Wed, September 16, 2026

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جنگ کے حل کے لیے بھرپور کوشش کریں گے، ٹرمپ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جنگ کے حل کے لیے بھرپور کوشش کریں گے، ٹرمپ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہونے سے پہلے میڈیا سے گفتگو کی اور کہا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جنگ کے حل کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس مسئلے کو واپس آکر دیکھیں گے کیونکہ وہ جنگوں کو حل کرنے میں ماہر ہیں۔

صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا اور بتایا کہ غزہ کے لیے ’’بورڈ آف پیس‘‘ جلد قائم کیا جائے گا، جس سے جنگ بندی کو مستحکم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی بھی مقررہ وقت سے پہلے ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہت اچھا کام کیا، اور قطر کا بھی اس امن عمل میں اہم کردار ہے۔ انہوں نے یوکرین کی جنگ کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ اگر یہ جنگ ختم نہ ہوئی تو وہ یوکرین کو ٹوماہاک میزائل بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کو روکنے کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں ٹیرف کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان جنگ کو روکا تھا، اور اب وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ کو بھی حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

ٹرمپ کا یہ مشرق وسطیٰ کا دورہ اسرائیل سے شروع ہوگا، جہاں وہ رہائی پانے والے یرغمالیوں اور ان کے اہلخانہ سے ملاقات کریں گے۔ اسرائیل میں پارلیمنٹ سے خطاب اور اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں بھی ان کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔

اس کے بعد، امریکی صدر مصر کے شہر شرم الشیخ جائیں گے، جہاں غزہ امن سمٹ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس سمٹ میں 20 سے زائد ممالک کے رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے، اور یہاں حماس اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس سمٹ میں اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے سکیورٹی معاہدے پر بھی بات چیت ہوگی۔

ٹیگز: