Wed, September 16, 2026

قومی پیغامِ امن کمیٹی: دہشت گردی کے خلاف دینی قیادت کا متفقہ موقف

قومی پیغامِ امن کمیٹی: دہشت گردی کے خلاف دینی قیادت کا متفقہ موقف

پشاور: گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا میں قومی پیغامِ امن کمیٹی نے پریس کانفرنس کے دوران دہشت گردی کے خلاف دینی قیادت کا متفقہ مؤقف پیش کیا۔ کمیٹی نے صوبے کو دہشت گردی کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے کے طور پر اولین ترجیح دی۔

کمیٹی کے سربراہ حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ  پیغامِ پاکستان آئین کے بعد سب سے مضبوط قومی اتفاقِ رائے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی اسلام سے ہرگز تعلق نہیں رکھتی اور کسی بھی بے گناہ شہری کے قتل کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

دینی قیادت نے افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ افواجِ پاکستان اسلام اور امن کے محافظ ہیں، جن کی حمایت ایک دینی فریضہ ہے۔ مفتی عبد الرحیم نے کہا کہ دشمنوں کی حمایت خوارج سے بھی بدتر عمل ہے اور خوارج کے خلاف جدوجہد حق اور درست ہے۔ فتنے کے خلاف جدوجہد کو جہادِ اکبر قرار دیا گیا۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی نے اس جمعہ کو ملک بھر میں یومِ پیغامِ پاکستان منانے کا اعلان کیا تاکہ عوام میں امن، اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات سرحد پار سے منسلک ہیں اور افغانستان سے پاکستان میں امن کے اقدامات ضروری ہیں۔

آخر میں دینی قیادت نے زور دیا کہ اسلام امن، محبت اور بھائی چارے کا دین ہے اور ملک میں ہر قسم کے فرقہ وارانہ یا عسکری فسادات کے خاتمے کے لیے قومی یکجہتی ضروری ہے۔

ٹیگز: