Wed, September 16, 2026

پنجاب حکومت کا مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن روکنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت کا مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن روکنے کا فیصلہ

لاہور : پنجاب حکومت نے مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن کے عمل کو روکنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ اب مینوئل اسلحہ لائسنس کی توثیق اور کمپیوٹرائزیشن کا عمل مزید جاری نہیں رکھا جائے گا۔ اس سے پہلے حکومت نے شہریوں اور اداروں کو آخری موقع فراہم کیا تھا کہ وہ اپنے مینوئل لائسنس کو کمپیوٹرائزڈ کروا لیں۔

نئے حکم کے تحت انفرادی افراد، سکیورٹی کمپنیوں اور اداروں کے مینوئل اسلحہ لائسنسز کی کمپیوٹرائزیشن کا عمل فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ نے اس حوالے سے نیا حکم نامہ بھی جاری کیا ہے، جس کے تحت پہلے جاری کیے گئے تمام احکامات بھی کالعدم قرار دے دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، پنجاب کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سے مارچ 2023 سے نومبر 2023 تک کمپیوٹرائزڈ کیے گئے لائسنسز کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔

محکمہ داخلہ نے اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی اسلحہ جمع کرنے اور اسلحہ کی ملکیت کو محدود کرنے کی مہم (ڈی ویپنائزیشن) کے بارے میں بھی تفصیلات مانگ لی ہیں۔ تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سے 13 نومبر تک یہ رپورٹس فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے 2016 میں مینوئل اسلحہ لائسنسز کی کمپیوٹرائزیشن کا عمل شروع کیا تھا اور اس کے لیے آخری تاریخ 31 دسمبر 2020 تھی۔ اس تاریخ تک جو لائسنس کمپیوٹرائزڈ نہ ہو سکے، انہیں منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اب حکومت نے مینوئل اسلحہ لائسنس کے بارے میں نیا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اس سے جڑے تمام پرانے احکامات کو ختم کر دیا گیا ہے۔

ٹیگز: