اگر دہشت گردی پر جلد قابو نہ پایا گیا تو پاکستان موجودہ رجیم کی انتھک محنت کی بدولت جس معاشی و اقتصادی ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے وہ سب کچھ ڈی ریل ہو جائے گا اس لیے کہ پہلے بھی اسی دہشت گردی نے پاکستان کو ٹریلین آف ڈالر کا نقصان پہنچایا تھا اور مشرف دور میں پاکستان کا 80% کاروباری طبقہ ملک چھوڑ کر بیرون ملک چلا گیا تھا۔ اس بار وہ صورت حال تو نہیں ہے اور پورے ملک میں ابھی تک یہ ناسور نہیں پھیلا لیکن دو صوبے خیبر پختون خوا اور بلوچستان مسلسل دہشت گردی کی زد میں ہیں۔ ہر دہشت گردی کے بعد وہی روایتی پریس کانفرنسیں، مذمتیں اور دہشت گردی کے خاتمے اور دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے وہی پرانی طرز کے دبنگ قسم کے بیانات لیکن عملی طور پر صورت حال جوں کی توں اور اس میں کوئی فرق نظر نہیں آ رہا۔ ایک دن پہلے بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے 30 دہشت گردوں کے مارنے کی خبر کی سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ چاروں صوبوں کو جوڑنے والی جعفر ایکسپریس پر ایک بار پھر حملہ ہوا جس میں مستونگ میں ریلوے ٹریک پر دھماکہ سے ریل کا انجن اور پانچ بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ اس میں چار مسافر معمولی زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کی اس واردات کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے لیکن شکر ہے کہ چار مسافروں کے معمولی زخمی ہونے کے علاوہ کوئی اور جانی نقصان نہیں ہوا لیکن جس طرح کچھ عرصہ پہلے جعفر ایکسپریس کو اغوا کیا گیا تھا اور اس میں کئی قیمتی انسانی جانوں کا زیاں بھی ہوا تھا تو سوچیں کہ جس وقت ریلوے ٹریک پر دھماکہ ہوا ہو گا اور ٹرین کے انجن سمیت پانچ بوگیاں پٹڑی سے اتری ہوں گی اور ٹرین ایک بڑے وقفے کے لیے رک گئی ہو گی تو اس وقت ٹرین میں موجود مسافروں کی کیا حالت ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی اسی دن بلوچستان کے ضلع زیارت کے اسسٹنٹ کمشنر کو بیٹے سمیت اغوا کر لیا گیا جبکہ اغوا کاروں نے ان کی سرکاری گاڑی کو آگ لگا کر جلا دیا۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق وہ اپنی فیملی کے ساتھ سیاحتی مقام زیزری جا رہے کہ راستے میں نا معلوم مسلح افراد نے انہیں، ان کے بیٹے، گن مین اور ڈرائیور کو گن پوائنٹ پر اغوا کر کے لے گئے۔ چند کلو میٹر کے فاصلے پر ان کے ڈرائیور اور گن مین کو چھوڑ دیا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کو نا معلوم مقام پر لے گئے۔
ہم آج سے نہیں بلکہ 2010 سے بلکہ اس سے بھی پہلے اپنی تحریروں میں اس بات کو واضح کرتے چلے آئے ہیں کہ جو لوگ دہشت گردوں کو ان پڑھ جاہل بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں وہ در حقیقت یا تو خود احمق ہیں یا پھر دنیا کو احمق بنانے کے لیے ایسا کرتے ہیں اس لیے کہ دہشت گردی کا ٹول بننے والوں کے متعلق تو شاید یہ بات کسی حد تک درست ہو لیکن جو لوگ اس کے ہینڈلر ہیں یا پلانر ہیں وہ نہ تو جاہل ہیں اور نہ ہی ان پڑھ احمق ہیں۔ مشرف دور میں کراچی میں فرانس کے تعاون سے بننے والی آگسٹا آبدوز کے بنانے والے فرانسیسی ماہرین کی وین پر خود کش حملہ کر کے انہیں نشانہ بنایا گیا تھا اور پھر ان دہشت گردوں کو بچانے کے لیے میڈیا میں ان کے وکیلوں نے عوام کو یہ کہانیاں سنانا شروع کر دیں کہ ان آبدوزوں میں کمیشن نہ ملنے پر انہیں نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ تھی کہ پاکستان کے پاس جو آبدوزیں تھی آگسٹا ان سے کہیں جدید اور زیادہ عرصے تک پانی میں رہنے والی آبدوز تھی۔ اسی طرح مہران بیس کراچی کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر اس بیس پر کھڑے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا اور پھر میریٹ ہوٹل اسلام آباد کو نشانہ بنا کر بھی نہ صرف یہ کہ پاکستان کو دفاعی لحاظ سے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ دنیا کے سامنے پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بننے والی ریاست کے طور پر پیش کیا گیا کہ جہاں پر امن و امان کا مسئلہ اس قدر ہولناک دکھایا گیا کہ برسوں تک کسی غیر ملکی سرمایہ کار نے تو پاکستان میں کیا سرمایہ کاری کرنا تھی الٹا پاکستان کی اپنی کاروباری برادی نے اپنا کاروبار سمیٹ کر دوسرے ملکوں میں منتقل ہونا شروع کر دیا۔ اب بھی صورت حال ماضی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ کچھ لوگ پاکستان کو خدانخواستہ ڈیفالٹ ہوتا دیکھنا چاہتے تھے اور اس کے لیے وہ ہر روز عوام کو خوش خبریاں سناتے تھے لیکن جب ایسا نہیں ہوا اور ملک نہ صرف یہ کہ ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا بلکہ بیرونی سرمایہ کاروں نے بھی پاکستان میں سرمایہ لگانے میں دلچسپی شروع کر دی تو اب ایک مرتبہ پھر وہی دہشت گردی کے ہتھیار کو استعمال کیا جا رہا ہے اور اس میں ہندوستان کا کردار تو بالکل واضح ہے لیکن ہمارے کچھ نادان دست بھی اس کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔
دونوں صوبوں میں الگ الگ قسم کی دہشت گردی ہے۔ بلوچستان میں لسانی جبکہ خیبر پختون خوا میں مذہبی عناصر یعنی ٹی ٹی پی کو متحرک کیا گیا ہے۔ دونوں جگہ دہشت گردی کی نوعیت یقینا الگ الگ ہے لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان دونوں اقسام کی دہشت گردی کے پیچھے ہندوستان کا ہاتھ ہے لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ خیبر پختون خوا جو دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے اس صوبے کی قیادت وہاں پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن خود کرتی ہے اور نہ وفاق کو کرنے دیتی ہے۔ انہی رویوں نے مشرف دور میں دہشت گردی کو بڑھانے میں مدد دی تھی اور اب بھی اسی طرح کے رویے دہشت گردی کے خاتمہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔