Wed, September 16, 2026

نیکی اور دریا!

بچپن سے ہی ایک ضرب المثل کو بارہا درسی کتابوں میں پڑھنے کا موقع ملا، کبھی اس کے معنی بتانے پر تو کبھی اس پر کوئی مضمون لکھ کر امتحان بھی پاس کیے۔ اچھے نمبر لینے سے لے کر اگلی کلاسز میں ترقی ملنے تک ہم میں سے بے شمار لوگوں کی تعلیمی سیڑھی کے اگلے قدم میں اس ایک ضرب المثل نیکی کر دریا میں ڈال نے لازماً حصہ ڈالا ہو گا۔ بہت بار بزرگوں، خاندان کے بڑوں اور خیر خواہوں کو مختلف معاملات میں یہی ضرب المثل کہتے یا سمجھاتے ہوئے بھی پایا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ زندگی جب ہم پر اپنی تمام تر سچائیوںکے ساتھ بیت رہی ہوتی ہے تو یہ کہاوت شب و روز کا معاملہ بن جاتی ہے اور ہمیں روز کسی نہ کسی معاملے میں اپنے چنائو کی لکیر میں اِسے مقدم رکھنا ہی پڑتا ہے۔ ہم میں سے ہر کسی کی نیکی کو لے کر تعریف فرق ہو گی، اور ہمارا عمومی رویہ اِسے لے کر مختلف توجیہات کا شکار ہے جیسے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ نیکی کو صرف ثواب حاصل کرنے کے لیے بہترین موقع سمجھ کر کرتے ہیں جبکہ یہ صرف رب کی خوشنودی سے مشروط ہونی چاہیے۔ دوسرا یہ کہ فطری طور پر ہم اپنی طرف سے کسی کے ساتھ بھی کی جانے والی نیکی کے بدلے میں ان سے واپس ویسی ہی نیکی کی توقع بھی رکھتے ہیں، جبکہ حقیقتاً لوگوں کی اکثریت جو کچھ بھی آپ نے ان کے لیے کیا، اسے اسی طرح یا دوگنا یا چار گنا واپس لٹانے کی سمجھ و ظرف یا استعداد بالکل بھی نہیں رکھتی اور تیسرا یہ کہ اکثر لوگوںکے برے رویے، منافقانہ طور طریقے، جھوٹ میں لپٹی زندگیاں ہمیں چاہ کر بھی ان کے ساتھ نیکی کرنے سے روکتی ہیں لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جس رب کو ہم مانتے ہیں اس کا سورج نیک و بد پر یکساں چمکتا ہے، بارش بھی سب کے لیے برستی ہے اور اس کی رحمت آج تک تمام مخلوقات پر نازل ہونے سے نہیں رکی۔ تو کیا یہ وجہ کافی نہیںکہ ہم مسلسل اچھائی اور بھلائی کے کام سرانجام دیتے رہیں؟
میری رائے میں آپ کا نیک خیال، نیک نظر، نیک سیرت، نیک نمونہ، دوسروں کو نیکی کے کاموں کی ترغیب دینا اور نیک دلی سے سب کے لیے آگے بڑھنا، رب کے حضور میں نہایت قیمتی ہے۔ ہم دنیا میں جس کام کو سرانجام دینے آئے ہیں اور جو ہمارا اصل مقصد ہے، اس میںسے اولین خدا کے احکامات کی تکمیل اور اس کی خوشنودی کو ہمیشہ مقدم رکھنا ہے اور یہ اس کی سب مخلوقات سے اچھے اور منصفانہ سلوک کے بغیر ناممکن ہے۔ آپ کسی کو بھی ذات، نسل، قومیت، مذہب، رنگ و شکل، امارت، اچھائی یا برائی کی بنیاد پر اپنی طرف سے کی جانے والی نیکی کے دائرے میںسے خارج نہیںکر سکتے۔
ہم نے کبھی کیوں نہیں سوچا کہ قدرت نیک کام کرنے والے لوگوں کو بہت ہی عجیب و غریب طریقے سے نوازتی ہے، اور اچھائی کا بدلہ واپس لٹانے کی حکمت اور طاقت رکھتی ہے۔ جیسا کہ شدید مشکل حالات اور کٹھن آزمائش میں آپ کے ایمان کا مضبوط رہنا، دلی تسلی، اطمینان، صبر اور برداشت کا قائم رہنا۔ آپ کسی لرزش کا شکار نہیںہوتے بلکہ حالات سے لڑنے کے لیے اندرونی طور پر مضبوط اور بلند حوصلہ رکھتے ہیں۔ کوئی آزمائش آپ کو گراتی نہیں بلکہ اس کی ذات میں آپ کے یقین کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو ان دیکھی ہے، لیکن رب صرف اپنے پسندیدہ لوگوںکو ہی اس سے نوازتا ہے یعنی ایمان میںمضبوط رہنا۔
کوئی پرندہ صبح صبح آپ کی کھڑکی کے باہر کسی درخت یا دیوار پر بیٹھا بہت خوبصورت چہچہائے، اور ایک خوبصورت احساس آپ کے اندر تک بھر جائے جیسے کوئی پیغام دے رہا ہو، جیسے کہنا چاہتا ہو کہ اٹھ کر اپنے رب کی تعریف اور شکر گزاری کرو، جیسے میں کر رہا ہوں۔ کیا ہی خوبصورت آواز اور دعا ہو گی جو صبح کی خاموشی کو رب کا نام لے کر توڑتی ہے اور کیسے دن کی روشنی رب کا نام سن کر رات کے اندھیرے پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ یہ سب منظر اگر آپ کی نظریں روز قید کرتی ہیں تو یقینا آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ کو بھی اس کی بارگاہ میں یاد کیا گیا ہے اور پھر تم روز جگائے جاتے ہو۔ کیا پتہ کوئی پرندہ کوئی جانور وہ خوراک جو آپ نے اس کو دی، اس کا ہی شکریہ ادا کر رہا ہو۔ آپ کے حق میں بے زبانوں کی دعائیں عرشِ حقیقی پر آپ کے لیے کیا رنگ لے کر آتی ہیں، کون جانے؟ آپ چیزوں کو سمجھنے کے لیے زبان اور الفاظ کے محتاج ہو سکتے ہیں لیکن کائنات میں موجود ہر چیز مہربان رب اور مہربانی کرنے والی مخلوق کو اس کے اعمال سے جانتی ہے، بے زبانوں کی دعائوں کو کبھی ہلکا نہ سمجھیے گا۔
اور کیا پتہ رات کو سوتے وقت رب کے کسی فرشتے نے کسی بُری تاثیر کے خلاف آپ کی حفاظت کی ہے۔ کوئی زہریلی چیز رات کو سوتے وقت آپ کے قریب سے گزر جائے لیکن آپ کو نقصان پہنچانے سے باز رہے۔ کسی انسان کے شر کے منصوبے آپ کے خلاف مسلسل ناکام ہو رہے ہوں اور آپ کے حصے کی جنگ خود رب لڑ رہا ہو اور آپ بغیر جنگ لڑے ہی فاتح بن گئے ہوں۔ آپ کسی بڑے حادثے سے محض کچھ لمحے پہلے بحفاظت نکل آئے ہوں۔ کوئی جسمانی تکلیف، کوئی جان لیوا بیماری جو کبھی آپ کے جسم میںسر ہی نا اٹھا سکی ہو۔ وبائیں، سیلاب، جنگیں، زلزلے اور دیگر قدرتی آفات جن سے رب روز آپ کی حفاظت فرماتا ہے۔ آپ کی خوراک میںکوئی صحت کے لیے نقصان دہ جز کا ہونا لیکن پھر بھی جسم میںجا کر اس کا بے اثر رہنا اور اعضا کا ٹھیک ٹھیک کام کرنا، آپ کی اولاد کا نیک اور صالح ہونا، زندگی کے ساتھی کا باوفا ہونا، خاندان کے دیگر افراد کا دکھ اور سکھ میں ساتھ نصیب ہونا۔ آپ کو کیا پتہ آپ کی کِس کِس نیکی کو رب کیسے کیسے لوٹا دیتا ہے۔ آپ کے رزق میں فراوانی ہونا اور رب کے علاوہ کسی کے در کا محتاج نہ ہونا۔ آپ کی عزت و حرمت اور وقار کی حفاظت فرمانا۔ آپ معاشرے میں سر اونچا کر کے چل رہے ہیں تو کوئی تو درپردہ آپ کے وقار کو بڑھا رہا ہے۔
تو پھر یہ ثابت ہوا کہ ربِ کریم آپ کی طرف سے کیے جانے والے نیک اور اچھے کاموں کا صلہ ضرور آپ کو واپس لوٹا دیتے ہیں، کبھی رحم کر کے اور کبھی انتہائی شفیق ہو کر۔ کیسے خاموشی سے بغیر جتائے سب کچھ ہو جاتا اور آپ خود بھی اس سے ناواقف رہتے ہیں اور کتنا کچھ بغیر محنت کے ہی پا لیتے ہیں۔ بس یاد رکھیں اس کے جواب آپ کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتے، آپ کی چاہت کے مطابق آپ نوازے نہیںجاتے، لیکن یہ سچ ہے کہ وہ بہترین وقت پر بہترین طریقے سے سب کچھ سو گنا زیادہ واپس لوٹا دیتا ہے۔
بس نیکی کر کے وقت کے دریا میں ڈالتے جائو اور ایک دن دنیا کے اس پڑائو اور اس کے بعد کی زندگی میںاجر پا لو گے، بے شک، بے حساب نوازے جائو گے۔ لہٰذا خالق کی کامل مرضی پر مکمل توکل کر لو، کیونکہ یہ نیکیاں جو تم مخلوق کے حق میں آج کر رہے ہو، دراصل اِس دنیا کے دریا میں ڈوب نہیں رہی ہیں، بلکہ روزِ قیامت اس دنیا میں تمہارے لیے روشن ستاروں کی طرح چمکیں گی!

ٹیگز: