کہا جاتا ہے کہ جو جتنا طاقتور ہوتا ہے غلطی بھی اتنی ہی بڑی کرتا ہے یہ مثال امریکی صدر نے ایران پر جارحیت کرکے سچ ثابت کردی جسے فتح کرنے کےلئے تین سے چار دن کا اندازہ لگا یا گیا تھا لیکن 39 دن بعد بھی حاصل کچھ نہ ہوا اور لینے کے دینے پڑ گئے اس دوران بڑے لچھے دار نشیب وفراز دیکھنے کو ملے اسرائیل کے آئرن ڈوم سمیت امریکہ کا سپر پاور کا ”ہوا “بھی مٹی میں مل گیا اور ساتھ ہی ساتھ نیٹوبھی ساتھ چھوڑ گیا بغل بچہ برطانیہ بھی اب تک ساتھ چلنے سے انکاری ہے ،حواس باختہ ڈونلڈ ٹرمپ سوتے جاگتے ایران کو تباہ کرنے کے خواب دیکھنے لگاایران تباہ ہوانہ رجیم چینج ہوئی خلیجی ممالک بھی پیچھے ہٹ گئے انہیں بھی ”سرت“آگئی کہ جس امریکی فوج کواپنی حفاظت کےلئے رکھا گیا تھا وہ تو اپنا بچاﺅ بھی نہیں کر سکی اور خلیج سے بھاگ نکلی اب ٹرمپ صرف دھمکیوں سے کام چلانے لگا اس پر بھی ا یران جھکا نہ ہی ایرانی قوم،خود ہی تباہ کن حملے کا الٹی میٹم دےکرٹرمپ پیچھے ہٹ گیااس دوران جنگ بندی کی کوششیں تیز ہو گئیں اور دونوں ممالک نے اسلام آباد پر اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے میز پر بیٹھنے کی حامی بھر لی اورمیزبانی کا شرف پاکستان کے ذمہ آیا جسے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی کوششوں سے پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا اسلام آباد میں ہونے وا لی دو طاقتوں کی بیٹھک نے دنیا بھرکی توجہ حاصل کر لی اکیس گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک تونہ پہنچ سکے لیکن جو امیج بھارتی کی مکاری کی وجہ سے باربار گرائے جانے کی کوشش کی گئی وہ امیج دنیا میں مزید ابھر کر سامنے آیا کیونکہ وزیر اعظم شہباز شریف کی اپیل پر دوہفتوں کی جنگ بندی پر ٹرمپ نے ہاں کردی اس طرح خطہ ایک تباہ کن جنگ سے بچ گیاامریکی نائب صدر جے ڈی وینس جو آئندہ امریکی صدرکے امیدوار بھی ہیں نے دوران مذاکرات بڑے دھیمے لہجے میں بات کی میڈیا کے سوال
وجواب میں بھی انہوں نے کہا کہ مذاکرات کو میڈیا میں نہیں لائیں گے اسی طرح ایرانی وفد نے بھی ہرقدم پھونک پھونک کر رکھاتاہم مذاکرات کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی اب مذاکرات کے دوسرے دور کی باز گشت سنائی دی جا رہی ہے خلیجی ممالک بھی کوششوں میں ہیں کہ کسی طرح خطہ تباہی سے بچ جائے امریکہ نے ہرمزکی ناکہ بندی کرکے ایران پر حملہ میں ملنے والی ہزیمت کو مٹانے کی ناکام کوشش کی ہے جبکہ دنیا کو پتہ حل گیا ہے کہ امریکہ کتنے پانی میں ہے ٹرمپ نے ہرمز کی ناکہ بندی کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ جو بھی جہاز آئے اسے تباہ کر دیا جائے چین کے جہاز گزر گئے پھر انہیں نشانہ کیوں نہیں بنایا گیا کیونکہ چین کے ردعمل کے ڈر سے امریکہ نے کوئی کارروائی نہیں کی دوسری طرف اسرائیل نے ایران پر حملہ کی صورت میں خلیجی ممالک کو ایران سے لڑانے کی ایک سازش کی تھی جو سعودیہ ،قطر کے بڑے پن کی وجہ سے ناکام ہو گئی امریکہ ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہے کہ ایران ایٹم بم نہیں بنا سکتا دوسری طرف اسرائیل نے ایٹم بم بنا لیا ہے یہی دوہرا معیار ہے جو امریکہ کو لے ڈوبے گاایران کے ہاتھوں ٹرمپ کو جتنی مار پڑ چکی ہے اس پر برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنا چاہئے تھی دی اکانومسٹ کے مطابق ہر جنگ میں کم ازکم کسی ایک کی شکست ہوتی ہے، اگر ایران میں جاری جنگ میں سیز فائر سے جنگ کاخاتمہ ہوا تو سب سے بڑی شکست کھانے والے امریکی صدر ٹرمپ ہوں گے دوسرے دور کے مذاکرات کےلئے کوششیں خطے کو مزید تباہی سے بچا سکتی ہیں کیونکہ جنگ جوہری خطرے کو بڑھا سکتی ہے، اگرچہ ایران کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، لیکن اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم اب بھی موجود ہے، جو کئی بم بنانے کے لیے کافی ہے، دی اکانومسٹ کے مطابق امریکا میں بھی اسرائیل کے بارے میں رائے منفی ہوتی جا رہی ہے جس سے اس کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے ، ایران نے محدود وسائل کے ساتھ غیر متوازن جنگ لڑی، بغیر حکمت عملی کے طاقت کے استعمال نے امریکا کی طاقت کو کمزور کیا اس کمزوری کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمرنے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل ہونے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ تنازع کا سفارت کاری سے فوری اور پائیدار حل نکالنا ضروری ہے،فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور بلا رکاوٹ جہاز رانی ناگزیر ہے، آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا کا یکطرفہ اقدام ہے ترکیہ کا کہنا ہے آبنائے ہرمز کو سفارت کاری سے ہی کھولا جانا چاہیے، بین الاقوامی فورس کی تعیناتی میں کئی مشکلات درپیش ہیں دوسری طرف ٹرمپ کی گرتی ساکھ کا اندازہ یورپی ملک ہنگری میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے لایا جا سکتا ہے جہاں اپوزیشن نے حیران کن کامیابی حاصل کرتے ہوئے طویل عرصے سے برسرِ اقتدار امریکی حمایت یافتہ حکومت کو شکست دے دی،عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پوپ لیو چہاردہم کے بارے میں دیئے گئے بیانات کو ناقابلِ قبول قرار دیکر شدید الفاظ میں مذمت کی ، ان اقدامات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ تنہا ہوتا جا رہا ہے پاکستان نے جنگ بندی کی جو کاوش کی اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ آپ گھوڑے کو کنویں تک تو لے سکتے ہیں لیکن اسے پانی نہیں پلا سکتے بے شک مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے لیکن پاکستان کا امیج دنیا میں بہتر پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے لاکھ مسائل کے باوجود امریکہ ایران کو ایک میز پر بٹھا دیا یہی اسلام آباد کی کامیابی ہے کیونکہ پاکستان اعتماد کا نام ہے۔