”یہ کائنات ایک حادثہ نہیں، حادثے میں اِس قدر ح±سن نہیں ہوسکتا، کہ ح±سن ، ح±سنِ ترتیب کا نام ہے، اور حادثہ کسی ترتیب کے بکھر جانے کا نام!“ یہ جملہ آج سے چالیس برس قبل ایک قلبی واردات بن کا ا±فقِ شعور پر کوندا اور فقیر نے اسے اپنی پہلی کتاب ” پہلی کرن“ میں محفوظ کر لیا۔ ”پہلی کرن“ 1987ءمیں شائع ہوتی ہے۔ اس کتاب کو یہ شرفِ سعادت حاصل ہے کہ یہ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کے حکم پر شائع ہوئی اور اِس کا ہر ایک جملہ آپؒ کے دستِ مبارک سے اصلاح یافتہ ہے۔ صاحبِ تحریر ہنوز اصلاح پذیر ہے۔ اِصلاح اور وجود کے درمیان فاصلہ گرچہ ب±عد المشرقین ہے، یہ دم غنیمت ہے کہ تحریر کی اصلاح ہو گئی.... تحریر سند یافتہ ہوگئی۔ وجود مٹنے سے پہلے وجود کی اصلاح ہو جائے تو یہ بھی قابلِ سند ٹھہرے!
یہ کائنات حادثہ ہے، نہ اس میں پیدا ہونے والا کوئی وجود ہی حادثہ ہے۔ اِنسان اَحسن الخالقین کی ایک اَحسنِ تقویم ہے۔ وہ ذات جو خالق بھی ہے اور خلّاق بھی ، جو علیم بھی ہے اور علّام بھی.... اس کی کارگہِ تخلیق میں پیدا شدہ کسی وجود کو ایک اَلَل ٹپ حادثہ سمجھ کر نظر انداز کر دینا غفلت کی انتہا ہے۔ ہم اپنی سوچوں کی کائنات میں رہتے ہیں اور سچے رب کی بنائی ہوئی س±چی کائنات میں داخل نہیں ہوتے.... اسی کا نام غفلت ہے.... صرف ذکر ہی نہیں ، فکر سےدم بھر کے لیے غفلت بھی یہی کلیہ انذاررکھتی ہے.... جو دم غافل ، سو دَم کافر!
مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے: انسان اس کائنات میں اپنے رب کا ایک کراو¿ن آف کریشن Crown of Creation ہے۔ یعنی یہ تخلیق کے ماتھے کا جھومر ہے۔ جوہرِ کائنات یہی حضرت ِ انسان ہے۔ انسان کو خلیفہ بنانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اب اس کائنات میں خالق غیب میں رہے گا اور انسان شہود میں۔ اسی لیے یہ مسجودِ ملائک ٹھہرا۔ انسان کو اس کارگہ عمل میں وقت وجود اور وسائل دے کر بھیجا گیا ہے۔ محدود سے محدود انسان بھی ان تین جہتوں کا مرقع ہے۔ کوئی کائنات چھوٹی بڑی نہیں ہوتی، کائناتِ وجود ایک مکمل کائنات ہے۔ اسی کائنات ِ وجود میں انسان خود شناسی کے جوہر سے آشنا بھی ہو سکتا ہے اور اسی میں وہ خود سے غافل رہ کر بھی زندگی گذار سکتا ہے۔ عبادت خود شناسی کی کمی پوری نہیں کر سکتی۔ اگر ایک انسان عبادت میں مصروف رہے اور خود شناسی اور
خدا شاسی سے گریزاں رہے تو اس کی عبادت قابلِ قبول ہونے سے پہلے قابلِ غور ضرور ہے۔ خلیفہ ایک وائسرے کی طرح ہے؛ وائسرائے اپنا قانون اور قاعدہ نافذ نہیں کرتا بلکہ و ہ بادشاہ کا قانون نافذ کرتا ہے۔ انسان سب سے پہلے اپنی ارضِ وجود پر خلیفہ ہے۔ اس کے پاس اختیار بطور امانت ہے۔ یہاں امانت میں دیانت کا مطلب یہ ہے کہ وہ وقت وجود اور وسائل کا استعمال مالک الملک کے دیے ہوئے قوانین کے مطابق کرے گا۔ وقت، وجود اور وسائل ہمارے پاس قیمتی امانتیں ہیں۔ ان امانتوں ذاتی تصرف خیانت کاباب ہے۔
خیانت کا تصور ا±س وقت تک ہمارے ذہن میں نہیں آئے گا جب تک ہمارے دل میں امانت کا تصور جاگزیں نہ ہو جائے۔ اَمانت سونپی ہوئی چیز ہوتی ہے۔ امانت میراث نہیں ہوتی۔ امانت میں چند تصورات انتہائی اہم ہیں: ایک یہ کہ امانت سونپی جاتی ہے، امانت سونپنے والا ہی اس کا اصل مالک ہوتا ہے اور جسے سونپی جاتی ہے، وہ اس کا مالک نہیں ہوتا،فقط محافظ ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ امانت میں ایک مدتِ امانت بھی ہوتی ہے۔ کوئی امانت لامحدود مدت کے لیے نہیں ہوتی۔ ایک مخصوص مدت کے بعد امانت کے بارے میں جوابدہی کا عنصر لازم و ملزوم ہے۔ امانت دینے والا امانت کے ساتھ ساتھ امانت سے متعلق ایک حکم نامہ بھی امانت دار کے سپرد کرتا ہے، کہ اس امانت کی مہلت کب تک ہے ، امانت کو کس طرح لوٹانا ہے، یا یہ کہ اسے کس طرح اور کن لوگوں میں تقسیم کرنا ہے.... یہ سب تفصیلات امانت اور امانت داری کے تصور کے ساتھ طے شدہ ہیں۔ زندگی میں ملنے والی تمام نعمتیں مجموعی طور پر وقت ، وجود اور وسائل کے ابواب میں تقسیم کی جا سکتی ہیں۔
وقت ایک بہت بڑی نعمت ہے، سچ کہیں تو زندگی بجائے خود ایک وقت ہے۔ اگر وقت نہ رہے تو باقی تمام نعمتیں یک قلم موقوف ہو جاتی ہیں۔ یعنی وقت کی عدم موجودگی میں ہم کسی بھی نعمت کو استعمال کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ وقت ایک مہلت ہے، اسی دی گئی مہلت میں ہم باقی نعمتوں کے حوالے امین یا خائن ٹھہرائے جاتے ہیں۔ وقت ضائع کرنا، سستی، کاہلی کا عادی ہو جانا، وقت پر نہ پہنچنا، دوسروں کو وقت پر دستیاب نہ ہونا .... یہ سب احوال وقت میں خیانت کی ذیل میں آتے ہیں۔ عبادات کے حوالے سے وقت کو ملحوظ نہ رکھنا، بروقت نماز ادا نہ کرنا، بوقت زکوٰة ادا نہ کرنا بھی وقت میں خیانت کا ارتکاب ہے۔
وجود.... وہ میدانِ عمل ہے، جو ہمارے سعید یا شقی ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ سعید وجود اپنی وجودی طاقت کو طاقت عطا کرنے والی ذات کے حکم کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ لذاتِ وجود میں منہمک ہونا خیانتِ وجود ہے۔ وجودی اعضاءو جو ارح کو تسکینِ وجود کے لیے بروئے کار لانا خیانتِ وجود کہلائے گا۔ سمعو بصر سے لے کر شامہ و لامسہ اور پھر فہم و شعور تک سب صلاحیتوں کا ناجائز استعمال خیانتِ وجود ہی کے زمرے میں آئے گا۔ نظروں کی بھی خیانت ہوتی ہے، اس کا ا±پائے غضِّ بصر بتلایا گیا ہے۔ نظر بے محل ہو جائے تو نقطہِ نظر بے سمت ہو جاتا ہے۔
وسائل میں دولت، منصب اور اثر و رسوخ شامل ہیں۔ دولت کو تسکینِ وجود کے لیے استعمال کرنے والا دولت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ اپنی اَنا کی تسکین کے لیے دولت کی نمائش کرنے والا دولت ایسی امانت میں خیانت کاارتکاب کرتا ہے۔ اپنی دولت سے محروموں کو حصہ دینے سے انکار کرنے والا خائن کہلائے گا۔ بخیل پرلے درجے کا خائن ہوتا ہے۔ یہی حال منصب کا ہے۔ اپنے منصب سے لوگوں کی زندگیاں آسان بنانے میں بخل سے کام لینے والا خیانت کا مرتکب متصور ہوگا۔ دولت اور منصب کی طرح ہمارے تعلقات بھی دوسروں کے کام آنے چاہیں۔ تعلقات کی دنیا میں اپنے ذاتی تعلقات کو اجتماعی مسائل حل کرنے میں بخل سے کام لینے والا بھی خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ وعدہ بھی ایک امانت ہے.... وعدہ وفا نہ کرنے والا اپنے دیئے گئے لفظوں کا خائن ہے۔
کسی منصب پر سفارش اور رشوت کے زور سے فائز ہونے والا اس منصب کے ساتھ ایک عملی خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ تختِ حکومت پر زور اور زر سے بیٹھنے والا پوری قوم سے خیانت کا ارتکاب ہے۔ رشوت دینے اور لینے والا بھی خائن ہے۔ ملاوٹ کرنے والا بھی خائن ہی کہلائے گا۔ یہ دین امین اور صادق ذات کا دیا ہوا دین ہے۔ یہاں واضح کر دیا گیا ہے کہ ملاوٹ کرنے والا، دھوکا دینے والا ہم میں سے نہیں ہے.... یعنی دینِ مصطفوی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہاں بتا دیا گیا ہے کہ.... جس میں امانت کی پاسداری نہیں، اس کا کوئی ایمان نہیں، اور جو وعدہ وفا نہیں کرتا ، اس کا کوئی دین نہیں۔ دین میں رہتے ہوئے یوں بے دین ہو جانا ایک عجب سانحہ ہے۔