تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں تیزی آئی ہے اور پاکستان کی ثالثی کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اہم پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ترجمان کے مطابق، گزشتہ اتوار سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی آمد و رفت کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اسماعیل بقائی نے بتایا کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے بعد سے اب تک متعدد پیغامات بھیجے جا چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے امکانات موجود ہیں۔
سفارتی کوششوں کو مزید تقویت دینے کے لیے ایک پاکستانی وفد کے جلد تہران پہنچنے کا قوی امکان ہے تاکہ مذاکرات کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایران پر لگائے جانے والے جوہری الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ترجمان نے واضح کیا کہ ایران پر چند دن میں ایٹم بم بنانے کا الزام بے بنیاد اور غلط ہے۔ ایران جوہری ہتھیاروں میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ "جس چیز کا وجود ہی نہیں، اس کی بنیاد پر ایران کو عالمی دہشت گردی اور غیر ضروری دباؤ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے علاقائی موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ترجمان نے زور دے کر کہا کہ ایران لبنان کی مزاحمت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور اس عزم سے پیچھا نہیں ہٹا۔