Wed, September 16, 2026

لاہور اور پنجاب میں فضائی آلودگی کی سطح تشویشناک حد تک بڑھ گئی

لاہور اور پنجاب میں فضائی آلودگی کی سطح تشویشناک حد تک بڑھ گئی

لاہور: لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق، لاہور آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے، جہاں سموگ کی اوسط سطح 437 تک پہنچ چکی ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ علامہ اقبال ٹاؤن میں اے کیو آئی 667، گورنمنٹ کالج کے اطراف 649، ساندہ روڈ 663، مراتب علی روڈ 605، پنجاب یونیورسٹی کے قریب 554، ماڈل ٹاؤن 503، شالیمار 498 اور کینٹ کے علاقے کا اے کیو آئی 445 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق یہ تمام اعداد و شمار ’’خطرناک‘‘ سطح پر ہیں جو شہریوں کی صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔

اس کے علاوہ، گوجرانوالہ میں اے کیو آئی 639، فیصل آباد میں 460 اور ملتان میں 429 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بھارت کے دارالحکومت دہلی کا اے کیو آئی 678 تک پہنچا ہے، جس کی وجہ سے دہلی دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں سرفہرست ہے۔

طبی ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی کے بڑھتے اثرات سے بچنے کے لیے شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں اور صبح کے اوقات میں کھلی فضا میں باہر نکلنے سے پرہیز کریں۔

موسم کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ لاہور کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 26 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ کم سے کم 12 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شہر میں ہوا کی رفتار 3 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور فضا میں نمی کا تناسب 80 فیصد ہے۔

ٹیگز: