واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر نیٹو ممالک اتفاق کریں تو روس پر سخت ترین پابندیاں لگانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کے دیگر ارکان کو بھی روس کے خلاف سخت قدم اٹھانے چاہئیں اور روس سے توانائی کی درآمدات فوری طور پر بند کر دینی چاہئیں تاکہ مؤثر پابندیاں عائد کی جا سکیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ چین پر 50 سے 100 فیصد تک مشروط محصولات عائد کرنا یوکرین میں جاری تنازع کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ نیٹو کی طرف سے چین پر لگائی گئی یہ محصولات تب تک نافذ رہیں گی جب تک روس اور یوکرین کی جنگ ختم نہیں ہوجاتی کیونکہ چین روس پر خاصا اثر رکھتا ہے، اور محصولات اس اثر کو کمزور کر دیں گے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ یہ جنگ امریکہ کی نہیں بلکہ بائیڈن اور زیلنسکی کے اقدامات کا نتیجہ ہے اور وہ خود اس تنازعے کو ختم کرنے اور دونوں فریقین کی جانیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر نیٹو ان کی تجویز پر عمل کرتا ہے تو یہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، لیکن اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ وقت اور امریکی وسائل کا ضیاع ہوگا۔
دوسری جانب، امریکہ نے جی 7 اور یورپی یونین سے زور دیا ہے کہ وہ روسی تیل خریدنے والے ممالک، خصوصاً بھارت اور چین، پر اقتصادی پابندیاں لگائیں۔
جی 7 وزرائے خزانہ کی کانفرنس میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ عالمی شراکت داروں کو امریکہ کے ساتھ مل کر ایسے ممالک پر محصولات لگانے چاہئیں جو روسی تیل کی خریداری کر رہے ہیں تاکہ روسی صدر پوتن کی فوجی طاقت کمزور ہو سکے۔
کانفرنس میں منجمد روسی اثاثوں کو یوکرین کی مدد کے لیے استعمال کرنے کی بات کو بھی تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔