناراض نہیں ہونے دیتے۔ یہ خداداد صلاحیت اپنی جگہ لیکن معرکہ حق میں انہوں نے خاموشی سے جو کردار ادا کیا ہے، انہیں ملنے والا تمغہ اصل میں اس کی عوامی سطح پر اعتراف کی شہادت ہے۔ جناب مجیب الرحمن شامی، حامد میر، جاوید چوہدری، سلیم صافی سمیت دیگر صحافی دوستوں کو بھی اعزازات سے نوازا گیا جو پوری صحافتی برادری کے لیے اعزاز ہے۔ میری ان تمام دوستوں سے گزارش ہو گی کہ کسی کی عزت افزائی پر خوش ہونا سیکھیں جو کیڑا کاری کی چھابڑیاں لگا کر سبزی فروش کی طرح حسد کی سودا فروشی میں مبتلا ہیں۔ اعزاز محض ایک اعتراف ہوتا ہے۔ اصل بات خوشیاں بانٹنا اور ایک دوسرے کی قدر افزائی کرنا ہے جس میں ہم بخیل ہوتے جا رہے ہیں۔ ارشد ملک کو اعزاز سے نوازا گیا تو کامران شاہد کے پروگرام میں ایک چرب زبان کی حاسدانہ طعنہ زنی پر افسوس ہوا۔ رنج ہوتا ہے جب صحافت میں ساری زندگی ساکھ، دیانت اور پیشہ ورانہ عزت کمانے والوں کو آج کے دیہاڑی دار ”بازاری تجزیہ نگاری“ کی ناوک میں دشنام کے تیر رکھ کر نشانہ بناتے ہیں۔ مصطفی خاں شیفتہ کی زباں میں ’دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ۔۔۔‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا تھا کہ بے عیب انسان مت ڈھونڈو ورنہ اکیلے رہ جاو¿ گے۔ ہم خامیوں خوبیوں کا مجموعہ ہیں۔ گندگی ڈھونڈ کر اس پر بیٹھنے والی مکھی بننے کے بجائے، شہد کی مکھی بننا زیادہ درست رویہ ہے جو ہر پھول پر بیٹھتی اور اس سے شہد بناتی ہے۔ محبت سے بڑی کوئی طاقت نہیں، احترام اور اخلاق سے بڑھ کر کوئی اور قرینہ نہیں ہو سکتا جس سے خدا بھی خوش ہوتا ہے، جو نبی اکرم کی سنت پاک ہے اور جس سے دِل قریب آتے ہیں۔ پھر ایک دوسرے کے بارے میں جانے بغیر ہی طنز اور تنقید کی یلغار کر دینا ایسا ہی ہے جیسے پہلگام کے جھوٹ کی بنیاد پر پاکستان پر بھارت کی حملے کی حماقت۔ اِن دونوں رویوں کا انجام ہزیمت اور رسوائی پر ہوتا ہے۔ ایسے کرداروں کے خلاف رب کریم معرکہ حق کرتا ہے۔

ٹیگز: