Wed, September 16, 2026

ماحولیاتی بحران اور کشمیر 

ماحولیاتی بحران اور کشمیر 


بھارت کے ناجائز قبضے کے باوجود کشمیر کو دنیا ہمیشہ ایک خوبصورت وادی کے طور پر دیکھتی رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ خطہ کرئہ ارض کے خطرناک ترین ماحولیاتی زونز میں تبدیل ہو رہا ہے۔ گلیشیئر پگھل رہے ہیں، موسم بے ترتیب ہو رہے ہیں، دریاﺅں کے بہاو¿ میں شدید تبدیلیاں آ رہی ہیں، بارشوں کا نظام غیر متوازن ہے اور جنگلات سکڑ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک ہنگامی ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ آج صرف سیاست یا خودمختاری کا نہیں رہا بلکہ یہ ایک ماحولیاتی تباہی کا مسئلہ ہے جس پر دنیا مسلسل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ کشمیر میں گلیشیئرز نہ صرف برف کے پہاڑ ہیں بلکہ پورے خطے کے پانی، زراعت، پن بجلی اور حیاتیاتی نظام کی بنیاد بھی ہیں۔ تازہ ترین سائنسی رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہاں کے بڑے گلیشیئر، خصوصاً کوہلائی، پرتوں کی رفتار سے پگھل رہے ہیں۔ یہ رفتار ہمالیائی خطے کے دیگر حصوں سے کہیں زیادہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ درجہ حرارت کا بڑھنا، سیاہ کاربن، جنگلات کی کمی اور انسانی سرگرمیوں میں اضافہ ہے۔ یہ پگھلاو¿ براہِ راست نہ صرف کشمیر بلکہ پاکستان کے دریائی نظام کو بھی متاثر کرتا ہے۔ سیزن سے پہلے آنے والے سیلاب، غیر متوقع بارشیں، خشک سالی ، موسمی شدتیں اور دریاﺅں میں پانی کی شدت میں اچانک اضافہ وہ عوامل ہیں جن کا تعلق اسی پگھلاو¿ سے ہے۔
کشمیر کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے مگر بدلتے موسموں نے کسانوں کی پوری زندگی کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ کبھی بارشیں معمول سے زیادہ، کبھی بالکل کم، کبھی برف باری میں بڑے پیمانے پر کمی اور کبھی اچانک ژالہ باری۔ یہ سب وہ حالات ہیں جنہوں نے فصلوں کو نقصان پہنچایا، پھلوں کی پیداوار میں کمی کی اور مقامی منڈیوں کے استحکام کو توڑا۔ سیب، چاول اور زعفران جیسے بنیادی زرعی شعبوں میں خطرناک تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ کشمیر کی دیہی آبادی اب 
موسم کا بھروسہ نہیں کر سکتی اور یہ عدم استحکام مستقبل میں بڑے پیمانے پر اندرونی نقل مکانی (Climate Displacement) کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ 
جنگلی حیات بھی اس بحران کی براہِ راست شکار ہے خاص طور پر برفانی چیتے، ریڈ ڈیئر، براو¿ن بیئر اور دیگر نایاب جانور اپنے مسکن کھو رہے ہیں۔ جنگل ختم ہو رہے ہیں، چراگاہیں سکڑ رہی ہیں، دریا آلودہ ہو رہے ہیں اور انسانی آبادی جنگلی حدود میں داخل ہوتی جا رہی ہے۔ سائنسدانوں نے اسے ایک ”Slow-Motion Biodiversity Collapse“ کہا ہے یعنی تباہی جو دھیرے دھیرے مگر یقینی طور پر مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ حیاتیاتی زوال صرف جانوروں کے خاتمے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ اس زنجیر کو توڑ دیتا ہے جو انسان اور فطرت کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہے۔ 
پانی کے بہاو¿ میں تبدیلی پن بجلی کے منصوبوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ کشمیر میں کئی ہائیڈرو پاور پروجیکٹس ہیں جو دریا کے مستحکم اور متوازن بہاو¿ پر منحصر ہیں مگر پانی کبھی بہت زیادہ اور کبھی بہت کم ہونے کے باعث ان منصوبوں کی پیداوار میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ اس کا اثر صرف مقامی سطح پر نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت دونوں کے پاور گرڈز تک جاتا ہے۔ تاہم دونوں ممالک اپنی توانائی کے حصے کو ثابت رکھنے کے لیے نئے ڈیم اور ذخائر بنانے کی دوڑ میں ہیں مگر ماحولیات دانوں کے مطابق یہ دوڑ مزید ماحولیاتی نقصان کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ دریاو¿ں پر بننے والے یہ بھاری کنکریٹ کے ڈھانچے اور پہاڑوں کا سینہ چیر کر بنائی جانے والی سرنگیں اس خطے کی جیو-ٹیکٹونک ساخت کو کمزور کر رہی ہیں۔ 
آب و ہوا میں اس تبدیلی کا سیاسی اور سیکورٹی تناظر بھی ہے۔ جب دریا خشک ہوتے ہیں تو زرعی مسائل بڑھتے ہیں، غربت میں اضافہ ہوتا ہے اور نوجوان آبادی بے روزگاری کے باعث بدامنی کی طرف مائل ہو سکتی ہے۔ اسی طرح غیر متوقع سیلاب اور بادل پھٹنے جیسے واقعات فوجی چوکیوں، سرحدی علاقوں، دیہی سہولیات اور سڑکوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یوں یہ ماحولاتی بحران صرف ایک قدرتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مکمل سیکورٹی کرائسز بھی ہے۔ جب وسائل کم ہو جاتے ہیں تو ان پر قبضے کی جنگ تیز ہو جاتی ہے اور کشمیر جیسے متنازعہ خطے میں یہ صورتحال جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے۔ پانی کی ہر ایک بوند پر ہونے والا تنازعہ آنے والے وقت میں دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان ایک نئی سیکیورٹی لائن کھینچ سکتا ہے، جہاں بندوقیں زمین کے لیے نہیں بلکہ پانی کے حقوق کے لیے چلیں گی۔ یہ ماحولیاتی عدم استحکام خطے کے سیاسی منظر نامے کو مزید سنگین اور لاینحل بنا رہا ہے۔
بین الاقوامی جرائد میں کشمیر کے ماحولاتی بحران کو اب "South Asia’s Climate Hotspot" کہا جا رہا ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ دنیا اسے صرف ایک سیاسی تنازعہ کے طور پر لیتی ہے۔ اس کی ماحولیاتی تباہی کہیں زیادہ تیز، کہیں زیادہ خاموش اور کہیں زیادہ مسلسل ہے۔ اگر عالمی سائنسی ادارے اس علاقے کی نگرانی نہ کرتے تو شاید آج بھی یہ بحران دنیا کے لئے غیر مرئی رہتا۔ عالمی طاقتیں اور بین الاقوامی ادارے ہمیشہ جغرافیائی اور تزویراتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ زمین کا یہ اندرونی زخم ان کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ کشمیر کی یہ خاموش نسل کشی کسی اخبار کی شہ سرخی نہیں بنتی کیونکہ اس میں بارود کا دھواں نہیں ہوتا لیکن اس کا اثر کسی بھی روایتی جنگ سے کہیں زیادہ مستقل اور دور رس ہے۔کشمیر کی فضا میں تیز ہوتی گرمی، بے ترتیب بارشیں، گلیشیئرز کی ٹوٹ پھوٹ اور دریاو¿ں میں اچانک طغیانی ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اگر سیاسی تنازعہ ایک دن حل بھی ہو جائے، تب بھی کشمیر کو ایسے ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا رہے گا جو آنے والی نسلوں کی بقا کو متاثر کریں گے۔

ٹیگز: