توانائی اور خصوصاً سستی توانائی کی موجودگی مضبوط معیشت کے لئے لازم و ملزوم ہے۔صنعت و حرفت کے لئے سستی توانائی کا مہیا ہونا ضروی ہے۔ توانائی ہو گی تو کارخانے چلیں گے، پروڈکشن ہو گی، اندرونی اور بیرونی آرڈرز تکمیل پا سکیں گے۔ توانائی سستی ہو گی تو پاکستان کا مال بیرونی منڈیوں میں مقابلہ کر کے قیمتی زرِ مبادلہ کمائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو بہت اہم فیصلے کرنے پڑتے ہیں جیسے بجلی کی بچت کے پیشِ نظر بازارجلد بند کر دینے کا اعلان، شادی ہالز دس بجے بند کرنا وغیرہ۔ توانائی بچت منصوبوں کے تحت وفاقی حکومت کی تمام وزارتیں، محکمے، اتھارٹیز اور صوبوں میں ان کی ذیلی شاخوں کی عمارتوں کو بتدریج شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح صوبائی سطح پر بھی مختلف محکمے اسی طرز پر شمسی توانائی کو متعارف کروا رہے ہیں تا کہ ملک میں جو وافر سورج کی روشنی میسر ہے اس سے فائدہ اٹھا کر کم خرچ توانائی کو بروئے کار لایا جا سکے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ حکومت اس وقت ملک میں توانائی بحران سے نمٹنے کے لئے بڑی حد تک سنجیدہ ہے تاکہ صنعتوں، زراعت اور عوام کو سستی بجلی میسر ہو سکے اور ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہو سکے۔ اس حوالے سے قوم کو بھی اب ملک میں توانائی بحران سے نمٹنے کے لئے خود سے بھی اہم اقدام اٹھانے ہوں گے۔
ہم پاکستانی بہت سست، کاہل اور لاپرواہ ہو چکے ہیںصبح کے اوقات میں انسانی جسم توانائی سے بھرپور ہوتا ہے، ہم یہ وقت کاروبار اور کام کاج میں لگانے کے بجائے ضائع کر دیتے ہیں۔ ہمارا دن خاصی دیر سے شروع ہوتا ہے اور سورج غروب ہونے کے بعد مصنوعی روشنیوں میں ہم کاروبار کرنا پسند کرتے ہیں جس سے بہت توانائی ضائع ہو جاتی ہوتی ہے۔ یورپ میں جہاں موسم بڑا شدید ہوتا ہے، اس سردی کے عالم میں بھی تمام کاروباری مراکز، تمام مارکیٹیں صبح سات بجے کھل جاتی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے لوگ رات ایک دو بجے تک تو سڑکوں کے کنارے بیٹھے کھانے کھا رہے ہوتے ہیں، جب کہ صبح کا ناشتہ دن کے بارہ ایک بجے تک چل رہا ہے اور دوپہر کا کھانا سہ پہر تک اور پھر اسی طرح دوسرے معاملات بھی نمٹائے جاتے ہیں۔یہ کیسا نظام اور ڈسپلن ہے کہ ہم لوگ اپنا آدھا دن تو سو کر یا بستر میں گزار دیتے ہیں اور جب سونے کا وقت ہوتا ہے تو جاگنا شروع کر دیتے ہیں۔
جب بھی کبھی ہماری حکومتیں دوکانیں اور مارکیٹیں رات کو بند کرنے کے اوقات مقرر کرتی ہیں تو پورے ملک میں ایک طوفان برپا ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارے تاجر حضرات صبح ایک دو بجے دوکانیں کھولتے ہیں اور رات ایک بجے تک دوکانیں کھلی رکھتے ہیں۔ حالانکہ اس میں قباحت کیسی، اگر دوکانیں، مارکیٹیں صبح 8 بجے کھولی جائیں اور کاروبار شروع کیا جائے تو شام 7 بجے بند کر دی جائیں تو یہ 11 گھنٹے بنتے ہیں جو کاروبار کے لئے بڑا طویل دورانیہ ہے لیکن جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ گاہک بارہ، ایک بجے سے پہلے مارکیٹوں کا رخ نہیں کرتا۔ حیرت ہوتی ہے یہ سن کر کیونکہ جب یہ لوگ خود ہی 12 بجے دوکانیں کھولیں گے تو خریدار ان کے پاس کیسے صبح 8 بجے خریداری کرنے آئیں گے۔ خریدار تو اسی وقت مارکیٹوں کا رخ کریں گے جب وہ کھلیں گی۔ اگر صبح 8 بجے مارکیٹوں میں کام شروع ہو جائے تو مغرب تک اچھا خاصہ وقت بنتا ہے لیکن اس کے لئے ہمیں اپنا لائف سٹائل تبدیل کرنا ہو گا۔ اگر ایک طریقہ کار اپنا لیا جائے اور کاروبارِ زندگی کو رات 7 یا 8 بجے تک محدود کر لیا جائے تو بجلی میں بڑی بچت ہو سکتی ہے۔ پنجاب میں شادی ہالوں میں رات ایک دو بجے تک تقریبات چلتی رہتی تھیں لیکن رات دس بجے بند کرنے کا سلسلہ کافی عرصہ پہلے شروع ہوا تھا اور اب یہاں سب اس کے عادی ہو چکے ہیں۔
جیسے پورے مغرب اور امریکہ میں دوکانیں، مارکیٹیں اور دفاتر شام مغرب کے وقت بند ہو جاتے ہیںاور کھانا کھا کر لوگ سو جاتے ہیں تاکہ اگلے دن بروقت اٹھ کر زندگی کا آغازکر سکیںتو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ۔ اگر دوکانوں اور مارکیٹوں کے اوقات دن کی روشنی کے مطابق کر دئے جائیں تو دن میں شمسی توانائی کی بجلی استعمال کی جا سکتی ہم بہت سی بجلی بچا سکتے ہیں اس سے ہمارے گردشی قرضہ جات بھی کم ہو سکتے ہیں اور ہماری زراعت اور انڈسٹری کو سستی بجلی بھی میسر آ سکتی ہے۔ ہم اپنی مصنوعات کم لاگت پر تیار کر سکتے اور اور اس طرح بیرونی منڈیوں میں ہم آسانی سے دوسرے ممالک کی مصنوعات سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔