اسلام آباد: پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مذاکرات کا تیسرا دور آج ترکیہ کے شہر استنبول میں شروع ہو گیا ہے۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک جنگ بندی کے نفاذ اور اس کی نگرانی کے نظام پر بات چیت کر رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ دونوں جانب سے کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ "پاکستان کا وفد مذاکرات کے لیے استنبول پہنچ چکا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے بند ہوں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بنے۔ اگر مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں، لیکن اگر بات چیت میں کچھ نتیجہ نکلے تو پھر ہم اس کے لیے تیار ہیں۔"
یہ مذاکرات افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ہو رہے ہیں، خاص طور پر 11 اکتوبر کو افغانستان کی طرف سے پاکستانی سرحد پر حملے کیے جانے کے بعد۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے 19 اکتوبر کو دوحہ میں جنگ بندی معاہدہ کیا تھا، اور پھر قطر اور ترکیہ کی کوششوں سے مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہوا۔
پہلے دو مذاکراتی ادوار میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔ 25 اکتوبر کو استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں بھی افغان وفد نے بار بار کابل اور قندھار سے ہدایات لینے کی وجہ سے مذاکرات میں پیش رفت روک دی تھی، جس کی وجہ سے پاکستان کا وفد واپس لوٹنے پر مجبور ہو گیا تھا، مگر ترکی کی درخواست پر مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
استنبول میں جاری مذاکرات میں افغان طالبان حکومت کے اہم نمائندے، جیسے کہ انٹیلی جنس چیف عبدالحق واثق اور دوحہ میں طالبان کے سفیر سہیل شاہین، شریک ہیں۔ دونوں ممالک کے لیے یہ موقع بہت اہم ہے کیونکہ دہشت گردی کی روک تھام اور جنگ بندی کے طریقہ کار پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں خطے میں امن قائم کرنا مشکل ہو جائے گا۔