اسلام آباد: بھارت کی کرپٹو کرنسی پر غیر واضح حکومتی پالیسیاں اور ناقص ٹیکس نظام نے اس شعبے کو متاثر کیا ہے، جب کہ پاکستان نے کرپٹو کو ایک حکمت عملی کے طور پر اپناتے ہوئے ورچوئل اثاثہ نگراں ادارہ قائم کر کے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔
بائنانس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ جیسے بین الاقوامی کھلاڑی پاکستان کے منصوبوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ پاکستان نہ صرف کرپٹو کو معاشی ترقی کا ذریعہ بنا رہا ہے بلکہ مستقبل کی معیشت کے لیے بھی نئے امکانات پیدا کر رہا ہے، جبکہ بھارت کی معیشت بینکوں کی پرانی سوچ کا شکار ہے۔