Wed, September 16, 2026

اللہ کس کے ساتھ ہے ؟

اللہ کس کے ساتھ ہے ؟


آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے نے ایرانی قوم کو یکجا ہونے اور قوم کی آواز دنیا تک پہنچانے کا کام بخوبی سر انجام دیا ہے ایران گزرے 47/45 سالوں سے سفارتی تنہائی کا شکار ہے 1979 ءمیں ایرانی انقلاب نے خطے میں بالعموم اور ایران میں بالخصوص امریکی اثرات پر کاری ضرب لگائی ہے۔ پہلے ایران عراق جنگ کے ذریعے انقلابی حکومت کو کمزور کرنے کی شعوری کاوش کی گئی۔ پھر اقتصادی پابندیوں نے ایرانی معیشت پربھی نہیں بلکہ ایرانی قوم کی نفسیات پرمنفی اثرات مرتبہ کئے ہیں ایران کی انقلابی حکومت نے القدس شریف کی بازیابی اور ریاست فلسطین کے قیام کا نعرہ لگایا اور 47 سالوں سے اس پر قائم ہے ایرانی قوم مرگ بر امریکہ اور مرگ براسرائیل کے نعرے لگاتی پائی گئی ہے خامنہ ای کے جنازے پر ایرانی قوم نے اپنے اس موقف کا اعادہ ہی نہیں کیا بلکہ انتقام کا نعرہ بھی شامل ہو گیا ہے پاسداران انقلاب ایرانی قوم کے ایسے جذبات کے نمائندہ ہیں جبکہ ایرانی پارلیمان ایران کو مکمل تباہی سے بچانے کے لئے جنگ بندی چاہتی ہے۔14 نکاتی ایم او یو اسی سوچ کا عکاس ہے ایران طویل معاشی پابندیوں کے باعث خاص مشکلات کا شکار ہے پاسداران کی سخت گیر پالیسیوں نے بھی ایرانی عوام کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکی بمباری نے ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے اس کا فوجی و دفاعی انفراسٹرکچر ہی نہیں بلکہ تیل کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایران لہو لہان ہے تکلیف میں ہے لیکن نسلی و فکری اعتبار سے ایک ہونے کے باعث ان کے عزائم جوان ہیں امریکہ و اسرائیل کے خلاف نفرت کے جذبات ایرانی قوم کے ڈی این اے میں شامل ہو چکے ہیں وہ وسائل کی قلت اور معاشی مشکلات کے باوجود جنگ لڑنے کے لئے یکسو ہیں۔ موجودہ صورتحال میں عمومی تاثر یہی ہے کہ ایران نے امریکہ واتحادیوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں ایرانی تباہی و بربادی کے باوجود وہ میدان جنگ میں جرا¿ت واستقامت کے ساتھ کھڑا ہے مفاہمتی یاداشت ایران میں پائے جانے والے امن پسند عوامی نمائندوں کی سوچ کی عکاس ہے جبکہ پاسداران جنگ جاری رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہیں سردست پاسداران کا پلہ بھاری نظر آ رہا ہے کیو نکہ جنگ ایک بار پھر چھڑ چکی ہے امریکی صدر اپنی کانگریس کو بھی مطلع کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع کی جا رہی ہے مفاہمتی یاداشت ایک لحاظ سے ایران کی فتح کا اعلان تھا مفاہمتی یاداشت کے 14 میں سے 13 پوائنٹ صریحاً ایران کے حق میں ہیں امریکہ میں جنگ کے حامیوں نے اسے ٹرمپ کی شکست قراردے کر مسترد کر دیا تھا امریکہ میں صہونی لابی ایران کی حربی و ضربی صلاحیت کو مکمل طور پر کچلے بغیر جنگ کے خاتمے کے خلاف ہے ایران مشرق وسطی میں امریکی عزائم کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ 28 فروری 2026ءجنگ کے آغاز سے اب تک یہ بات عملاً ثابت ہو چکی ہے کہ ایران امریکی مفادات کے لئے ایک عملی خطرہ ہے۔ ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروپ مشرق وسطی میں امریکی و اسرائیلی مفادات کے لئے خطرہ ہیں۔ حزب اللہ ہو یا حماس اور دیگر چھوٹے گروپ یہ سب ایرانی حمایت سے طاقت پکڑتے ہیں اور امن کو برباد کرتے ہیں اسرائیل بڑی باریک بینی اور یکسوئی کے ساتھ ایسی تمام قوتوں کے خاتمے یا انہیں نیوٹرل کرنے میں مصروف ہے ہم نے سنا کہ ایران امریکہ حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل جنوبی لبنان میں کیا کرتا رہا ہے شام میں کیا کرتا رہا ہے پوری دنیا کی نظر یں آبنائے ہرمز پر مرتکز ہیں اور اسرائیل چپکے چپکے لبنان میں اپنے طے شدہ اہداف کے حصول میں مصروف رہا ہے وہ غزہ میں اپنی فتح کو موثر اور مکمل بنانے میں لگا ہوا ہے ۔ حالیہ جنگ کے دوران ہم نے حزب اللہ کا نام نہیں سنا وہ خطے میں ایران کا بازوئے شمشیر زن جانا جاتا ہے لگتا ہے اس کا پتہ بھی صاف کر دیا گیا ہے لبنانی حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی ہے اس کے تعارفی نشانات مٹا دیئے گئے ہیں اب حوثی رہ گئے ہیں جو باب المندب کو بند کرنے کی دھمکیاں دیتے پائے گئے ہیں حوثیوں کے بھی دو گروپ ہیں ایک کو سعودی عرب کی اور دوسرے کو ایران کی حمایت حاصل ہے معلوم نہیں کہ حوثی باب المندب بند کر بھی سکتے ہیں یا نہیں لیکن ایک بات ضرور ہے وہ باب 
المندب کے راستے جاری تجارت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں آبنائے ہرمز میں جنگ کے اثرات ہی دنیا سے سنبھالے نہیں جا رہے ہیں تیل کی عالمی منڈی اس جنگ کے اثرات سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ آئل کی طلب و رسد میں ہیجان برپا ہو گیا ہے جس کے باعث قیمتوں میں شدید اتار چڑھاﺅ دیکھنے میں آ رہا ہے عالمی معیشت پہلے ہی روس، یوکرائن جنگ کے باعث مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ ایران امریکہ جنگ نے اس میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ حالات بگاڑ سے بگاڑ کی طرف بڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اسرائیل بھی جنگ جاری رکھنے کا حامی ہے وہ امریکہ پر دباو¿ ڈالتا رہا ہے کہ ایران کی حتمی تباہی تک یہ جنگ بند نہیں ہونے چاہئے۔ خطے میں ایران ہی اب ایک ایسی قوت باقی رہ گئی ہے جو گریٹر اسرائیل کے قیام کی راہ میں کھڑی ہو سکتی ہے ایرانی حمایت یافتہ گروہ اسرائیل کے لئے درد سر بنتے رہے ہیں اسرائیل چاہتا ہے کہ اس کے ارادوں میں مزاحم ایران کا قلع قمع کر دیا جائے۔ ماہرین ایک بات پر متفق ہیں کہ جاری بحر ان کا اگر کسی ایک ملک کو فائدہ ہے تو وہ اسرائیل ہے جنگ اور جنگ اسرائیل کے مفاد میں ہی نہیں بلکہ اس کے حق میں ہے اس جنگ میں جتنی بھی تباہی ہوئی۔ چاہے اس طرف اور چاہے ا±س طرف تباہی مسلمانوں کی ہوئی ہے امریکہ کا تو ساز و سامان کا نقصان ہو رہا ہے جسکی اس کے پاس کمی نہیں ہے ایران کی طرف سے داغے جانے والے میزائل اور چلائے جانے والے ڈرونز عربوں پر تباہی لا رہے ہیں امریکی اڈوں پر تباہی امریکی سازو سامان کی تباہی ہے جو امریکہ کے لئے نہیں معمولی قسم کی ہے اصل نقصان اور تباہی تو عربوں کی ہو رہی ہے دوسری طرف امریکی بمباری ایران کی تباہی کا باعث بن رہی ہے مشرق وسطی تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے متحدہ عرب امارات شاید مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے اسکی چمک دمک ماند پڑ چکی ہے۔ عربوں کے تیل کی آمدنی گھٹ چکی ہے سرمایہ کار عرب ممالک سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ تعمیر و ترقی کے پروگرام بند ہو گئے ہیں۔ ویرانی ہی ویرانی ہے جبکہ اسرائیل اپنے طے شدہ اہداف کے حصول میں تن دہی کے ساتھ مصروف ہے۔ گریٹر اسرائیل کا خواب حقیقت کے بنانے کے لئے صہیونیوں نے امریکہ کو اپنے ساتھ ملا رکھا ہے وہ تو اب یہ بھی دعویٰ کررہے ہیں کہ اس کام میں اللہ بھی انکے ساتھ ہے کیونکہ وہ ایک الہامی فرض کی ادائیگی کر رہے ہیں ۔ لگتا ایسے ہی ہے کہ اللہ کی نصرت و تائید ان کے ساتھ ہے۔ 

ٹیگز: