آج کی تحریر حکومت پاکستان اور فوج کے لئے تاکہ اسرائیل کے لئے مو¿ثر حکمت عملی بنائی جاسکے، پاکستان کی حکومت اور فوج دونوں کشمکش کا شکار ہیں اور پریشان بھی ہیں، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں پاکستانی عوام کا غضب نظر آ رہا ہے اور دوسری طرف مسلم ممالک سے دوری، اس تحریر میں پہلے بات کروں گا کہ اسرائیل کی مسلمانوں کے لئے کیا حکمت عملی رہی ہے اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری حکمت عملی کیا ہونی چاہئے۔ اسرائیل کی مسلمانوں کے لیے جو حکمت عملی رہی ہے، وہ تاریخی، سفارتی، عسکری اور نظریاتی سطحوں پر کئی جہتوں پر مشتمل ہے۔ ذیل میں ہم اس حکمت عملی کا جامع جائزہ لیتے ہیں تاکہ واضح ہو کہ اسرائیل نے مسلمان ریاستوں اور عوام کے ساتھ کس انداز سے روابط رکھے، استعمال کیا یا ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔
اسرائیل نے مسلمان ممالک کے لیے حکمت عملی بنائی تاکہ انہیں مضبوط نہ ہونے دیا جائے، اسرائیل نے مسلم دنیا میں فرقہ واریت (شیعہ، سنی) اور قوم پرستی (عرب، عجم، ترک، کرد، وغیرہ) کو ہوا دینے کی کوشش کی تاکہ مسلمان آپس میں بٹے رہیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ کوئی متحدہ اسلامی بلاک اسرائیل کے خلاف مضبوط نہ ہو سکے۔ جیسے ایران بمقابلہ سعودی عرب، ترکی بمقابلہ مصر وغیرہ۔ موساد (اسرائیلی خفیہ ایجنسی) نے کئی مسلم ممالک میں خفیہ آپریشن کیے، حکومتوں کو غیر مستحکم کیا اور بعض جگہوں پر سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے مقامی ایجنٹ تیار کیے۔ بعض اسلامی حکمرانوں کو ذاتی مفادات، مالی مراعات یا بلیک میلنگ کے ذریعے استعمال کیا گیا۔ اسرائیل نے شروع میں عرب دشمنی کا سامنا کیا، لیکن وقت کے ساتھ بعض مسلم ممالک کو نرم پالیسی، سفارتی رابطے، اور اقتصادی مراعات دے کر قریب کیا، جیسے ابراہام معاہدے (2020): UAE، بحرین، مراکش، سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔سعودی عرب سے پس پردہ تعلقات: حالیہ برسوں میں واضح نرم رویہ دیکھنے کو ملا۔ اسرائیل نے اپنی اعلیٰ ٹیکنالوجی، خاص طور پر زرعی، دفاعی، اور سائبر سکیورٹی ٹیکنالوجی کو مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کی ترغیب کے طور پر استعمال کیا۔ جیسے متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ زراعت، سائنس اور سرمایہ کاری کے میدان میں شراکت داری کی۔
اسرائیل نے فلسطینی عوام کی مزاحمت کو دہشت گردی کے طور پر پیش کیا اور مسلم دنیا کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ یہ ایک داخلی مسئلہ ہے۔ بعض عرب حکمرانوں نے بھی اس بیانیے کو قبول کیا تاکہ اسرائیل سے تعلقات قائم رکھ سکیں۔ اسرائیل نے ہمیشہ اسلامی بیداری، خلافت یا سیاسی اسلام کو ایک خطرے کے طور پر دیکھا، اخوان المسلمون، حماس، حزب اللہ جیسے گروہوں کو عسکری خطرہ قرار دیا۔ اسلامی تحریکوں کو بدنام کرنے اور ان کو کمزور کرنے کے لیے عالمی سطح پر بیانیہ سازی کی۔ پراکسی وارز میں مسلمانوں کو استعمال کرنا، اسرائیل نے امریکہ اور مغربی قوتوں کے ذریعے مسلم دنیا میں جنگیں کرائیں یا حمایت کی، عراق، شام، لیبیا، افغانستان، ان سب میں مسلمان ممالک اور گروہوں کو آپس میں لڑایا گیا۔
اب بات کرتے ہیں پاکستان کی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں پاکستان کو جو نقصانات ہو سکتے ہیں، وہ صرف خارجہ پالیسی یا معاشی نہیں بلکہ نظریاتی، سیاسی، جغرافیائی، اور قومی سلامتی سے بھی وابستہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ایک موثر حکمتِ عملی بھی اپنانا ہوگی تاکہ فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھے اور عالمی دباﺅ کا سامنا کامیابی سے کرے۔ پاکستان کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے نقصانات میں پاکستانی آئین اور نظریہ کی نفی ہو گی، پاکستان کا قیام اسلامی نظریہ پر ہوا اور فلسطینیوں کی حمایت ہمیشہ اصولی مو¿قف رہی ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنا عوامی جذبات اور آئینی روح کی کھلی خلاف ورزی ہو گی۔ (آئینِ پاکستان، Article 40: "امتِ مسلمہ کے ساتھ یکجہتی اور برادرانہ تعلقات۔")
اسلامی دنیا میں ساکھ کا نقصان ہو گا، جس سے پاکستان تنہا رہ جائے گا، ترکی، ایران، ملیشیا، انڈونیشیا جیسے بڑے مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان کے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے OIC میں قیادت کا کردار کمزور ہو جائے گا۔ عوامی، دینی و سیاسی ردعمل سامنے آئے گا کیونکہ پاکستان میں عوام، علما، مدارس اور دینی جماعتیں خصوصاً جماعت اسلامی جو اسرائیل کو غاصب ریاست سمجھتی ہیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں شدید عوامی احتجاج، دھرنے اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ فلسطینی عوام سے غداری کا تاثر آئے گا کیونکہ اسرائیل روزانہ فلسطینیوں پر ظلم کرتا ہے، بیت المقدس کی توہین، مسجد اقصیٰ پر حملے عام ہیں۔ ایسے میں اسرائیل کو تسلیم کرنا فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہو گا۔ کشمیر کاز پر منفی اثر پڑے گا، اگر پاکستان فلسطین چھوڑ دے گا تو بھارت کہہ سکتا ہے کہ "کل کشمیر پر بھی سمجھوتہ کرو"۔ اخلاقی و اصولی حیثیت سے کشمیر پر مو¿قف کمزور ہو جائے گا، جیسے اقوام متحدہ کی قراردادوں میں فلسطین و کشمیر کے ساتھ پاکستان کی مستقل حمایت۔ اسرائیل بھارت کے ساتھ قریبی عسکری تعلقات رکھتا ہے، جیسے کہ راڈار، میزائل، اور انٹیلی جنس۔ اسرائیل کو تسلیم کر کے پاکستان ممکنہ طور پر سکیورٹی خطرات کو دعوت دے گا۔ ایران، پاکستان کا جغرافیائی ہمسایہ اور اقتصادی شراکت دار ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے ایران سے تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں، جو بلوچستان، گیس پائپ لائن، اور دیگر منصوبوں پر اثر ڈالے گا۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بجائے پاکستان کو ایک مو¿ثر حکمت عملی بنانا پڑے گی، پاکستان کو واضح اور مستقل بیان دینا چاہیے کہ جب تک فلسطین آزاد ریاست نہیں بن جاتا اور القدس پر قبضہ ختم نہیں ہوتا، اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ، OIC، عرب لیگ میں فلسطینی کاز کو زندہ رکھنا، عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے مظالم کو اجاگر کرنا۔ مغرب اور امریکہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا مگر غیر مشروط انداز میں۔ اندرونی پیداوار، برآمدات، ٹیکنالوجی اور اسلامی مالیاتی نظام کو فروغ دینا۔ ترکی، ایران، انڈونیشیا، ملیشیا اور عرب عوام کے ساتھ مل کر "نیا اسلامی بلاک" بنایا جا سکتا ہے جو فلسطین کی حمایت میں متحد ہو۔ نوجوان نسل کو فلسطین، قبلہ اول، اور اسرائیلی مظالم سے آگاہ کرنے کے لیے تعلیمی نصاب اور میڈیا مہم کی ضرورت ہے۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے سے پاکستان کو نظریاتی، سیاسی، سفارتی، اور سکیورٹی شعبوں میں شدید نقصانات ہوں گے۔ ایک مضبوط، بااصول، متوازن اور خودمختار خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان نہ صرف فلسطینی کاز کا محافظ بن سکتا ہے بلکہ اپنی قومی وقار کو بھی بلند رکھ سکتا ہے۔