Wed, September 16, 2026

واٹس ایپ کا اسکیمز کی روک تھام کیلئے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا فیصلہ

 واٹس ایپ کا اسکیمز کی روک تھام کیلئے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا فیصلہ

کیلیفورنیا: دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ صارفین کو آن لائن دھوکا دہی سے محفوظ رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک نیا سکیورٹی ٹول متعارف کرانے جا رہی ہے، جو مشکوک گفتگو میں ممکنہ فراڈ کی نشاندہی کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق نئے اے آئی اسکیم ڈیٹیکشن فیچر کو اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے کہ صارفین کو ایسی چیٹس کے بارے میں بروقت آگاہ کیا جاسکے جن میں اسکیم یا فراڈ کے خدشات موجود ہوں۔

اس نئے نظام میں آن ڈیوائس اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ مطلوبہ مشین لرننگ ماڈل براہ راست صارف کے موبائل فون پر کام کرے گا، جس سے مشتبہ چیٹس کی جانچ کے لیے پیغامات کو کسی بیرونی سرور پر بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

نیا اے آئی ماڈل بالخصوص ان نمبرز سے ہونے والی گفتگو کا جائزہ لے گا جو صارف کی کانٹیکٹ لسٹ میں محفوظ نہیں ہوں گے۔ نظام گفتگو کے انداز، استعمال کیے گئے الفاظ اور پیغامات کے مجموعی پیٹرن کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگائے گا کہ آیا چیٹ میں فراڈ کے امکانات موجود ہیں یا نہیں۔

اگر اے آئی سسٹم کسی گفتگو کو مشکوک قرار دیتا ہے تو صارف کو اس کی اسکرین پر ایک سکیورٹی الرٹ دکھائی دے گا۔ یہ اطلاع صرف متعلقہ صارف تک محدود ہوگی اور چیٹ میں موجود دوسرے شخص کو اس وارننگ کے بارے میں آگاہ نہیں کیا جائے گا۔

واٹس ایپ صارف کو مشتبہ گفتگو کے حوالے سے متعدد آپشنز بھی فراہم کرے گا۔ صارف چاہے تو متعلقہ نمبر کو بلاک کرسکتا ہے، اسے رپورٹ کرسکتا ہے، گفتگو جاری رکھ سکتا ہے یا چیٹ کو قابل اعتماد قرار دے سکتا ہے۔

اگر کوئی صارف کسی چیٹ کو ٹرسٹڈ قرار دیتا ہے تو اس گفتگو کے لیے مستقبل میں اسکام سے متعلق انتباہات ظاہر نہیں کیے جائیں گے۔

کمپنی کے مطابق اے آئی ماڈل کو مختلف قسم کے فراڈ کی شناخت کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے، تاکہ مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی زیادہ مؤثر انداز میں کی جاسکے۔

میٹا نے صارفین کی رازداری سے متعلق خدشات کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیچر کے استعمال سے نجی معلومات کا تحفظ متاثر نہیں ہوگا۔ کمپنی کے مطابق اے آئی ماڈل فون پر ہی کام کرے گا اور میٹا کو صارفین کی نجی چیٹس تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔

واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ نئے سکیورٹی فیچر کے باوجود اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن برقرار رہے گی، جس کے باعث صارفین کے درمیان ہونے والی نجی گفتگو بدستور محفوظ رہے گی۔

نئے فیچر کے ذریعے واٹس ایپ کا مقصد صارفین کو فراڈ پر مبنی پیغامات اور مشکوک رابطوں کے بارے میں بروقت خبردار کرنا ہے، تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ اسکیم کا شکار ہونے سے پہلے مناسب حفاظتی اقدام کرسکیں۔

ٹیگز: