Wed, September 16, 2026

غزہ کی عظیم ماﺅں کے نام....

غزہ کی عظیم ماﺅں کے نام....

 ماں محبت، قربانی اور دعا کا دوسرا نام ہے ، ماں وہ ہستی ہے جو اولاد کی خوشی کے لیے ہر دکھ اور تکلیف ہنس کر برداشت کر تی ہے، بچے کی پیدائش سے لے کر اس کی کامیابی تک ماں ہر لمحہ اس کے ساتھ کھڑی رہتی ہے،کہا جاتا ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے جو انسانیت، اخلاق اور محبت کے سبق بھی دیتی ہے،ماں اپنی نیند، آرام اور خواہشات قربان کرکے اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے خواب سجائے رکھتی ہے، ایک ماں کی دعا انسان کو زندگی کی ہر مشکل میں طاقت دیتی ہے، آج کے جدید اورمصروف ترین دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف ایک دن نہیں ہر روز ماں کی توقیرکریں، ماں کی محبت کا دنیا میںکوئی نعم البدل نہیں، ہمیں چاہیے ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ بکھیرنے کی کوشش کریں، کیونکہ ماں خوش ہو تو گھر جنت بن جاتا ہے عالمی یوم ماں ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ماں کی عظمت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتااسی حوالے سے ہر سال ماں کا عالمی دن مدد ڈے منایا جاتا ہے جس میں مختلف تقریبات میں ماﺅں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے لیکن ساتھ ہی بھول جاتا ہے کہ غزہ میں ہزاروں بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتا دیکھنے والی خاتون بھی تو ایک ماں ہی ہے جس کے بے گناہ لخت جگرکے جسم کو بارود سے اڑا دیا گیااور اس کی ماں دہائی دیتی رہ گئی بے حسی کی انتہا ہے کہ دنیا بھر میں منائے جانے والے مدرڈے کی کسی تقریب میں کسی نے غزہ کی ماﺅں کے بارے میں ایک لفظ تک نہ کہا اورنہ ہی بھیڑےے اسرائیل کے خلاف کچھ کہنا گوارہ کیایہ کس طرح کا ماﺅں کاعالمی دن ہے کہ غزہ میں ہزاروں جگر گوشے کھونے والی غزہ کی ماں کے بارے میں دو بول نہ بولے گئے غزہ میں جنازے اٹھانے کا تویہ عالم ہے کہ وہاں کے بچوں نے جنازوں کو بھی گڑیا کا کھیل بنا دیا رپورٹ کے مطابق موت کے سائے میں پلتے فلسطینی بچوں کی کھیل ہی کھیل میں گڑیا کا جنازہ نکالنے کی ویڈیو نے دیکھنے والوں کو رُلا دیا، جہاں دنیا بھر میں بچے گڑیا گڈوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے ان کی شادی رچاتے ہیں، وہیں جنگ کے سائے میں پلتے غزہ کے مظلوم بچوں کے گڑیا سے کھیلنے کے ویڈیو نے وائرل ہو کر دنیا بھر کے حساس انسانوں کی آنکھیں نم اور دلوں کو گداز کر دیا ہے غزہ میں پناہ گزین کیمپوں کے باہر ایک گلی میں کھیلتے چار پانچ کمسن بچے گڑیا کی شادی نہیں کر رہے، بلکہ اس کا جنازہ اٹھا رہے ہیں ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ معصوم بچے ایک لگیج بیگ کے پائپ والے حصے کو اسٹریچر بنا کر اس پر گڑیا کو لٹاتے اور پھر اس کا جنازہ اٹھاتے ہیں ویڈیو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ روز کئی کئی میتیں اٹھتے دیکھ کر پھول جیسے بچوں کے ذہنوں پر اس کے اثرات اتنے گہرے ہو گئے ہیں کہ وہ کھیل میں بھی اس کو نہیں بھول پاتے ماہرین نفسیات کے مطابق اس طرح کے کھیل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ بچے جنگ اور مسلسل خوف کے باعث ذہنی اور جذباتی طور پر شدید متاثر ہو چکے ہیں نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے اپنے اردگرد کے حالات کو کھیل کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں، اور یہ ویڈیو ان کے اندرونی خوف اور صدمے کی عکاسی کرتی ہے،ایسے حالات میں بچوں کی ذہنی صحت پر خصوصی توجہ دینا نہایت ضروری ہے، تاکہ وہ اس صدمے سے نکل کر ایک بہتر مستقبل کی طرف بڑھ سکیں، صارفین نے اس کو ایک تکلیف دہ تصویر قرار دیا ہے اور اس کے ساتھ وہ اسرائیل کے فلسطینی مسلمانوں پر امریکا کی مدد سے کیے جانے والے انسانیت سوز مظالم کی شدید مذمت کر رہے ہیں فلسطینی جب بڑے ہونگے تو اپنی ماں کا چہرہ دیکھنے کو ترسیں گے انہیں کیا پتا کہ ظالم دنیا نے انہیں شفقت بھری گود سے محروم کردیا غزہ کی ماﺅں کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں ہر روز کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہو رہا ہے جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں اور روزانہ بچے بوڑھے جوان خواتین کو قتل کیا جا رہا ہے عرب ممالک سمیت کوئی بھی قاتل اسرائیل کا ہاتھ روکنے کی کوشش نہیں کر رہااب تک سوائے مذمتوں کے کچھ نہیں کیا گیا عالمی امدادی تنظیمیں مل کر بھی غزہ کی ماﺅںکے درد کو کم کرنے میں ناکام ہیں، غزہ کی مائیں اپنے بچوں کے لاپتہ یا شہید ہونے کے خوف کے سائے میں سسک سسک کر زندگی کے دن پورے کررہی ہیں غزہ کے علاقہ ملبے کا ڈھیر بن چکے ہےں جب کہ آبادی کا بہت بڑا حصہ نقل مکانی کر چکا ہے،غزہ کی کئی مائیں ترس گئی ہیں کہ اب انہیں ماں کون کہے گا ماں کا عالمی دن منانے والوں کو غزہ کی مائیں نظر نہیں آتیں جو اپنے بچوں کو جوان ہوتا نہ دیکھ سکیں جب ٹرمپ پر حملہ ہوا تو وہاں کچھ حاملہ خواتین بھی تھیں جنہیں محفوظ طریقے سے وہاں سے نکالا گیایونکہ ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے کسی مسلمان کے بچے تو نہیں ہونگے غزہ میں بے گناہ مارے بچے اور ان کی مائیں تو مسلمان ہیں اسی لئے ماﺅں کا عالمی دن منانے والوں کو غزہ کی بے بس مائیں نظر نہیں آتیں؟؟؟۔

ٹیگز: