کسی زمانے میں فوگ یعنی دھند محض موسم کا قصہ ہوا کرتی تھی۔ تاہم جب اس نے سموگ کی شکل اختیار کی ،یہ سڑکوں، گلیوں ، بازاروں کے ساتھ ساتھ ہماری سانسوں پر بھی چھانے لگی اور ہماری صحت کو متاثر کرنے لگی۔ ماضی میںسموگ کے خلاف حکومتی اقدامات ہوتے رہے۔ تاہم یہ اقدامات موسمی یعنی وقتی ثابت ہوئے۔ سموگ کے بادل چھٹتے ہی ، ارباب اختیار کی توجہ اس طرف سے ہٹ جاتی تھی۔ تاہم پنجاب میں اس مرتبہ معاملہ مختلف دکھائی دیتا ہے۔کئی برس سے پنجاب کے عوام کو موسم سرما میں سموگ اور فضائی آلودگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ آلودہ ہوا کے باعث پاکستان میں اوسط عمر میں چار سال تک کمی کا اندیشہ ہے۔اس خطرے کے پیش نظر حکومت پنجاب نے سموگ پر قابو پانے کیلئے ایک طویل مدتی مہم کا آغاز کیا ہے۔ چند دن پہلے اس موضوع پر گفتگو کیلئے سینئر وزیر مریم اورنگ زیب نے کالم نگاروں اور صحافیوں کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا۔ ان کے ہمراہ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری، وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان، ایگریکلچراور لائیو سٹاک کے وزیر عاشق کرمانی اور وزیر برائے انڈسٹری، کامرس اور انویسٹمنٹ شافع حسین کے علاوہ متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹری اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔
مریم صاحبہ نے حکومتی حکمت عملی کے بارے میں ایک جامع بریفنگ دی۔ بتا یا کہ پنجاب حکومت نے سموگ پر قابو پانے اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کیلئے سائنسی بنیادوں پر کام شروع کیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال ، عملی نفاذ، باہمی شراکت اور عوامی آگاہی پر مبنی ایک جامع حکمت عملی وضع کی ہے۔ صوبے بھر میں صنعتی، زرعی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کی کڑی نگرانی ہو رہی ہے۔ گاڑیوں اور فیکٹریوں کا دھواں، تعمیراتی کاموں سے اٹھنے والی دھول مٹی، فصلوں کی باقیات کو جلانے اور سرحد پار سے آنے والی آلودگی کے انسداد کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ محکمہ ماحولیات میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی اور نفاذ کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ 15 فوگ کینن، 12 تھرمل ڈرونز اور 8500 سے زیادہ جدید کیمروں کی مدد سے آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی ہوتی ہے اور پھر کارروائی کی جاتی ہے۔یہ محض زبانی کلامی یا کاغذی کارروائی نہیں ہے ۔بلکہ کسی دباو کو خاطر میں لائے بغیر عملی اقدامات ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اب تک 2633 آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو سیل ، جبکہ408 کو مسمار کیا جا چکا ہے۔بھٹوں کے خلاف کارروائیوں میں 2000 سے زائد بھٹے بند جبکہ 2016 مسمار کئے گئے ہیں۔ تعمیراتی دھول کے مسئلے پر 1800 سے زائد نوٹسز جاری ہوئے اور 245 عمارتیں سیل کی گئیں۔ پلاسٹک کے خلاف مہم کے دوران 380 ٹن پلاسٹک ضبط کیا گیا۔ فصلوں کی باقیات جلانے کے 2800 سے زائد واقعات کے خلاف کارروائی ہوئی۔ گاڑیوں سے نکلنے والے دھوویں کی روک تھام کے لئے 2 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کئے گئے۔ایندھن کا معیار جانچنے کیلئے پٹرول پمپوں اور فیول سٹیشنوں کے معائنے کر کے کارروائی کی گئی۔ اس کے علاوہ کروڑوں روپے کے جرمانے عائد کئے گئے ، سیکڑوں ایف۔آئی۔آر درج ہوئیں اور سیکڑوں حلف نامے لئے گئے۔
معلومات کی فراہمی کیلئے ائیر کوالٹی انڈیکس پیش گوئی (AQI predictive) نظام اور کیلنڈر متعارف کرایا گیا ہے، تاکہ عوام اور اداروں کو پانچ سے سات دن پہلے احتیاطی اقدامات کرنے کا موقع مل سکے۔ ماحولیاتی فورس قائم کی گئی ہے۔ جس میں 250 تربیت یافتہ اہلکار شامل ہیں۔ 18 اضلاع میں 41 جدید’’ ائیر کوالٹی مانیٹرنگ سٹیشن ‘‘نصب کئے گئے ہیں۔ ’’سموگ وار روم‘‘قائم کئے گئے ہیں۔، نوجوانوں کو اس مشن میں شامل کرنے کیلئے طلبہ کے لئے ’’کلائمٹ لیڈر شپ انٹرن شپ‘‘پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ ماحول دوست منصوبوں کے لئے 1 ارب روپے کا گرین کریڈٹ پروگرام اور 50 ملین ڈالر کا انڈوومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ 2024ئمیں 3 لاکھ 37 ہزار ، جبکہ سال رواں میں 5 لاکھ سے زیادہ پودے لگائے گئے ، تاکہ یہ فضائی آلودگی کو جذب کر سکیں۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ عوامی آگہی کے لئے پنجاب حکومت یہ موضوع اب نصاب کا حصہ بنانے جا رہی ہے۔
یہ ساری معلومات اور اقدامات متاثر کن ہیں۔شکر ہے کہ کسی حکومت نے ماحولیاتی اور موسمیاتی معاملات پر توجہ مبذول کی ہے۔ماحولیاتی آلودگی کے انسداد کیلئے پنجاب حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سینئر وزیر مریم اورنگ زیب ، جو وزیر اعلیٰ پنجاب کی دست راست ہیں، بطور وزیر ماحولیات اس سارے عمل کی بذات خود نگرانی کر رہی ہیں۔یوں بھی مریم اورنگ زیب اپنی مستقل مزاجی کے لئے مشہور ہیں۔ امید ہے کہ موسم بدلنے کے ساتھ ان کا عزم مدھم نہیں پڑے گااور ماضی کی طرح یہ سموگ پلان سردی کے موسم تک محدود نہیں رہے گا۔
یقینا یہ بات نہایت تشویش ناک ہے کہ گزشتہ برسوں میں لاہور سمیت کئی شہروں میں ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ لاہور تو خیر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہے۔ یہ آلودگی شہریوں کی صحت متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت پر بھی منفی اثرات ڈالتی ہے۔تاہم ماحولیاتی آلودگی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے۔ دنیا کے بیسیوں ممالک اس کا شکار تھے اور اب بھی ہیں۔ مثال کے طور پر 1952ء میں لندن میںسموگ کے ہاتھوں 12 ہزار لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ 2000ء تک چین کے کئی شہر دنیاکے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شامل تھے۔ امریکہ کو بھی 1970ء میں ماحولیاتی معیار کی نگرانی کے لئے ادارہ قائم کرنا پڑا تھا۔ ہمارا ہمسایہ بھارت بھی آلودگی کا شکار ہے اور نئی دہلی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل رہا ہے۔ مختلف ممالک نے سائنسی، قانونی اور انتظامی اقدامات کے ذریعے اس صورتحال پر قابو پایا ۔ بہت اچھا ہے کہ پنجاب حکومت ماحول کے تحفظ اور سموگ کے خاتمے کے لئے نہایت سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ گاڑیوں او ر فیکٹریوں کا دھواں، تعمیراتی دھول، فصلوں کی باقیات کو جلانا، سرحد پار آلودگی، پلاسٹک بیگز کے استعمال جیسے معاملات کو کسی قاعدے ضابطے میں لانا واقعتا قابل تحسین اقدام ہیں۔
باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ سب اقدامات محض ماحولیات کی حفاظت نہیں، بلکہ ہماری اور ہماری نسلوں کی حفاظت اور صحت کے ضامن ہیں۔ اللہ کرے کہ حکومت ان اقدامات کو واقعتا ایک تسلسل کیساتھ جاری رکھے تاکہ سموگ کے بادل ہمارے شہروں سے چھٹ جائیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) سڑکوں، شاہراہوں، میگا پروجیکٹس کے لئے مشہور ہے۔ یہی اس جماعت کا سیاسی بیانیہ بھی ہے ۔ اب لگتا ہے کہ سڑکوں ، شاہراہوں اور میگا پروجیکٹس کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ مریم نواز ایک نئے سیاسی بیانئے کو تشکیل دے رہی ہیں۔ ان کی تقاریر میں تسلسل کے ساتھ صاف ستھرے اور ہرے بھرے پنجاب کا تذکرہ ملتا ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ مریم نواز حکومت فضائی آلودگی کو ایک ماحولیاتی مسئلے کے بجائے گورننس کے چیلنج کے طور پر لے رہی ہے ۔ یہ ایک نئے سیاسی اور انتخابی بیانئے کی بنیاد ہو سکتا ہے۔ یعنی وہ پنجاب جہاں حکومت عوام کے سانسوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔ کتنا اچھا لگے اگر ترقیاتی منصوبوں پر سیاسی بیانیہ تشکیل دینے والی جماعت اب صفائی اور صاف ماحول کو بھی نیا نعرہ بناڈالے ۔