اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یومِ آزادی کے موقع پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے ملک کی ترقی، استحکام، خوشحالی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہوکر آگے بڑھنے پر زور دیا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ 14 اگست ہمیں ان عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جن کے نتیجے میں مسلمانوں کے لیے ایک آزاد وطن کا خواب حقیقت میں بدلا۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح، تحریک پاکستان کے تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے قیام پاکستان کے لیے جدوجہد کی۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ آزادی کا حصول صرف ماضی کی ایک تاریخی کامیابی نہیں بلکہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ ہر نسل کو ملک کی خودمختاری، ترقی اور قومی اقدار کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
صدر مملکت کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران پیش آنے والے واقعات نے پاکستانی قوم کے عزم اور صلاحیت کو مزید نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ امن کا خواہاں ضرور ہے لیکن اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان ترقی اور خوشحالی کی سمت مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور ملک ایک بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکلات کے باوجود حکومت نے گزشتہ ڈھائی برس کے دوران متعدد مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے ملکی معیشت کو استحکام دینے میں اہم پیش رفت کی۔
وزیراعظم کے مطابق گزشتہ دو برس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں 11.3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جو حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
شہباز شریف نے ملک کی مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی دفاع کے حوالے سے پاکستانی فوج نے ہر مشکل گھڑی میں غیر معمولی بہادری اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن کے دفاع کے لیے مسلح افواج کی صلاحیت اور حوصلہ پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے اتحاد، جرات اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور ملکی دفاع کی تاریخ میں ایک یادگار باب رقم کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آج عالمی برادری میں ایک خوددار، مضبوط اور ذمہ دار ملک کے طور پر اپنی شناخت بنا چکا ہے۔ پیچیدہ علاقائی حالات کے باوجود پاکستان نے عالمی امن، علاقائی استحکام اور ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔
شہباز شریف نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان تزویراتی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور اجتماعی سلامتی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیراعظم نے فلسطین کے مظلوم عوام اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کی بھرپور یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں خطوں کے عوام کے جائز حقوق کے لیے اپنی اصولی حمایت جاری رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا سفارتی اور پُرامن حل ضروری ہے، جس کے لیے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں، عالمی قوانین اور کشمیری عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور معاشرے کے مختلف طبقات سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہوکر قومی مفاد کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ انہوں نے قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے اور پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے اجتماعی کردار کی ضرورت پر زور دیا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی یومِ آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت بدستور جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کو ہمیشہ ترجیح دیتا آیا ہے۔ اسحاق ڈار کے مطابق گزشتہ برس کے واقعات نے ایک بار پھر واضح کیا کہ خطے میں موجود دیرینہ تنازعات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
اسحاق ڈار نے جموں و کشمیر کے مسئلے کو خطے میں عدم استحکام کی اہم وجوہات میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے جائز حق کے حصول کے لیے اپنی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مکہ معاہدے کے حوالے سے نائب وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اس اہم معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان تزویراتی روابط کو وسعت دینا، مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنا اور علاقائی و عالمی سلامتی سے متعلق چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنا ہے۔
تینوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی ترقی، قومی سلامتی اور خوشحالی کے لیے اتحاد، باہمی تعاون اور اجتماعی ذمہ داری کے جذبے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔