Wed, September 16, 2026

آزاد جموں و کشمیر: وزیراعظم چودھری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ

آزاد جموں و کشمیر: وزیراعظم چودھری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم چودھری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد آج قانون ساز اسمبلی میں جمع کرائی جائے گی۔ یہ تحریک پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور فارورڈ بلاک کے منحرف ارکان کے تعاون سے پیش کی جائے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے ارکان کو ہدایت دی ہے کہ وہ آج (14 نومبر) مظفرآباد پہنچ کر تحریک عدم اعتماد جمع کرائیں گے۔ اس تحریک پر مسلم لیگ ن کے ارکان کے دستخط بھی شامل ہوں گے، اور اس میں نئے وزیر اعظم کا نام بھی درج ہوگا۔

پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ انہیں وزیر اعظم چودھری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں 30 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ تحریک جمع ہونے کے بعد آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس تین سے سات دن کے اندر بلایا جائے گا، اور وہاں اس تحریک کو پیش کیا جائے گا۔ تحریک کی کامیابی کے بعد نئے وزیر اعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں 53 ارکان ہیں، مگر پی ٹی آئی کے رکن محمد اقبال برطانیہ میں ہیں اور ووٹنگ میں حصہ نہیں لے سکیں گے، اس لیے ایوان میں ارکان کی تعداد 52 ہو گی۔ پیپلز پارٹی کے پاس 17، مسلم لیگ ن کے 9، فارورڈ بلاک کے 10، پی ٹی آئی کے 5، اور دیگر جماعتوں کے ایک ایک رکن ہیں۔

چودھری انوار الحق 20 اپریل 2023 کو وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے، اور ان کا انتخاب پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اور مسلم کانفرنس کے اشتراک سے ہوا تھا۔ ان کے دور میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی مظاہروں میں تشدد کے واقعات پیش آئے، جس کے دوران کئی افراد جاں بحق ہوئے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے وزیر اعظم کے امیدواروں میں پارٹی کے صدر چودھری محمد یاسین، سپیکر چودھری لطیف اکبر اور وزیر فیصل راٹھور کے نام شامل ہیں۔

ٹیگز: