مشہد: ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ مشہد میں عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کر دی گئی، جہاں لاکھوں افراد نے شرکت کر کے انہیں آخری خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق نمازِ جنازہ سے قبل آیت اللہ سید علی خامنہ ای، ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری، بہو زہرا حداد اور کمسن نواسی زہرا محمدی کے تابوت ایک عظیم الشان جلوس کی صورت میں روضۂ مبارک تک لائے گئے، جس میں لاکھوں سوگوار شریک تھے۔
مشہد کی شاہراہیں اور اطراف کے علاقے عوام سے کھچا کھچ بھر گئے، جہاں ہر عمر کے افراد، خواتین، نوجوانوں، بزرگوں اور بچوں نے جلوس میں شرکت کر کے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ شرکاء کے ہاتھوں میں ایرانی قومی پرچم، شہداء کی تصاویر اور جوابی کارروائی کے مطالبات پر مشتمل بینرز اور پلے کارڈز موجود تھے۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی نجف سے خصوصی پرواز کے ذریعے مشہد پہنچایا گیا، جہاں ایرانی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے حفاظتی حصار میں طیارے کو ایئرپورٹ تک پہنچایا۔
اس سے قبل عراق کے مقدس شہر کربلا میں حضرت امام حسینؓ اور حضرت عباسؓ کے روضوں پر بھی میت لے جائی گئی، جہاں نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور ہزاروں عقیدت مندوں نے آخری دیدار کیا۔
گورنر آفس کے اعداد و شمار کے مطابق جنازے کے جلوس میں 70 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق آیت اللہ سید علی خامنہ ای 28 فروری کو تہران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی میزائل حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے تھے۔