طیفی بٹ بدمعاشی کا ایک برینڈ سمجھا جاتا تھا جو گزشتہ روز پار ہو گیا،اْسے جب دبئی سے گرفتار کر کے پاکستان لایا گیا میرا خیال تھا اْسے عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اْس کے ساتھ وہ رویہ نہیں اپنایا جائے گا جس کے لیے سی سی ڈی بنایا گیا ہے، یہ ادارہ اصل میں پاکستان کی عدلیہ پر ایک بڑا عدم اعتمادہے، اگر عدلیہ اس پر خاموش ہے، یا راضی خوش ہے توہم کون ہوتے ہیں اس پر اعتراض کرنے والے ؟ عدالتوں کے کام کسی اور ادارے کو نہیں کرنے چائیں ، بدقسمتی سے پاکستان میں اب یہ ماحول بن گیا ہے اپنا کام کوئی نہیں کرتا ، سب دوسروں کے کام کرتے ہیں اور کام غلط کرکے شہرت اور دولت کماتے ہیں ، عزت کمانے کا اب کسی کو کوئی شوق نہیں رہا ، پاکستان میں عزت دار اداروں کی شدید کمی ہوتی جا رہی ہے ، عزت دار لوگ بھی اب بہت کم دکھائی دیتے ہیں، ہر طرف حکمران ہی حکمران نظر آتے ہیں ، یہاں صرف ’’مرضی کے میرٹ‘‘ اور’’مرضی کے انصاف‘‘ کا بول بالاہے ، حقیقی انصاف ہوتا ہے نہ کوئی کرتاہے ، سرکار صرف ایسے ادارے بنا رہی ہے جن کا کام صرف اور صرف یہ ثابت کرنا ہوتا ہے پاکستان میں قانون کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، طیفی بٹ بہت سے حوالوں سے بہت بدنام تھا ، مگر جن کے وہ ہتھے چڑھا وہ بھی فرشتے نہیں ہیں ، میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں بدمعاشی مستقل طور پر ختم کرنی ہے پہلے اپنی بدمعاشی ختم کریں ، اپنے سسٹم کو ٹھیک کریں ، اپنے اداروں کو بدنامیوں کی دلدل سے نکال کر اْن کی عزت اس انداز میں بحال کریں اْن کی جانب سے کیے گئے کسی اقدام کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے ، امیر بلاج ٹیپو کا قتل ایسا سانحہ تھا جسے شاید ہی کبھی بھْلایا جا سکے ، اْس وقت اْس کے لواحقین کو اس بات کا پورا یقین تھا کہ جس طرح ماضی میں طیفی بٹ کچھ شخصیات یا کچھ اداروں کی ملی بھگت سے یا اْن کی سرپرستی سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوتا رہا ہے ، اس بار بھی یقینا ہو جائے گا ، ٹیپو ٹرکاں والے کی فیملی اورطیفی بٹ میں ایک بنیادی فرق یہ بھی تھا فریق اول ہمیشہ’’مفت کا انصاف‘‘ چاہتا رہا اور فریق دوئم اپنی ’’مرضی کا انصاف‘‘ حاصل کرنے کے لیے نوٹوں کی بوریوں کے منہ کھول دیا کرتا تھا ، پولیس اور دیگر اداروں کی کچھ اہم شخصیات کو لفافے نہیں پوری پوری بوریاں جاتی تھیں ، فریق اول کو اْس کے بہت سے قریبی دوستوں نے سمجھایا پاکستان میں انصاف حاصل کرنے کے لیے وہی طریقہ اختیار کرو جو فریق دوئم کرتا ہے ، کیونکہ پاکستان میں حرام کی کمائی کے لئے کچھ لوگ اپنا دین دھرم تک داؤ پر لگا لیتے ہیں ، طیفی بٹ کا باب اب بند ہو گیا ہے ، لیکن بدمعاشی کا باب بند نہیں ہوا ، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے بدمعاشی کا باب اس کے ساتھ ہی بند ہوگیا ہے یہ اْس کی خام خیالی ہے، ایک زمانے میں ارشد امین چودھری، مظہر تبی ، طاہر پرنس وغیرہ بھی بدمعاشی کے ایسے ہی برینڈ تھے ، ان کے باب بھی ایسے ہی بند ہوئے تھے جیسے اب طیفی بٹ کا ہوا ہے ، کیا اس سے بدمعاشی رک گئی تھی ؟ بدمعاشی صرف ایک ہی صورت میں رْک سکتی ہے ، وہ صورت فی الحال دْور دْور تک دکھائی نہیں دیتی ، وہ صورت یہ ہے پاکستان میں عدالتی نظام یا عدالتی ڈھانچے کی از سر نو تعمیر کی جائے ، ابھی تو جو ’’ڈھانچہ‘‘رہ گیا تھا اْسے بھی دفنا دیا گیا ہے ، عدل و انصاف کا نام و نشان مٹ گیا ہے ، اب بس اس سے وابستہ کچھ کردار ہیں جو انتہائی ’’بد کردار‘‘ ہیں ، کہیں کہیں کوئی جگنو اگر دکھائی دیتا بھی ہے اْسے مسلنے کے لیے ایسی ایسی سازشیں کی جاتی ہیں وہ بیچارہ مچھر بن کر خود ہی کہیں غائب ہوجاتا ہے ، طیفی بٹ ماں کے پیٹ سے بدمعاش پیدا نہیں ہوا تھا ، اْسے طیفی بٹ بنایا گیا تھا ، جنہوں نے اْسے بنایا اْنہوں نے ہی ختم کر دیا ، وہ لوگ اب نئے طیفی بٹ بنائیں گے ، پرانے طیفی بٹ سے جتنا کام اْنہوں نے لینا تھا لے لیا تھا ، ویسے بھی اْس کی عمر اب ستر برسوں سے زائد تھی ، اور کتنے برس مزید کام کا اْس نے رہ جاتا ؟ سو بہتر یہی سمجھا گیا اْس سے جان چھڑا کر اپنی بلے بلے کرا لی جائے ، سرکار کو اب’’بوڑھے بدمعاشوں‘‘ کی نہیں’’جوان بدمعاشوں‘‘ کی ضرورت ہے ، یہ بات عدالتوں میں شاید کبھی ثابت نہ ہوتی امیر بلاج ٹیپو کا قتل طیفی بٹ نے کرایا ہے ، مگر یہ دیوار پر لکھی ایک تحریر تھی ، میں یہ ثابت کرنے کے لیے مزید شواہد اکٹھے کر رہا ہوں طیفی بٹ کو امیر بلاج قتل کیس کی وجہ سے نہیں کسی اور وجہ سے پار کیا گیا ، یہ وجہ اْس کے بھائی خواجہ اظہر گلشن کو معلوم ہے جس کا اظہار دبے دبے الفاظ میں وہ کر بھی چکے ہیں ، ماضی قریب میں ٹیپو ٹرکاں والے اور طیفی بٹ میں صلح کی کوششیں بھی ہوتی رہیں ، ان کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ لاہور کے وہ گھٹیا پولیس افسر تھے جو دونوں پارٹیوں سے اندھا دْھند مال بٹور رہے تھے ، طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ جب قتل ہوئے اْس کے کچھ دن بعد مقتول کے بیٹے حیدر جاوید بٹ نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا وہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے ، میں نے اْس کے پیغامات کے سکرین شاٹس امیر بلاج ٹیپو کے چھوٹے بھائی امیر معصب کو بھجوائے ، اْس نے مجھ سے کہا ’’بھائی جان آپ اْس سے ضرور ملیں‘‘ حیدر جاوید بٹ جب میرے گھر آیا سب سے پہلے میں نے اْسے بتایا بلکہ دکھایا کہ آپ سے میں امیر معصب کے کہنے پر مل رہا ہوں ، آپ سے ملنے سے پہلے میں نے اْس سے پوچھا تھا‘‘ ، میں نے اْسے باقاعدہ سکرین شاٹس بھی دکھا دئیے ، اس پر وہ حیران ہوا تو میں نے اْسے بتایا امیر معصب اور امیر فاتح میری بہت عزت کرتے ہیں ، میں نہیں چاہتا تھا اْن کے دل میں کوئی غلط فہمی پیدا ہو ، اسی لیے میں نے اْن سے پوچھا تھا ، اْس کا ایک ہی شکوہ تھا’’اس دْشمنی میں میرا بے قصور باپ کیوں مارا گیا ؟‘‘ ، میں نے اْس کے ساتھ ایک طویل نشست میں محسوس کیا دونوں خاندانوں کو قریب کرنے کے لیے کوئی مخلصانہ کوشش اگر کی جائے وہ ضرور کامیاب ہوسکتی ہے ، یہ کوشش اگر کامیاب ہو جاتی تو ظاہر ہے کچھ گھٹیا پولیس افسروں کے منہ کو کرپشن کا جو لہو لگا تھا وہ ختم ہو جاتا ، امیر بلاج ٹیپو کی فیملی بڑی مہذب فیملی ہے ، طیفی بٹ کو جب پار کیا گیا اْن کے بہت سے قریبی دوستوں نے اْنہیں مشورہ دیا’’شاہ عالمی میں ایک بڑے جشن کا اہتمام کیا جائے‘‘ ، اس مشورے کو اْنہوں نے بْری طرح رد کر دیا ، مجھے بس یہ اچھا نہیں لگا سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے طیفی بٹ کی کفن شدہ لاش کی نمائش کی ، یوں محسوس ہو رہا تھا کچھ سرکاری لوگ محض اپنی بلے بلے کرانے کے لیے بڑی پلاننگ کے ساتھ یہ سب کرا رہے ہیں ، طیفی بٹ اب اللہ کے پاس ہے ، ہمارا بھائی امیر بلاج ٹیپو بھی اللہ کے پاس ہے، اللہ جانے وہ جانیں ، ہمیں بس اپنے اعمال درست کرنے کی ضروت ہے، جس کے لیے میں فکر مند ہوں نہ کوئی اورہے۔