پاکستان کی سیاست ایک عجیب دائرے میں گھومتی رہی ہے۔ یہاں شخصیات ختم نہیں ہوتیں، صرف کردار بدلتے ہیں۔ کبھی کوئی لیڈر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھا نظر آتا ہے، کبھی خاموشی کے ساتھ پس منظر میں چلا جاتا ہے، مگر بعض شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی خاموشی بھی سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ پاکستان کی سیاست میں میاں محمد نواز شریف کا نام بھی انہی شخصیات میں شامل ہے۔ میاں نواز شریف کو پاکستانی سیاست سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ وہ اس سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں جس میں آمریتوں کا مقابلہ بھی ہے، جلا وطنی بھی، اقتدار کی بلندیاں بھی اور سیاسی تنہائی کے لمحات بھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ملک کسی سیاسی یا معاشی بحران کا شکار ہوتا ہے تو نگاہیں ایک مرتبہ پھر ان کی طرف اٹھنے لگتی ہیں۔
آج پاکستان ایک بار پھر ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور جمہوری تسلسل سب سے بڑے سوال بن چکے ہیں۔ مہنگائی عام آدمی کی قوت خرید نگل رہی ہے، بے یقینی سرمایہ کاری کو متاثر کر رہی ہے، سیاسی تقسیم معاشرے کو انتہاو¿ں کی طرف دھکیل رہی ہے اور جمہوریت ایک بار پھر کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ ایسے حالات میں اگر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ نواز شریف کو فعال سیاست میں دوبارہ متحرک ہونا چاہیے یا نہیں، تو یہ محض ایک سیاسی بحث نہیں بلکہ ریاستی استحکام سے جڑا سوال بن چکا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ اس وقت محترمہ مریم نواز پنجاب جیسے بڑے صوبے کی وزارت اعلیٰ سنبھالے ہوئے ہیں اور سیاسی طور پر متحرک کردار ادا کر رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی تنظیمی اور حکومتی ذمہ داریوں میں بھی ان کا کردار نمایاں ہے۔ مگر پاکستانی سیاست صرف انتظامی صلاحیت سے نہیں چلتی، یہاں سیاسی بصیرت، مفاہمت اور بحرانوں کو سنبھالنے کا تجربہ بھی درکار ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نواز شریف کی اہمیت دوبارہ محسوس کی جا رہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اس وقت شدید عوامی دباو¿ میں ہے۔ مہنگائی، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے عوامی غصے کو بڑھا دیا ہے۔ حکومت کے معاشی فیصلے چاہے مجبوری ہوں یا عالمی مالیاتی اداروں کے تقاضے، عوام ان کا بوجھ براہ راست محسوس کر رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اس وقت سب سے زیادہ اس چیز سے خوفزدہ ہوتی ہیں جب ان کا ووٹر خاموش ہونا شروع ہو جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ صرف انتظامی کارکردگی سیاسی ساکھ کو بحال نہیں کر سکتی، اس کے لیے ایک بڑے سیاسی بیانیے کی ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں حالیہ دنوں میں نواز شریف کی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے پارلیمانی بورڈ کی صدارت کرنا، پارٹی رہنماو¿ں سے مسلسل ملاقاتیں، اور جلسوں سے خطاب کی اطلاعات دراصل اس بات کا اشارہ ہیں کہ پارٹی انہیں دوبارہ فرنٹ فٹ پر لانا چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟۔
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) جانتی ہے کہ اس کا اصل ووٹر آج بھی نواز شریف کے نام سے جڑا ہوا ہے۔ پارٹی کے پاس انتظامی چہرے موجود ہیں، مگر عوامی جذبات کو متحرک کرنے والا مرکزی سیاسی کردار ابھی بھی نواز شریف ہی ہیں۔ پاکستان میں سیاست محض منشور سے نہیں چلتی بلکہ اعتماد، تعلق اور سیاسی نفسیات سے چلتی ہے۔ نواز شریف تین دہائیوں سے زائد عرصے سے اسی نفسیات کو سمجھتے آئے ہیں۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نواز شریف کو صرف اپنی جماعت کی سیاسی بقا کے لیے متحرک ہونا چاہیے یا انہیں قومی سطح پر بڑا کردار ادا کرنا چاہیے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت شدید سیاسی پولرائزیشن کا شکار ہے۔ اختلافِ رائے اب دشمنی میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کمزور، سیاسی مکالمہ محدود اور برداشت ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں وہ سیاستدان اہم ہو جاتے ہیں جو مفاہمت اور سیاسی توازن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ نواز شریف کی سیاست کا ایک پہلو ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ وہ اداروں، سیاسی جماعتوں اور مختلف قوتوں کے درمیان راستہ نکالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ ان پر تنقید بھی ہوتی رہی، مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ سیاسی بحرانوں کو صرف جلسوں سے نہیں بلکہ مذاکرات سے حل کرنے کے قائل رہے ہیں۔
آج ملک کو شاید اسی سیاسی تدبر کی ضرورت ہے۔ محاذ آرائی نے پہلے ہی پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ سیاست اگر انتقام اور انا کی جنگ بن جائے تو ریاست کمزور ہو جاتی ہے۔ ایسے میں نواز شریف کا کردار صرف ایک جماعتی قائد کا نہیں بلکہ ایک ایسے سینئر سیاستدان کا ہونا چاہیے جو سیاسی درجہ حرارت کم کرے، جمہوری قوتوں کو قریب لائے اور قومی مفاد کو جماعتی مفاد پر ترجیح دے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وقت بدل چکا ہے۔ عوام کی توقعات بھی پہلے جیسی نہیں رہیں۔ اب صرف ترقیاتی منصوبے یا سڑکیں سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں۔ نوجوان نسل روزگار، انصاف، اظہارِ رائے کی آزادی اور ادارہ جاتی استحکام چاہتی ہے۔ اگر نواز شریف واقعی دوبارہ فعال کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی سیاست کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ انہیں یہ تاثر دینا ہوگا کہ وہ صرف اقتدار کی سیاست نہیں بلکہ نظام کی بہتری کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔
ان کے سامنے ایک اور بڑا چیلنج پارٹی کے اندر نئی قیادت کی منتقلی بھی ہے۔ مریم نواز متحرک ضرور ہیں مگر انہیں ایک ایسے سیاسی ماحول کی ضرورت ہے جہاں تجربہ اور نوجوان قیادت ساتھ ساتھ چل سکیں۔ اگر نواز شریف مکمل خاموشی اختیار کر لیتے ہیں تو پارٹی کے اندر خلا پیدا ہو سکتا ہے، اور اگر وہ مکمل طور پر فرنٹ لائن سیاست میں واپس آ جاتے ہیں تو نئی قیادت کے ابھرنے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ان کے لیے سب سے دانشمندانہ راستہ شاید یہی ہوگا کہ وہ سرپرست اور رہنما کا کردار ادا کریں، براہ راست محاذ آرائی سے گریز کریں اور سیاسی استحکام کے لیے پل کا کردار ادا کریں۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاستدانوں نے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ریاستی مفاد کو ترجیح دی، ملک نے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت اپنی انا، ضد اور وقتی مفادات سے اوپر اٹھے۔ نواز شریف اگر واقعی اپنی سیاسی بصیرت اور تجربے کو ملک کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں جمہوریت کے تسلسل، سیاسی مفاہمت، پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئینی استحکام کے لیے متحرک ہونا ہو گا کیونکہ پاکستان اس وقت صرف ایک حکومت یا ایک جماعت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک مکمل سیاسی سمت کا سوال بن چکا ہے۔ ایسے میں خاموش تجربہ کار سیاستدانوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ شاید اسی لیے آج سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا میاں نواز شریف دوبارہ فعال سیاست میں آ کر صرف اپنی جماعت کو سہارا دیں گے یا پاکستان کی جمہوریت کو بھی ایک نئی سمت دینے کی کوشش کریں گے؟۔
فیصلہ بہرحال وقت نے کرنا ہے، مگر اتنا طے ہے کہ پاکستان جیسے نازک سیاسی ماحول میں تجربہ، تدبر اور مفاہمت کی سیاست کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔