”سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں“ سیاسی حالات پھر الجھ رہے ہیں۔ سلجھے کب تھے؟ چار روزہ پاک بھارت جنگ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جنگی حکمت عملی کامیاب رہی اور سیاسی بحران ہندوستان منتقل ہو گیا۔ مودی اب تک سر پیٹ رہا ہے۔ لیکن اس ’انٹرول‘ کے دوران ”زومبیز“ نچلے نہیں بیٹھے ”ناﺅ میں ندی، ڈوب گئی“ والی بے سرو پا گپ شپ شروع ہو گئی تاکہ حکومت کو تردیدوں میں الجھا کر کسی بڑی تحریک کے لیے فول پروف حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ 9 مئی کیس کے حوالے سے خان کو فوج کی تحویل میں دینے کی خبریں آ رہی تھیں، اس لیے عوام کو سڑکوں پر لا کر حکومت پر دباﺅ ڈالنا مقصود تھا۔ گزشتہ دس بارہ روز میں سوشل میڈیا اور مین سٹریم ٹی وی چینلز پر یوتھیوں کا راج رہا، صدر زرداری کا استعفیٰ، فیلڈ مارشل صدر بن جائیں گے۔ صدارتی نظام، قومی حکومت، نواز شریف اڈیالہ جیل جا کر خان سے معافی مانگیں گے۔ وفاقی حکومت تبدیل ہو رہی ہے۔ پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی وغیرہ وغیرہ، ایک ٹی وی چینل کے فضول سے بھاری بھرکم تجزیہ کار نے حسب سابق جھوٹی خبر بڑے اعتماد سے سنائی کہ کہیں بڑوں کے درمیان خان کی رہائی کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ خان دو چار روز میں جیل سے باہر آ جائیں گے۔ ”کسی سے سن لیا ہو گا کہ دنیا چار دن کی ہے“ اسی قسم کی بونگی بیرون ملک بیٹھے اپنی جہالت پر صابر اور ڈالروں کی آمدنی پر شاکر جعلی صحافی (انہوں نے ٹوئٹ میں اپنے آپ کو صافی لکھا) نے کہا کہ خان کو پیرول میتھڈ کے تحت رہا کیا جا رہا ہے اس میں شامود (شاہ محمود) بھی شامل ہوں گے۔ چٹے ان پڑھ اور جاہل مفرور مسخرے کو پتا ہی نہیں کہ پیرول پر رہائی کب ہوتی ہے، شادی بیاہ یا انتقال پُر ملال یا دو چار دن کی رہائی پھر جیل کی کھولی، خان ما شاءاللہ شادیوں کا شوق پورا کر چکے۔ دو بیٹے ایک بیٹی سمیت ساری باقیات زندہ سلامت، یہودی فیملی میں پل کر جوان ہوئے ہیں، چھ ستاروں والا صیہونی پرچم قومی نشان ان کا خوشی غمی کچھ نہیں پیرول پر کیوں رہا کیے جائیں گے۔ تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ خان کو جیل میں پڑے 700 دن ہو گئے ہیں یعنی دو سال پورے باقی 13 سال مزید جیل میں رہیں گے۔ پی ٹی آئی کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔ بچے کھچے (آزاد) ارکان اسمبلی موجودہ سسٹم کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ مبینہ طور پر 13 ارکان قومی اسمبلی نے حکومت کو حمایت کی یقین دہانی کرا دی، سب آزاد ہیں نا اہلی کا خطرہ نہیں، سسٹم کی گرفت روز بروز مضبوط ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ بہت دیر تک چلے گا۔ اس دوران خان کی مشکلات بڑھتی رہیں گی۔ دس دنوں کی ساری خبریں جعلی ثابت ہوئیں، ”جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکہ کھائیں کیا“ جعلی خبریں دینے والے اندرونی بیرونی 27 چینلز بند دو کے خلاف مقدمات درج، خان نے 5 اسیروں کا خط ردی کی ٹوکری میںڈال دیا اور ریاست سے پھر ٹکرانے کا فیصلہ کر لیا۔ اڈیالہ جیل میں قائم ”پی ٹی آئی سیکرٹریٹ“ سے انہوں نے اپنی بہنوں کے ذریعے ملک گیر احتجاج شروع کرنے کا پیغام دیا۔ 5 اگست احتجاج کے عروج کا دن ہو گا۔ نیا آئٹم، خان کے دونوں بیٹے قاسم اور سلیمان پاکستان آ کر ریلی کی قیادت کریں گے۔ بیٹوں کی آمد پر بحث شروع ہو گئی۔ چینلز پر تصویریں دکھائی جانے لگیں ایک صاحب نے پوچھا بیٹی بھی ساتھ آئے گی، جواب ملا یہ رسک نہیں لیا جائے گا۔ سوال ہوا بیٹے پاکستانی نہیں برطانوی شہری ہیں رانا ثناءاللہ کے بیان نے مخمصے میں ڈال دیا۔ معروف تجزیہ کار سعید چودھری نے وضاحت کی کہ دونوں کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہیں۔ پاسپورٹ اور ویزہ نہیں، باپ سے ملنے کی شاید اجازت دے دی جائے مگر ریلیوں کی قیادت پر گرفتار کر لیے جائیں گے۔ سعید چودھری کے مطابق قاسم اور سلیمان اپنے یہودی ماموں کے ساتھ امریکا جائیں گے اور گولڈ سمتھ فیملی کے دوست راک فیلر سے رابطہ کریں گے۔ راک فیلر کے ذریعہ ارکان کانگریس اور ٹرمپ سے کوئی ڈیل فائل کر کے پاکستان آئیں گے اور جیل سے ابو جی کو لے کر اڑنچھو ہو جائیں گے۔ تاہم ایک کام کے وکیل نے چودھری صاحب کو بتایا کہ علیمہ باجی نے ایک ہفتہ پہلے قاسم سے بات کی تو اس نے کہا کہ ابا جی نے پاکستان آنے سے منع کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں بھائی امریکا جائیں اور وہاں قیام کے دوران میری رہائی کے لیے راہ ہموار کریں اس کے باوجود علیمہ باجی نے بھتیجوں کی آمدکا اعلان کر دیا۔ مقصد عوام کو سڑکوں پر لانا ہے۔ آئیں گے یا نہیں، اللہ جانے اب تک تو نہیں آئے، احتجاجی تحریک کی خفیہ حکمت عملی بھی لیک ہو گئی۔ ابتدا میں محمود خان اچکزئی ریلیوں کی قیادت کریں گے (نرم مزاج وکلاءکو کارنر کر دیا گیا) پی ٹی آئی کے آزاد ارکان پارلیمنٹ متوازی پارلیمنٹ بنا کر قومی اسمبلی کی عمارت کے باہر روزانہ اجلاس منعقد کریں گے اور مبینہ طور پر قانون سازی اور بھوک ہڑتال کی جائے گی۔ احتجاجی تحریک کامیاب ہو گی یا نہیں ستاروں کی چال پر نظر رکھنے والی سامعہ خان کا کہنا ہے رہائی کا وقت گزر گیا اب گمنامی کا دور شروع ہو گا۔
پی ٹی آئی نے احتجاج شروع کر دی یا تیاریوں کو آخری شکل دی جا رہی ہے۔ گزشتہ ہفتہ کی صبح خیبرپختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پارلیمنٹرین کا قافلہ پشاور سے لاہور روانہ ہوا۔ متعدد گاڑیوں پر مشتمل قافلہ شام 6 بجے لاہور پہنچا۔ قافلہ موٹر وے کی بجائے جی ٹی روڈ سے لاہور آیا۔ فارم ہاﺅس میں انہوں نے اپنے پارلیمنٹرین سے خطاب کیا۔ اطلاعات کے مطابق پشاور سے لاہور تک کسی شہر یا گاﺅں میں کوئی شخص استقبال کے لیے نکلا نہ ہی کسی نے پھول برسائے راوی کے پل پر سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار ڈنڈوں کے ساتھ موجود ضرور تھے۔ لیکن وہ قافلہ کے لیے ٹریفک کنٹرول کرتے رہے، ایک ویلاگر نے اسے فکس میچ قرار دیا لیکن پنجاب حکومت نے ثابت کیا کہ پُر امن قافلوں کو روکا نہیں جائے گا تاہم قانون ہاتھ میں لینے والے کو بخشا نہیں جائے گا۔ گنڈا پور نے اب تک جتنے میچ کھیلے ہیں وہ فکس تھے۔ اس لیے ہر بار وہ سلیمانی ٹوپی بہن کر میدان جنگ سے فرار ہو کر پشاور میں نمودار ہوتے رہے 5 اگست دور ہے دیکھنا ہو گا کہ پی ٹی آئی اس عرصے میں کیا گل کھلاتی ہے۔
کالم کے آخر میں اتحادی حکومت سے تھوڑا سا گلہ 55 روپے کلو والی چینی 200 روپے کلو بکنے لگی اور غریب عوام کو بے چین کر گئی۔ شوگر ملز مالکان نے چینی ٹنوں کے حساب سے برآمد کر دی ڈالر کمائے چند روز بعد چینی کی مصنوعی قلت دکھا کر مہنگی کر دی۔ کروڑوں اربوں کما لیے انگلیاں گھی میں سر کڑاہی میں عوام کی خادم حکومت کو اس وقت پتا چلا جب چینی 200 روپے ہو گئی۔ خادم حکومت نے فی الفور چینی درآمدکرنے کا حکم دیا۔ میٹھی چینی برآمد کر کے پھیکی چینی منگوا لی، قیمتوں میں دس روپے کا فرق پڑا ہر سال یہی ہوتا ہے ایسا کب تک چلے گا؟