Wed, September 16, 2026

پاکستان میں خیر تقسیم کرنے کے ادارے 

پاکستان میں خیر تقسیم کرنے کے ادارے 

پاکستان میں خیر تقسیم کرنے کے حوالے سے سب سے بڑا نام اور مقام عبدالستار ایدھی کا ہے، اُس مقام پر شاید کوئی نہ پہنچ سکے مگر اُس کے لئے کچھ لوگ دل سے کوشاں ضرور ہیں، پاکستان میں دو طرح کے لوگ ہیں، ایک صرف دکھاوے کی نیکیاں کرتے ہیں، دُنیاوی لحاظ سے میں اُسے بھی بُرا نہیں سمجھتا، اگر کسی مستحق کو ان شہرت پسندوں سے کچھ مل جاتا ہے ہم کیوں غیر ضروری طور پر اُن کے نیکیوں کی نمائش کے شوق پر تنقید کریں؟ کچھ لوگ فطری طور پر ہی ایسے ہوتے ہیں نمود و نمائش کے بغیر نیکی کرنے کا اُنہیں لُطف ہی نہیں آتا، پاکستان کے حکمرانوں کو اس میں پہلا درجہ حاصل ہے، نیکی کر کے سوشل میڈیا میں ڈالنے کی سہولت اُنہیں میسر نہ ہو نے کی کا تصور ہی اُن کے ہاں شاید نہ ہو۔ اس کے برعکس کچھ لوگ بلکہ اکثر لوگ نیکی کی نمائش کے عمل کو نیکی ضائع کرنے کے برابر سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے کئی ”اللہ والے“ ہیں جو کروڑوں روپے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اُن کے نام تک کسی کو معلوم نہیں، ہمارے شاہ جمال میں سالہا سال سے کوئی نامعلوم صاحب یا صاحبہ روزانہ ایک وسیع دستر خوان کا اہتمام کرتے ہیں جہاں روزانہ رات کو بیشمار مستحق لوگ پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں، میں کئی برسوں سے یہ جاننے کی کوشش میں ہوں یہ صاحب یا صاحبہ کون ہیں؟ میں نے ارد گرد کے کئی لوگوں سے پوچھا، کوئی نہیں بتاتا، بس رات کو ایک وین کھانا لے کر آتی ہے، کچھ لوگ وہاں صفیں بچھا دیتے ہیں، مقررہ وقت پر لوگ خودبخود اُن پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں اور کھانا کھا کر چلے جاتے ہیں، میں نے وہاں بسنے والوں سے پوچھا ”آپ نے کبھی روزانہ وین پر کھانا لے کر آنے والوں سے یہ نہیں پوچھا، یہ کھانا کون بھجواتا ہے؟“۔ وہ کہتے ہیں ”ہم نے کئی بار بڑے اصرار سے پوچھا مگر وہ نہیں بتاتے“، اللہ اُنہیں جزائے خیر عطا فرمائے بلکہ یہ بھی جزائے خیر ہی کی ایک قسم ہے کہ خیر کے کاموں سے وہ بڑی مضبوطی سے جُڑے ہوئے ہیں۔ میں نے ایدھی صاحب کا ذکر کیا وہ دُنیا سے چلے گئے مگر اُن کا نام اور کام کہیں نہیں گیا، اگر کسی شخص کی نیت نیک ہو وہ جو شمع جلاتا ہے کبھی نہیں بُجھتی، عمران خان نے بھی شوکت خانم ہسپتال اسی نیک نیتی سے بنایا تھا، اس ادارے نے مستحق مریضوں کے بلاتفریق علاج میں جو نام اور مقام دُنیا میں بنا لیا ہے خان صاحب کی ناقص حکمرانی یا اُن پر لگنے والے کچھ الزامات بھی اس ہسپتال کی شہرت اور نیک نامی پر اثرانداز نہیں ہو سکے، اس کی ساکھ آج بھی بحال ہے، آج بھی دُنیا بھر سے لوگ کروڑوں اربوں روپے اس کی نذر کرتے ہیں، اُن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو سیاسی طور پر عمران خان کے بدترین مخالف ہیں، کل نون لیگ کے ایک انتہائی دولت مند نوجوان صوبائی وزیر مجھ سے ملنے آئے، میں نے اُن سے پوچھا ”آپ اپنی زکوٰة کسے دیتے ہیں؟“۔ اُنہوں نے شوکت خانم ہسپتال کا نام لیا، مجھے یہ سُن کر ذرا حیرت اس لئے نہیں ہوئی یہ نام ہی اعتماد کا ہے۔ اسی طرح ایک ادارہ ”اخوت“ ہے، اس کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب ہیں، بڑی حلیم طبیعت کے مالک ہیں، آج یہ ادارہ انسانی خدمات میں عالمی سطح کی شہرت رکھتا ہے، میں اس ادارے کا اُس وقت سے نوکر ہوں جب ڈاکٹر امجد ثاقب مسجدوں میں بیٹھ کر دس ہزار روپے کا بلا سُود قرض حسنہ مستحق لوگوں میں تقسیم کرتے تھے، یہ قرض حسنہ اب لاکھوں روپوں میں دیا جاتا ہے، اس ترقی کے پیچھے ڈاکٹر امجد ثاقب اُن کے کچھ انتہائی مخلص دوستوں اور اُن کی ٹیم کی محنت ہے جسے اب عالمی سطح پر سراہا جاتا ہے، اخوت نے کئی اور ادارے پیدا کیے، چند برس قبل قصور میں ایک انتہائی شاندار اخوت یونیورسٹی قائم کی گئی، یہاں مستحق لوگوں کو جدید تعلیم دی جاتی ہے، بچوں کو مختلف اقسام کے ہُنر سکھائے جاتے ہیں، اُنہیں اس قابل بنایا جاتا ہے وہ پاکستان میں یا دُنیا میں جہاں بھی جائیں پاکستان کا نام روشن کریں۔ علاوہ ازیں ان بچوں کو اُن اخلاقی روایات سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے جن کے فقدان سے معاشرہ بڑی تیزی سے اخلاقی پستی کا شکار ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی شخصیت اور خدمات پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے جانے چاہئیں۔ نوجوان نسل کو اپنے ہیروز سے متعارف ہونے کے بھرپور مواقع ملنے چاہئیں، شر پھیلانے والوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ خیر کی خوشبو پھیلا کر بھی کھڑی کی جا سکتی ہے۔ ایک اور ادارہ ہمارے محترم بھائی پاکستان کے بلکہ میں یہ کہوں گا دُنیا کے ممتاز ترین آرتھو پیڈک سرجن پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز کی سربراہی میں بھی پورے قد اور دم خم سے گُھرکی ہسپتال کے نام سے قائم ہے، یہ ہسپتال لاہور کی ایک سیاسی گُھرکی فیملی نے اپنے علاقے کے مستحق لوگوں کے فری علاج معالجے کے لیے بنایا تھا، ڈاکٹر عامر عزیز کی محنت اور قابلیت سے اللہ کے فضل سے یہ ادارہ اپنی انسانی خدمات کے باعث اب دُنیا بھر میں مقبول ہے، پہلے یہ صرف ہڈیوں کے علاج معالجے کی شناخت و ساکھ رکھتا تھا اب ہر بیماری حتیٰ کہ کینسر اور دل کے امراض کے علاج بھی یہاں ہوتے ہیں، گائنی اور بچوں کے امراض کے شعبے بھی فعال ہیں، سائبر نائف کے ذریعے شعاعوں سے مختلف اقسام کے کینسر ٹیومرز کا علاج بھی جاری ہے، سائبر نائف کی سہولت پاکستان بھر کے شاید صرف دو تین ہسپتالوں میں ہے جن میں ایک ہمارا گُھرکی ہسپتال ہے۔ اب اس سے بھی آگے کا کام یہ کیا جا رہا ہے کینسر کی جن اقسام کا علاج سائبر نائف سے ممکن نہیں اُس کے لیے جدید اور تازہ ترین ٹومو تھراپی کا الگ سے ایک شعبہ قائم کیا جا رہا ہے جس کے لیے ہسپتال کے اندر ایک بلڈنگ بڑی تیزی سے تعمیر کے مراحل طے کر رہی ہے۔ اس ٹومو تھراپی سے بریسٹ کینسر کا علاج بھی ممکن ہو جائے گا۔ گُھرکی ہستال کا اپنا میڈیکل کالج بھی تعمیر کے آخری مراحل میں ہے۔ اس ساری ترقی میں گُھرکی خاندان، بالخصوص گُھرکی ہسپتال کے سابق چیئرمین محسن بلال گُھرکی اور سی او نعیم گُھرکی کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں، ان لوگوں نے اپنی زندگیاں مکمل طور پر ایک عظیم مقصد کے لئے وقف کر دی ہوئی ہیں، یہ سب عبدالستار ایدھی کے نام کے ایک گھنے درخت پر لگنے والے پھل ہیں۔ یہ سب اُس درخت کی شاخیں ہیں جو مستحق لوگوں کو سرکاری طور پر صحت اور علاج معالجے کی انتہائی ناقص سہولیات کی کڑی دھوپ میں سایہ فراہم کر رہی ہیں۔  (جاری ہے)

ٹیگز: