Wed, September 16, 2026

عظیم پولیس افسر کے عظیم والد کی وفات

 عظیم پولیس افسر کے عظیم والد کی وفات

میرے بہت ہی محترم بھائی عامر ذوالفقار خان کے والد محمد ذوالفقار خان کا اگلے روز انتقال ہو گیا، مجھے نہیں معلوم اْن کی صحیح عمر کیا تھی ؟ ستر برس سے شاید اْوپر کے ہی ہوں گے، والدین جس عمر میں بھی ہوں دنیا سے جب رخصت ہوتے ہیں اْن کی کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا ، ہم والدین کے انتقال کو کم اْن کی کمی کو زیادہ روتے ہیں ، میں نے شاید پہلے بھی عرض کیا تھا دنیا کے تمام رشتے کسی نہ کسی باہمی مفاد یا مطلب سے جڑے ہوتے ہیں ، صرف دو رشتے یک طرفہ ہیں ، ایک اللہ کا اپنے بندے سے رشتہ دوسرا والدین کا اپنی اولاد سے رشتہ ، آپ اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں نہ چلیں ، نماز پڑھیں نہ پڑھیں ، باقی دینی فرائض پورے کریں نہ کریں، اللہ کی مانیں نہ مانیں ، اللہ آپ کو نوازتا رہتا ہے ، سب سے بڑھ کر یہ وہ رزق بند نہیں کرتا جس کی بنیاد پر آپ زندہ رہتے ہیں ، دوسرا رشتہ والدین کا اپنی اولاد سے ہوتا ہے ، آپ اپنے والدین کی عزت یا خدمت کریں نہ کریں، اْن کی مانیں نہ مانیں ، حتیٰ کہ اْن کی نافرمانی بھی کریں  وہ آپ سے محبت ہی کرتے ہیں ، کبھی آپ کا بْرا نہیں چاہتے ، کبھی آپ کو بددعا نہیں دیتے ، اگلے روز میں فون پر اپنے بھائی عامر ذوالفقار خان کو بتا رہا تھا ’’جب تک میرے والد زندہ رہے میں نے لکھتے ہوئے کبھی نہیں سوچا تھا میری کسی تحریر کسی کالم یا کسی جملے کا مجھے کوئی نقصان ہو سکتا ہے ، جب سے وہ انتقال فرما گئے میں بزدل ہوگیا ، میں پہلے جیسا دلیر نہیں رہا ، میں اب ویسے نہیں لکھ پاتا جو ایک زمانے میں میری شناخت تھی ، اب تو دلیری کا بس دال دلیہ ہی کرتا ہوں اور وہ بھی حکمرانوں سے برداشت نہیں ہوتا ، اور وہ ایسی ایسی سازشیں کرتے ہیں کہ زندگی موت عزت ذلت اللہ اختیار میں نہ ہوتیں اْن کی ہر سازش کامیاب ہو جاتی ، عامر ذوالفقار خان کے والد محمد ذوالفقار خان میجر ریٹائرڈ تھے ، اْنیس سو پینسٹھ کی جنگ میں دشمن کو ناکوں چنے چبواتے ہوئے وہ زخمی ہوگئے ، فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں کام کیا مگر جس گریس کے ساتھ اْنہوں نے اْس وقت کی افواج پاکستان میں کام کیا تھا وہ گریس فوڈ ڈیپارٹمنٹ یا کسی اور سول محکمے میں اْنہیں بھلا کہاں ملنا تھی ؟ سو کچھ ہی عرصے بعد فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو اْنہوں نے خود ہی خیرباد کہہ کر اپنی جائز کمائی کا ذریعہ اْن زمینوں کو بنا لیا جو وراثتی طور پر اْن کے پاس تھیں ، اْن کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا ،اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اْنہوں نے پڑھایا ، اْن کے تمام بچے بڑے لائق فائق ہیں ، عامر ذوالفقار خان سی ایس ایس نہیں کرنا چاہتے تھے، اْن کی سکالرشپ ہو گئی تھی ، وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جانے لگے اْن کے والد نے اْن سے کہا ’’میں نہیں چاہتا تم مجھے چھوڑ کر جاو‘‘ ، اپنے والد کی اس خواہش کو پیش نظر رکھتے ہوئے امریکہ جانے کا فیصلہ اْنہوں نے ترک کر دیا اور سی ایس ایس کی تیاری شروع کر دی ، اب اللہ کے فضل سے وہ آئی جی کے عہدے پر ہیں ، اْن کی بے شمار خوبیوں میں ایک یہ بھی ہے وہ بڑے بڑے عہدوں پر رہے کبھی تکبر نہیں کیا ،دوسری خوبی یہ ہے اپنے دوستوں کو وہ بہت عزت دیتے ہیں ،میرا اْن کے ساتھ ادب احترام اور باہمی محبت کا انتہائی مضبوط رشتہ جو پچھلے کئی برس سے جْڑا ہے اْس کا اندازہ آپ اس واقعے سے لگا لیں ، وہ جب آئی جی اسلام آباد تھے ، موجودہ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے مجھ سے کہا ’’ آئی جی اسلام آباد کسی بات پر مجھ سے سخت خفا ہوگئے ہیں ، میں نے لاہور میں بڑی مشکل سے اپنی پوسٹنگ بطور سیکرٹری واپڈا کرائی ہے ، مزید اچھی پوسٹنگ کی کوشش کر رہا ہوں ، مجھے خدشہ ہے عامر ذوالفقار خان مجھے کوئی نقصان نہ پہنچا دیں‘‘، میں نے بلال صدیق کمیانہ سے کہا ’’کسی کو عملی طور پر نقصان پہنچانے کی عامر ذوالفقار خان کی فطرت ہی نہیں ہے چنانچہ آپ بے فکر رہیں ‘‘ ، بلال کمیانہ میری اس بات سے مطمئن نہ ہوئے ، اپنا کام یا مطلب نکلوانے کے لئے وہ بڑی بے چین روح ہیں ، اْنہوں نے اصرار کیا ’’آپ میرے ساتھ اسلام آباد چلیں ہم اْن سے مل آتے ہیں‘‘، میں نے اس مقصد کے لیے عامر ذوالفقار خان کو فون کیا پہلے تو وہ بلال کمیانہ سے ملنے کے لیے راضی نہ ہوئے ، میرے مسلسل اصرار پر فرمانے لگے ’’اچھا ٹھیک ہے آپ اتنا لمبا سفر کر کے اسلام آباد نہ آئیں ، میں نے پرسوں ہفتے کو لاہور آنا ہے ، میں سیدھا آپ کے گھر آ جاؤں گا آپ اْسے وہیں بلا لیں ‘‘، پھر ایسے ہی ہوا،میرے گھر پر بلال کمیانہ سے اْن کی ملاقات ہوئی ، بلال کمیانہ نے کسی جگہ بیٹھ کر اْن کے اور اْن کی فیملی کے خلاف کہے ہوئے اپنے الفاظ پر معذرت کی ، جسے اْنہوں نے صدق دل سے قبول کر کے میری جو عزت افزائی فرمائی میں آج بھی اْن کا ممنون ہوں ، ایسی عاجزی اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ محمد ذوالفقار خان کا بیٹا عامر ذوالفقار خان ہی کر سکتا تھا ، بلال کمیانہ آج تکبر کے جس مقام پر ہے اس سے تھوڑا سا وہ پیچھے ہٹ گیا ہوتا آئی جی پنجاب بننے کی اْس کی خواہش یا کوشش اب تک شاید پوری ہوگئی ہوتی ، ایک اور خوبی بھی محمد ذوالفقار خان کے بیٹے عامر ذوالفقار خان کی میں آپ کو بتاتا چلوں ، اْنہوں نے کبھی ایسا کام نہیں کیا جس سے حکمران راضی اور اللہ اْن سے ناراض ہو جائے ، پچھلی نگران حکومت جنہوں نے تشکیل دی وہ جانتے تھے اْس دور کے آئی جی پنجاب عامر ذوالفقار خان سے اپنی مرضی کا ظلم وہ نہیں کروا سکیں گے ، نہ اپنے لئے لمبی چوڑی ’’دیہاڑیوں‘‘کا بندوبست وہ اْن سے کرا سکیں گے ،چنانچہ سب سے پہلے اْنہوں نے اْنہیں ہٹانے کا بندوبست کیا، اْس کے بعد جو ستم پنجاب پولیس کے کچھ افسروں نے لوگوں پر ڈھائے اور مال بنائے خاص طور پر کچھ افسروں نے بیرون مْلک جو جائیدادیں بنائیں ،جو قبضے یہاں کرائے یا چْھڑائے اور اْن کی رقمیں بیرون مْلک پکڑیں ، وہ اس کرپٹ اور کریمینل سسٹم کی زد میں تو شاید نہ آسکیں مگر اللہ کا جو سسٹم ہے اْس کی پکڑ میں اک نہ اک دن ضرور آئیں گے چاہے دْنیا کے کسی کونے میں جاکر وہ چْھپ جائیں ، محمد ذوالفقار خان کے بیٹے عامر ذوالفقار کے لئے شْکر کا مقام تھا اْنہیں آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا ، اْس کے بعد بھی اْنہیں کسی ایسے عہدے پر نہیں لگایا گیا جہاں اپنی طبیعت کے مطابق وہ  حکمرانوں کی ’’خدمت‘‘ نہ کرسکتے ، عامر ذوالفقار خان نے اپنے والد کی بہت خدمت کی ، اْن کے چھوٹے بھائی عمر ذوالفقار خان نے اْن سے بھی زیادہ کی ، نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد بیشمار پولیس افسران ، اْن کے عزیز واقارب اْن کے دوست احباب سب مسجد میں اْنہیں ڈھونڈ رہے تھے اور وہ غم سے نڈھال مسجد سے باہر ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے ، میں نے اْن کے عظیم والد کا آخری دیدار کیا ، اتنا پْرنور ، اتنا خوبصورت اتنا مطمئن ، اتنا بابرکت و باریش چہرہ مرنے والوں کو کم ہی نصیب ہوتا ہے ، مجھے یقین ہے یہی چہرہ لے کر وہ سیدھا جنت میں چلے جائیں گے ( ان شاء اللہ )

ٹیگز: