Wed, September 16, 2026

مریدکے میں مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات، ایک پولیس افسر شہید، 48 زخمی

مریدکے میں مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات، ایک پولیس افسر شہید، 48 زخمی

مریدکے: مریدکے میں مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات میں ایک پولیس افسر شہید اور 48 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ 12 اور 13 اکتوبر کی درمیانی رات پیش آیا، جس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم ہوا۔

پولیس ذرائع کے مطابق احتجاج کے دوران مظاہرین نے تشدد کے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے، جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی اور پولیس کو عوامی تحفظ کے لیے کارروائی کرنی پڑی۔ انتظامیہ نے شروع میں مظاہرین سے مذاکرات کیے اور احتجاج کو کم متاثرہ مقام پر منتقل کرنے کی کوشش کی، لیکن مظاہرین کی قیادت نے ہجوم کو اکسانا جاری رکھا۔

مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ، کیلوں والے ڈنڈوں، پٹرول بموں اور دیگر تشدد آمیز ہتھکنڈوں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین لیا گیا اور انہی ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔ تشویشناک صورتحال کے پیش نظر پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے ذریعے مظاہرین کو قابو کرنے کی کوشش کی، لیکن مظاہرین نے مزید مشتعل ہو کر منظم حملے شروع کر دیے۔

پولیس کے مطابق اس دوران 40 سے زائد سرکاری و نجی گاڑیاں جلائی گئیں اور کئی دکانوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔ فائرنگ اور دیگر تشدد کے واقعات میں 17 پولیس اہلکار گن شاٹ کے زخموں کا شکار ہوئے۔ زخمی اہلکاروں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق تین ٹی ایل پی کارکن اور ایک بے گناہ راہ گیر بھی جاں بحق ہوئے، جبکہ 30 کے قریب شہری زخمی ہو گئے۔

مظاہرین نے یونیورسٹی کی بس سمیت کئی گاڑیاں اغوا کر کے احتجاج میں استعمال کیں اور بعض گاڑیوں کو عوام کو کچلنے کے لیے بھی چلایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق شرپسند عناصر نے پولیس پر پتھر، پٹرول بم اور کیلوں والے ڈنڈوں سے حملے کیے اور متعدد مقامات پر اندھا دھند فائرنگ بھی کی گئی۔

پولیس نے متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، تاہم مذہبی جماعت کے رہنما موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ پولیس نے ان ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

حکام نے کہا ہے کہ یہ کارروائی منظم تشدد کی ایک مثال ہے، جس میں احتجاج کی قیادت نے ہجوم کو اکسانا اور پھر خود فرار ہو کر شہریوں اور ریاست کو خطرے میں ڈالا۔ پولیس نے واضح کیا کہ ہتھیار چھیننا، پٹرول بم پھینکنا اور گاڑیاں جلانا کسی صورت پرامن احتجاج نہیں کہلاتا، اور ایسے عناصر کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

ٹیگز: