Wed, September 16, 2026

تاجر برادری ، افواج پاکستان اورتین لیڈروں کا ملاپ

تاجر برادری ، افواج پاکستان اورتین لیڈروں کا ملاپ

(آخری حصہ)
پائنیر گروپ کے چیئرمین علی حسام نے اپنی تقریر میں پاک افواج خاص کر فضائیہ کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارا سر پوری دنیا کے آگے سرخرو ہو گیا ہے۔ ایک طویل عرصہ کے بعد قوم کے اندر جذبے کی جو امید آپ نے جگائی اور قوم کو قوم بنانے میں جو کردار ادا کیا اس پر ہم جنرل عاصم منیر کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ناصرف بھارت کو جو اس خطے میں چوہدری بننے جا رہا تھا اس کی چوہدراہٹ اور غرور کو توڑا بلکہ دشمن کو یہ بات باور کرا دی کہ ہم دنیا کی بہتری اور بڑی فوج ہیں۔ ہماری جانیں بھی پاکستان پر قربان ہیں۔اب ذکر کروں گا پیاف کے اہم راہنما محمد علی میاں کا انہوں نے میرے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ قوم سرخرو… فوج سرخرو… شہداء امر ہوگئے… غازیوں اور مجاہدین کو سلام… ڈاکٹر قدیر کو خراج تحسین۔ لیکن جو مار آج ہماری فوج خصوصاً ایئرفورس نے ماری ہے، اس سے دنیا بھر میں اور خصوصاً بھارت میں ہماری دھاک بیٹھ چکی ہے۔ دنیا کو اندازہ ہوگیا ہے کہ ہمارے پاس انڈیا سے کہیں سے پروفیشنل فورسزز موجود ہیں۔ انڈیا کو صرف ایک دن کی عبرت ناک مار سے ایک نئی تاریخ رقم ہوگئی۔ اسرائیل اور عالمی طاقتوں کو پتہ چل گیا کہ پاکستان ایک طاقتور ملک ہے۔ مسئلہ کشمیر ایک بار پھر زندہ ہوگیا اور 71ء کی شکست کا داغ بھی دھل گیا۔ یہ طعنہ بھی بے معنی ہوا کہ ہماری فوج صرف ملی نغمے تیار کرتی ہے، یہ تاثر بھی زائل ہوا کہ 65ء کی جنگ کے بہادری کے معرکے جو ہم نے کتابوں میں پڑھے اور بزرگوں سے سنے، وہ محض قصے تھے۔آج کی نئی نسل کو اگلے کئی سالوں تک فخر سے سر اٹھا کر چلنے کا جواز مل گیا۔الحمدللہ ملک کا اور فوج کا امیج ساری دنیا میں بلند ہوا۔ بارہا کتابوں، خبروں اور بیانوں میں پڑھا اور سنا کہ ’’قوم کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔‘‘ آج یقین بھی ہوگیا۔ 
حالیہ دنوں میں پاکستان کو تین محاذوں پر بڑی کامیابیاں ملیں۔ ہم نے بھارت کو بھارت کے اندر جا کر تباہ کیا، ہم نے سفارتی سطح پر بڑی جنگ جیتی اور سپر طاقتوں کو بھی پاکستان کی اہمیت اور سالمیت کا احساس تو ہوا۔ تیسرا آئی ایم ایف نے اپنی قسط جاری کی۔ میرے خیال میں ایک جنگ ایسی ہے جو اس جذبے کے ساتھ لڑی جائے تو پاکستان دنیا کو فتح کر سکتا ہے اور وہ ہے معاشی جنگ اور یہ معاشی جنگ حکومت اکیلے نہیں لڑ سکتی۔ اس کے لئے پاکستان بھر کی تاجر برادری کو متحد ہونے کے ساتھ ساتھ ہر ایشو پر حکومت کو انگیج کرنا ہوگا۔ اگر یہی تاجر برادری دنوں میں کروڑوں روپے اکٹھے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو معاشی جنگ میں اس کے بڑھتے کردار کو دیکھنا ہوگا۔ موجودہ حکومت گزشتہ ڈیڑھ سال سے معاشی جنگ سے دوچار ہے اور کسی حد تک اس نے قابو تو پا لیا ہے اور یہاں جنرل عاصم منیر کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے معاشی سمت کو مومنٹ کرنے میں اپنا بہترین کردار ادا کیا کراچی اور لاہور کی تاجر برادری کے ساتھ ملاقاتوں میں یہی پیغام دیا کہ آئیں ہم آپ کے ساتھ مل کر اس ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر کریں۔ میری موجودہ تاجر لیڈرشپ سے گزارش ہے کہ وہ معاشی جنگ کو فتح کرنے کے لئے آگے آئیں اور آج وقت ہے حکومت کے ساتھ ہاتھ ملانے کا۔ آج وقت ہے مل جل کے آئی ایم ایف سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑانے کا۔ ٹریڈ سیاست کے بہائو میں اپنی اصل ذمہ داریوں کو نہ بھولیں۔ یہ ملک آپ ہی نے سنوارنا ہے کہ کسی قوم کی ترقی اور کامیابی میں تاجروں کا ہی بڑا کردار ہوتا ہے۔ وہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ انہوں نے ہی معاشی ٹریک کے راستوں کا تعین کرنا ہے اور یہ اسی صورت میں ہوگا جب تمام تاجر یہ سوچ لیں کہ سیاست سے پہلے ملک کی خدمت آج جتنا زور سیاست پر لگایا جاتا ہے اگر اسی کو آپ حکومت کے دروازے کی طرف موڑیں کہ وہ تو چاہتی ہے کہ تاجروں کو ساتھ لے کر چلیں۔
اور آخری بات…
بات کسی کے بڑے یا چھوٹے ہونے کی نہیں ہوتی۔ ہر لیڈر کا اپنا ایک مزاج، ویژن، سوچ، لائحہ عمل اور وہ کس طرح ان کو ڈیلیور کرتا ہے۔ فرانس کے مرحوم صدر ڈیگال کا ایک قول لکھتا چلوں کہ عظیم انسانوں کے بغیر کوئی بڑا کام نہیں ہوتا اور عظیم فیصلے کرنے والے عظیم اس لئے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ارادوں میں پختگی ہوتی ہے اور ان کے مضبوط ارادے ان کو زندگی بھر متحرک رکھتے ہیں۔ ڈیگال کے اس قول کے بعد یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اپنے ارادوں کے بل بوتے پر تبدیلیاں اس وقت سامنے آتی ہیں جب اختیار اور طاقت دونوں کے درمیان افہام و تفہیم کے ساتھ بردباری کا مظاہر ہونے کے ساتھ دوسرے کو سمجھنے اور ساتھ لے کر چلنے کا عزم بھی پختہ ہو تب جا کر ایک ایک بڑی تنظیم کو بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور ہر معاملے کو سنجیدگی سے نہ لینے والا لیڈر ہو ہی نہیں سکتا۔ 
 آج اگر ٹریڈ سیاست کے حوالے سے بات کروں تو اس کے منظرنامے میں آج چار بڑے نام ایس ایم تنویر میاں انجم نثار، میاں مصباح الرحمن اور علی حسام جن کے بارے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ دونوں ٹریڈ سیاست کے تمام رموز سے واقف بلکہ ان کے اندر لیڈرشپ کی صلاحیتوں نے آج ان کو جو مقام دلوایا وہ کسی اور کے مقدر میں نظر نہیں آیا۔ انتخابی اور روٹین سیاست میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ 2024ء لاہور چیمبر کے انتخابی معرکہ میں بڑی تلخیاں سامنے آئیں، بڑے ٹکرائو دیکھے گئے مگر جس صبر و استحکام کا مظاہرہ ایس ایم تنویر میاں انجم نثار،میاں مصباح الرحمن اور علی حسام کی طرف سے سامنے آیا وہ تمام ٹریڈ لیڈرشپ کے لئے ایک بڑی مثال ہے۔ 

ٹیگز: