سڈنی : آسٹریلیا کی حکومت نے گزشتہ سال ایک نیا قانون متعارف کرایا تھا جس کے تحت 2025 کے آخر تک 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روک دیا جائے گا۔ اس قانون میں فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر بھاری جرمانے عائد کرنے کی بات کی گئی ہے، اگر یہ پلیٹ فارمز بچوں کو اجازت دیتے ہیں۔
تاہم، یوٹیوب نے اس قانون پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ روایتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک ویڈیو شیئرنگ سروس ہے، لہٰذا اس پر یہ قانون لاگو نہیں ہونا چاہیے۔ یوٹیوب کی نمائندہ رچل لارڈ کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ نیک نیتی پر مبنی ضرور ہے، مگر اس سے اصل مقصد، یعنی بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانا، حاصل نہیں ہو سکے گا۔
لارڈ نے یہ بھی کہا کہ بچوں کو آن لائن سے مکمل طور پر الگ کر دینا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ انہیں محفوظ اور ذمہ دارانہ طریقے سے آن لائن استعمال کی تربیت دینا ضروری ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو ہر صارف کی عمر کی تصدیق کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، لیکن انہیں کم عمر بچوں کی شناخت کرنے اور ان کے اکاؤنٹس کو بند کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرنا ہوں گے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس قانون پر عمل درآمد کے لیے واضح اور مضبوط طریقہ کار نہ بنایا گیا، تو یہ صرف ایک علامتی قدم بن کر رہ جائے گا، کیونکہ اس میں عملی مشکلات کا سامنا ہو گا۔