راولپنڈی: وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سانحہ جعفر ایکسپریس کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے ہمراہ اہم نیوز کانفرنس کی، جس میں انہوں نے اس واقعے کی تفصیلات پر روشنی ڈالی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دہشت گرد مختلف گروپوں میں تقسیم تھے، جنہوں نے مسافروں کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ ایک گروپ نے خواتین اور بچوں کو ٹرین کے اندر رکھا جبکہ دوسرا گروپ مسافروں کو ٹرین سے باہر لے جا کر دشوار گزار پہاڑی علاقے میں بٹھا رہا تھا۔ دہشت گردوں کے ساتھ خودکش بمبار بھی موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی پر سراہا اور کہا کہ پاک فوج نے یرغمالیوں کی بحفاظت رہائی کو ممکن بنایا، جو قابل تحسین ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی، اور علیحدگی پسندوں کے ساتھ دہشت گردوں جیسا برتاؤ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سرفراز بگٹی نے جعفر ایکسپریس پر حملے کی مذمت کرنے پر عالمی رہنماؤں اور تنظیموں کا شکریہ ادا کیا، جن میں امریکا، چین، روس، ایران، ترکی، اور یورپی ممالک شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ روایات میں اس قسم کے واقعات کو اس انداز میں دیکھنا قطعی طور پر درست نہیں ہے کیونکہ دہشت گردوں نے بلوچ روایات کو پامال کیا ہے۔ اس لیے ان دہشت گردوں کو بلوچ کہنا مناسب نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پی ٹی آئی کی حکومت پر دہشت گردوں کو پاکستان میں لا کر بسائے جانے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دہشت گردوں کی سرپرستی بھارتی ایجنسی "را" کر رہی ہے اور ان دہشت گردوں کی "نانی" بھی 'را' ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس دہشت گردی کے خلاف ہمیں ریاستی سطح پر مؤثر ردعمل دینا چاہیے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا صرف پاکستان میں ہی مسنگ پرسنز کا مسئلہ ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری فورسز کے پاس دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے اور انہیں ختم کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لاپتا افراد کو تلاش کرے اور انہیں انصاف فراہم کرے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے پر بھی شدید ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے جعلی ویڈیوز کا استعمال کیا اور مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ویڈیوز تیار کر کے ان کو اس سانحے سے جوڑا۔ بھارتی میڈیا نے اس واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور سوشل میڈیا سے پرانی فوٹیجز اٹھا کر انہیں اس سانحے کے ساتھ جوڑ دیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے اس بات کو واضح کیا کہ بھارتی میڈیا نے دہشت گرد گروپوں کی فراہم کردہ پرانی ویڈیوز کو چلایا اور ان ویڈیوز کو اس واقعے سے جوڑنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی تجزیہ کاروں نے AI امیجز اور دہشت گرد گروپوں کی ویڈیوز کے ذریعے ایک جھوٹا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے تمام عزائم کو ناکام بنایا اور یرغمالیوں کو بحفاظت ایک محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے دوران زیادہ تر دہشت گرد فرار ہوگئے اور سیکیورٹی فورسز نے ان کے منصوبوں کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن میں دہشت گردوں کے پاس غیر ملکی اسلحہ اور آلات تھے، جن کا استعمال دہشت گردوں کی کارروائیوں میں کیا جا رہا تھا۔ تاہم، سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر آپریشن شروع کرتے ہوئے بازیاب ہونے والے مسافروں کو خوراک فراہم کی اور فورسز کی نگرانی میں انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ تاریخ میں جتنے بھی ٹرین یرغمال بنانے کے واقعات ہوئے ہیں، یہ آپریشن ان سب میں سب سے کامیاب تھا۔ 36 گھنٹوں کے اندر، انتہائی دشوار گزار علاقے میں خودکش بمباروں کی موجودگی کے باوجود، پاک فوج، ایئر فورس اور ایف سی نے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ اس آپریشن کو کامیابی سے مکمل کیا۔
اس آپریشن کی کامیابی کو سراہتے ہوئے، ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گردوں کے تمام منصوبوں کو ناکام بنایا گیا اور یرغمالیوں کی بحفاظت رہائی ممکن ہوئی، جس سے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور حکمت عملی کا بہترین مظاہرہ ہوا۔