Wed, September 16, 2026

احتجاج نہیں ریاست پرحملہ

احتجاج نہیں ریاست پرحملہ

ریاست توماں جیسی ہوتی ہے بھلاماں کوبھی کوئی آنکھیں دکھاتا اور اس پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔؟ ماں کےلئے تواولادجان دیتی ہے پھر یہ کیسے نافرمان اور ناحلف بچے ہیں کہ جواپنی ہی ماں یعنی ریاست کو بے جان کرنے پرتلے ہوئے ہیں۔ہم نے توآج تک ماں اورریاست میں کوئی فرق نہیں کیانہ ہی ریاست نے کبھی کوئی فرق محسوس ہونے دیا۔جس طرح ماں اپنی اولاد کی پرورش اور حفاظت کرکے ہر مشکل گھڑی میں ان کے لئے ڈھال بن جاتی ہے اسی طرح ریاست بھی اپنے شہریوں کے حقوق، سلامتی اور مستقبل کی ضامن ہوتی ہے۔ آزادکشمیر کے حالیہ واقعات اورحالات کودیکھ کراس ملک وقوم کے ہر باشعور اوردرددل رکھنے والے شہری کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیئے کہ کیا کوئی اپنی ماں کے خلاف اسلحہ اٹھاتا ہے۔؟ کیا کوئی اپنی ماں کو کمزور کرنے، اسے نقصان پہنچانے یا پھر اس کی عزت اوروقارکومجروح کرنے کی کوشش کرتا ہے۔؟ نہیں ہرگز نہیں۔ احتجاج،ہڑتال اور اختلاف رائے یہ نہ صرف جمہوریت بلکہ ہرمعاشرے کا حسن ہے جبکہ انسانوں کی موجودگی میں مسائل کاوجودایک مسلمہ حقیقت لیکن ان مسائل کے حل کاراستہ تصادم، تشدد، نفرت،گولی،گالی، توڑپھوڑ اور جلا¶گھیرا¶ نہیںبلکہ مذاکرات، صبر، اعتماد، برداشت اور قانون کی پاسداری ہی ہے۔ ریاست جتنی مضبوط ہوگی عوام اتنے ہی محفوظ اور باوقار ہوں گے۔اس لئے اپنے جائز حقوق کے لئے آواز اٹھاتے ہوئے بھی اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ہمارے اقدامات ملک، معاشرے اور قومی وحدت کو کمزور کرنے کا سبب نہ بنیں۔ ہم مانتے ہیں کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوام کو اپنے حقوق اور مطالبات کے لئے آواز بلند کرنے کاپوراحق حاصل ہے تاہم جب احتجاج کا راستہ تشدد، تصادم اور خونریزی کی طرف مڑ جائے تو اس کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں اورکسی بھی ملک اورمعاشرے میں ایسے احتجاج کی پھر حمایت وتائیدنہیں کی جاسکتی۔آزادکشمیرکے اندر حالیہ دنوں میں عوامی مطالبات اور مسائل کے نام پر جو کشیدگی،ہنگامہ آرائی اور تصادم دیکھنے میں آیا ہے اس نے عوامی جدوجہد کے اصل مقاصد کو بھی بہت نقصان پہنچایا ہے۔ احتجاج اگر آئین،قانون اور نظم و ضبط کے دائرے میں رہے تو مسائل کے حل کی راہ ہموار کرتا ہے لیکن جب جذبات اشتعال میں بدل جائیں اور حالات آگ اور خون کے کھیل کی صورت اختیار کر لیں توپھرنقصان بے گناہ عوام، قومی اداروں اور پورے ملک وقوم کواٹھاناپڑتا ہے۔ 
عوامی مسائل کے حل اورمطالبات کی منظوری کےلئے پرامن احتجاج اوردھرنے کی کوئی مخالفت نہیں کرتا۔تحریک انصاف نے اسلام آبادمیں ایک سوبیس دن سے زیادہ دھرنادیاکسی نے مخالفت نہیں کی بلکہ حکومت نے باقاعدہ دھرنادینے والوں کوسہولیات فراہم کیں لیکن آزادکشمیرمیں احتجاج اوردھرنے کے نام پرشرارت کے جوشعلے جلائے گئے حکومت اورریاست کیا۔؟کوئی بھی محب وطن شہری احتجاج کے نام پرایسی غلاظت،خباثت اورشرارت کی حمایت نہیں کرسکتا۔
ایک ایسے وقت میں جب ہماراازلی دشمن بھارت دس مئی کے زخم چاٹتے پھررہاہے اوراس کی خواہش ہے کہ پاکستان میں توڑپھوڑ، جلا¶ گھیرا¶اوردنگافسادہو۔ایسے میں آزادکشمیرکے اندراحتجاج کے نام پرفسادبرپا کرنا یہ کوئی معمولی، چھوٹی اوردرگزروالی بات نہیں۔
پاک بھارت کشیدہ حالات کے باعث خطہ جب پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اوران حالات میں قومی یکجہتی اور داخلی استحکام کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے ایسے میں اپنے ہاتھوں سے امن کوآگ لگانا یہ کوئی دانشمندی اور حب الوطنی نہیں۔ مودیوں جیسے پڑوسیوں کے شرسے بچنے کےلئے توپہلے بھی ہمیں چوکنا اور جاگنا پڑتا تھا، بھارت کے معاملے میں ہم پہلے بھی کبھی بے فکرنہیں رہے لیکن دس مئی کے تاریخ سازدن اوردندان شکن جواب کے بعداب ہندوستان کے بارے میں کان مسلسل اونچے اور آنکھیں شب وروزکھلی رکھناہمارے لئے لازم ہو گیا ہے کیونکہ پاک بھارت تنا¶ کے بعد خطے کو آگ وخون میں جھونکنے کے لئے مودی اور موذی باﺅلے ہو کر پھر رہے ہیں۔اس لئے بھارت سمیت پاکستان کے دیگردشمن آزادکشمیرسمیت ملک کے دیگرعلاقوں اورصوبوں میںاس طرح کے انتشار اور بے چینی کو اپنے مفادات کےلئے استعمال کرنے سے کبھی بھی گریزنہیں کریں گے۔بھارت توپہلے ہی ایسے مواقع کی تلاش میں بیٹھارہتاتھااب تودس مئی کے زخم سے دشمنی کی آگ مزیدبھڑک اٹھی ہے۔ اب تواسے ایسے مواقع کی پہلے سے زیادہ تلاش ہے۔اس لئے ہمیں اپنے ہاتھوں سے ملک وقوم کےلئے ایسے مسائل پیدانہیں کرنے چاہئیے جن کوہمارے خلاف استعمال کرکے دشمن کوئی فائدہ اٹھاسکے۔غیروں کے اشاروں پرچلنے والوں کوایک بات یادرکھنی چاہئیے کہ داخلی انتشار ہمیشہ قومی مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لئے آواز بلند کرتے وقت یہ بات پیش نظر رکھی جائے کہ احتجاج اور مطالبات کسی ایسے رخ پر نہ چلے جائیں جو امن و امان، قومی یکجہتی اور ملکی سلامتی کے لئے خطرہ بن جائے۔ دوسروں کے اشاروں پر چل کر یا جذباتی نعروں کے زیر اثر اپنے ہی شہروں، اداروں اور معاشرے کو نقصان پہنچانا نہ دانشمندی ہے اور نہ ہی کوئی انسانیت۔ عوام کے یہ چھوٹے موٹے مسائل بھی تب ہی حل ہوں گے جب قوم متحد اور ملک مضبوط ہو گا۔ ملک کو کمزور کرنے سے کبھی مسائل حل ہوئے ہیں؟۔

ٹیگز: