Wed, September 16, 2026

سینیٹ میں پاکستان آرمی، نیوی اور ایئر فورس ترمیمی بل 2025 کو کثرت رائے سے منظور کر لیا

سینیٹ میں پاکستان آرمی، نیوی اور ایئر فورس ترمیمی بل 2025 کو کثرت رائے سے منظور کر لیا

اسلام آباد: سینیٹ نے پاکستان آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے ترمیمی بل 2025 کو کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل پیش کیا، جسے ایوان نے منظور کر لیا۔ اس بل کی پیش کش کے دوران، جے یو آئی (ف) کے رکن کامران مرتضیٰ اور پی ٹی آئی کے رکن ہمایوں مہمند نے اس بل کو کمیٹی میں بھجوانے کی تجویز دی، مگر ایوان نے اسے مسترد کر دیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد ان قوانین میں ترمیم کی ضرورت تھی تاکہ ملکی دفاعی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اس کے ساتھ ہی، پاکستان ایئر فورس ایکٹ ترمیمی بل 2025 کو بھی کثرت رائے سے منظور کیا گیا، جس میں 1953 کے پاکستان ایئر فورس ایکٹ سے کچھ اہم سیکشنز کو حذف کر دیا گیا، جیسے کہ سیکشن 10 ڈی، 10 ای اور 10 ایف۔ اس کے علاوہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے الفاظ کو بھی سیکشن 202 سے نکال دیا گیا۔

پاکستان نیوی ایکٹ ترمیمی بل 2025 کو وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا۔ اس دوران سینیٹر دنیش کمار نے اعتراض اٹھایا کہ ان کے پوچھے گئے سوالات کا مکمل جواب نہیں دیا جا رہا اور تفصیلات چھپائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے وزارت خزانہ کے ایس او ایز افسران کی مراعات کے حوالے سے سوال کیا، جس پر وزیر مملکت خزانہ بلال کیانی نے کہا کہ تمام سوالات کے جوابات دیے جائیں گے اور کمیٹی میں تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025 میں یہ بھی شامل ہے کہ آرمی چیف کا نیا نوٹیفکیشن جاری ہوگا، جس کے بعد ان کی مدت دوبارہ شروع ہوگی۔ اس میں کہا گیا کہ آرمی چیف کو پاک فوج کے مختلف شعبوں کی ری اسٹرکچرنگ اور انضمام کی ذمہ داری دی جائے گی۔ وزیراعظم آرمی چیف کی سفارش پر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے کمانڈر کی تعیناتی کریں گے۔

مزید برآں، اس بل میں کہا گیا ہے کہ کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کی مدت 3 سال ہوگی، اور اسے 3 سال کے بعد دوبارہ تعینات کیا جا سکے گا۔ اس ترمیم کے مطابق، 27 نومبر سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ بھی ختم کر دیا جائے گا۔

ٹیگز: