پاکستان کی سیاست میں بعض عہدے اپنی آئینی حدود کی وجہ سے زیادہ انتظامی اختیارات نہیں رکھتے، مگر ان عہدوں پر بیٹھنے والی شخصیات اپنے طرزِ عمل، سیاسی بصیرت اور عوامی رویے سے انہیں غیر معمولی اہمیت دے دیتی ہیں۔ پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر خان بھی ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے منصب کو محض ایک رسمی آئینی ذمہ داری تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عوام سے رابطے، سیاسی مفاہمت اور جمہوری روایات کے فروغ کا ذریعہ بنایا۔ گورنر ہاو¿س کو عمومی طور پر ایک ایسا مقام سمجھا جاتا ہے جہاں عام آدمی کی رسائی آسان نہیں ہوتی، لیکن سردار سلیم حیدر خان نے اس تصور کو بدلنے کی کوشش کی۔ ان کے دور میں گورنر ہاو¿س کے دروازے نہ صرف سیاسی کارکنوں بلکہ طلبہ، اساتذہ، وکلائ، تاجروں، سماجی کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں کے لیے بھی کھلے رہے۔ روزانہ مختلف وفود سے ملاقاتیں، عوامی مسائل سننا اور متعلقہ اداروں تک ان کی آواز پہنچانا ان کے معمول کا حصہ رہا ہے۔سردار سلیم حیدر خان کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو ان کا عوامی مزاج ہے۔ وہ پروٹوکول سے زیادہ عوامی رابطے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے آنے والے لوگ انہیں باآسانی اپنی مشکلات سے آگاہ کرتے ہیں۔ اگرچہ گورنر کے آئینی اختیارات محدود ہیں، لیکن عوامی نمائندے کے طور پر ان کا کردار لوگوں کے لیے امید کا ذریعہ بنا ہے۔ان کی شخصیت کا دوسرا اہم پہلو میڈیا کے ساتھ ان کا تعلق ہے۔ موجودہ دور میں جب بہت سے سیاست دان میڈیا سے گریز کرتے ہیں یا صرف مخصوص حلقوں تک خود کو محدود رکھتے ہیں، سردار سلیم حیدر خان نے صحافیوں کے ساتھ ہمیشہ خوشگوار اور باوقار تعلقات استوار کیے۔ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا، تنقید کو مثبت انداز میں لینا اور میڈیا کے سوالات کا جواب دینا ان کی سیاسی تربیت کا حصہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے صحافی بھی ان کے رویے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
گورنر پنجاب کی حیثیت سے انہوں نے تعلیمی شعبے پر بھی خصوصی توجہ دی۔ مختلف جامعات کے چانسلر ہونے کے ناطے انہوں نے اعلیٰ تعلیم میں شفافیت، میرٹ اور ادارہ جاتی استحکام پر زور دیا۔ جامعات کے مسائل کے حل، وائس چانسلرز کے ساتھ مشاورت اور تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کی کوششیں ان کے دور کی اہم خصوصیات رہی ہیں۔سیاسی حوالے سے اگر دیکھا جائے تو سردار سلیم حیدر خان نے پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کو متحرک رکھنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گزشتہ کئی برسوں سے پنجاب میں پیپلز پارٹی کو سخت سیاسی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے پارٹی کارکنوں کا حوصلہ بلند رکھا، مختلف اضلاع کے دورے کیے، تنظیمی اجلاس منعقد کیے اور کارکنوں سے براہِ راست رابطہ برقرار رکھا۔ ان کی کوشش رہی کہ پارٹی صرف انتخابات کے دنوں میں نہیں بلکہ ہر وقت عوام کے درمیان موجود رہے۔انہوں نے پارٹی کے سینئر رہنماو¿ں اور نوجوان کارکنوں کے درمیان ایک مو¿ثر رابطہ پیدا کرنے کی بھی کوشش کی۔ نئی قیادت کی حوصلہ افزائی، کارکنوں کی عزت افزائی اور تنظیمی ڈھانچے کو فعال رکھنے کے لیے ان کی سرگرمیاں پیپلز پارٹی کے حلقوں میں قابلِ ذکر سمجھی جاتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے کارکنوں کے بغیر مضبوط نہیں ہو سکتی، اسی لیے انہوں نے کارکنوں کو ہمیشہ اپنی سیاست کا محور بنایا۔سردار سلیم حیدر خان کی سیاست میں مفاہمت بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے اور سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ ایسے وقت میں جب قومی سیاست میں تلخی اور محاذ آرائی بڑھتی جا رہی ہے، ان کا معتدل رویہ جمہوری ماحول کے لیے مثبت پیغام دیتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ گورنر پنجاب کا منصب انتظامی فیصلوں کا مرکز نہیں، اس لیے عوام کے بہت سے مسائل براہِ راست ان کے اختیار میں نہیں آتے۔ تاہم، انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ لوگوں کی شکایات متعلقہ اداروں تک پہنچیں اور جہاں ممکن ہو، ان کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے شہری انہیں ایک ایسے عوامی نمائندے کے طور پر دیکھتے ہیں جو منصب کی حدود کے باوجود لوگوں سے دور نہیں ہوا۔
ان کے دفتر میں آنے والے افراد کا تعلق کسی ایک جماعت یا طبقے سے نہیں ہوتا۔ یہی غیر امتیازی طرزِ عمل ان کی سیاست کو نمایاں کرتا ہے۔ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر لوگوں کی بات سننا اور ان کی رہنمائی کرنا ایک ایسا وصف ہے جس نے انہیں دیگر روایتی گورنرز سے مختلف شناخت دی ہے۔اگر پنجاب کی مجموعی سیاسی فضا کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سردار سلیم حیدر خان نے اپنے منصب کو محض رسمی تقریبات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عوامی خدمت اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ محدود آئینی اختیارات کے باوجود اگر نیت خدمت کی ہو تو عوام سے مضبوط تعلق قائم رکھا جا سکتا ہے۔یقیناً کسی بھی عوامی عہدے کی کارکردگی کا حتمی فیصلہ تاریخ اور عوام کرتے ہیں، اور ہر دورِ حکومت پر تنقید اور اختلافِ رائے بھی جمہوریت کا لازمی حصہ ہے۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ سردار سلیم حیدر خان نے اپنے دورِ گورنری میں ایک ایسے عوامی اور قابلِ رسائی سیاست دان کا تاثر قائم کیا جس کے دروازے ہر طبقہ فکر کے لیے کھلے رہے، جس نے کارکنوں کی حوصلہ افزائی کی، میڈیا سے مثبت تعلقات استوار کیے اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کی تنظیمی فعالیت برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ایسے دور میں جب عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے بڑھنے کی شکایات عام ہوں، اگر کوئی عوامی عہدیدار لوگوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے، اختلافِ رائے کو برداشت کرے اور سیاسی کارکنوں کو عزت دے، تو اسے جمہوری روایت کے فروغ کی ایک مثبت کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ شاید یہی وہ پہلو ہے جو سردار سلیم حیدر خان کی گورنری کو دیگر ادوار سے ممتاز بناتا ہے۔