Wed, September 16, 2026

ملکی تباہی میں سیاست دانوں کا کردار

ملکی تباہی میں سیاست دانوں کا کردار

ملک کو تباہ کرنے میں سیاست دانوں کا کردار ہے جنہوں نے قانون کو موم کی ناک سمجھ کرتوڑا مروڑا اپنے اپنے مفاد کیلئے ہرحکومت ترامیم لائی اور پھر اسی کی آڑ میں پسند نہ پسندکاپرچار کیاسیاسی جماعتوں نے ملک اور قوم کے نام پر خزانہ بے دریغ لوٹا تعلیم اور صحت کے نام اربوں کے قرضے لئے اورہضم کیے بدلے میں عوام کو صحت ملی نہ تعلیم، الٹا غربت اور بڑھی رہی سہی کسر سرکاری اداروں میں بیٹھے معمولی کلرک سے لیکر بڑے بڑے افسروں نے پوری کر دی جو کرپشن بھی کرتے ہیں اورآنکھیں بھی دکھاتے ہیں جس کی ایک تازہ ترین مثال زیر من وعن تحریر ہے کہ راولپنڈی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں ڈھائی ارب روپے کی کرپشن کیس کی سماعت احتساب عدالت راولپنڈی میں ہوئی، جہاں سٹینوگرافر کی پلی بارگین درخواست منظور کر لی گئی ہے عدالت نے قومی خزانے میں رقوم کی واپسی کے بعد ملزم کی رہائی کا حکم دے دیا، اگر ملزم نے ڈھائی ارب کسی منافع بخش سکیم میں لگا رکھے ہوں تو اندازہ لگائیے، آج وہ کتنے کے ہو چکے ہوں گے، یوں سمجھیے، قومی خزانے میں رقم واپس گئی،اصل رقم تو پھر بھی ملزم کے پاس ہی رہ گئی دورانِ نوکری جو جائیدادیں بنیں، وہ الگ؛ اب جیل سے باہر آئے ہیں تو مزاج ایسا ہے جیسے کسی رئیل سٹیٹ ایکسپو کے چیف گیسٹ ہوں،ادھر باقی اہلکاروں کے حوصلے بھی بلند ہو گئے ہیں، وہ سوچ رہے ہوں گے، اگر سٹینو بچ گیا تو ہم بھی تھوڑا سا ہاتھ صاف کر لیں، پلی بارگین کا فارم تو سب کے لیے دستیاب ہے، ہمارے ہاں تو پٹواری، تھانے دار اور کچھ افسران اپنے بچوں کو ہر سال تفریحی ٹور پر لے جاتے ہیں، یوکے، یو ایس اے، سوئٹزرلینڈ، دبئی، جہاں دل چاہے، فرق صرف یہ ہے عوام جہاز کی 
کھڑکی دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، یہ حضرات جہاز خود بک کراتے ہیں یہ ایک مثل ہے جبکہ کرپشن سے ہر ادارہ شرابور ہے کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جس نے اس بہتی گنگا میں اشنان نہ کیا ہوہماری آنکھیں کھولنے کیلئے بنگلہ دیشی معاون خصوصی برائے خزانہ کا بیان ہی کافی ہے جس میں کہا گیا کہ 60ء کی دہائی میں پاکستان جن ممالک سے آگے تھا وہ اسے پچھاڑ گئے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک وقت تھا کہ دنیا پاکستان کی طرف حسرت کی نگاہ سے دیکھتی تھی اسکی ترقی و خوشحالی پر رشک کرتی تھی حیرت ناک امر یہ ہے کہ 1960ء میں پاکستان قرض دینے والے ممالک میں شامل تھا، تاریخ بتاتی ہے کہ 60ء کی دہائی میں پاکستان نے اِس وقت کے ترقی یافتہ ملک جاپان کو قرض دیا تھا اور 1957ء میں چاولوں سے بھرا بحری جہاز ٹوکیو بھجوایا جس پر جلی حروف میں پاکستان کا تحفہ لکھا گیا جس کی باقاعدہ تصاویر اخبارات میں بھی شائع ہوئیں، آج حالت یہ ہے کہ اپنوں ہی کے کرتوں کی وجہ سے ملک گداگر بن گیا ، ناقص پالیسیوں اور ذاتی مفادات سے لبریز سیاست نے اس سونے کی چڑیا کو غیروں کا محتاج کرتے ہوئے کوڑی کوڑی کا مقروض کردیا اب یہ قرض قوم کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، اسکے عوام جو 60ء 70ء کی دہائی میں ہر قسم کے فکر و فاقہ سے بے نیاز تھے آج زندہ درگور ہونے کو ہیں جن کے ہاتھوں میں اس ملک کی باگ ڈور رہی وہ ہر دور میں خوشحال رہے انکے اثاثوں میں دن رات اضافہ ہوتا رہا جبکہ عوام کی جمع پونجی لگی سو لگی اب انکی عزت بھی دائو پر لگی نظر آ رہی ہے، ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بنگلہ دیش جو 71ء میں ہم سے الگ کر دیا گیا تھا جب تک ہمارے ساتھ تھا اس کے غربت انتہا کو پہنچی ہوئی تھی آج وہی بنگلہ دیش ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور خوشحالی میں اپنی مثال آپ ہے،ہمارے ہر حکمران کی طرف سے یہی کہا جاتا ہے کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرکے ہی دم لیں گے عام آدمی کی زندگی میں آسودگی لائیں گے لیکن جو ہمارے کرتوت ہیں ان سے نہیں لگتا کہ ہم کبھی خوشحال ہو پائیں گے کیونکہ ہماری ہاتھ پھیلانے کی عادت اب پختہ ہو چکی ہے، ساٹھ کی دہائی تک پاکستان میں انڈسٹری فروغ پا رہی تھی، دنیا پاکستان کو انڈسٹریل پیراڈائز کہا کرتی تھی،ماہرین کا کہنا تھا ترقی کی رفتار یہی رہی تو پاکستان ایشیاء کا ٹائیگر بن جائے گا لیکن اس ٹائیگرکو ایسا لولہ لنگڑا کیا گیا کہ شائد اب یہ لاعلاج ہو چکا ہے ،کسی بھی ملک کی معیشت میں مقامی صنعتیں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں جس سے ملکی برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے، سرمایہ کاری کے دروازے کھلتے ہیں لیکن یہاں صنعتوں کو بھی کبھی قومی دھارے اور کبھی ٹیکسز کے نام پر تباہ کیا گیا جس سے سرمایہ کاری تو ہاتھ سے گئی ہی تھی بے روزگاری بھی حد سے بڑھی اور ملک بجائے آگے کے جانے کے پیچھے کی طرف چلنے لگا کسی سیاستدان نے سنجیدگی نہ دکھائی ہر اس شخص نے بہتی گنگا میں ہاتھ ڈالا جس کاجتنا زور چلتا تھا سیاسی جماعتیں عوام کے مفادات ملکی وسائل کیلئے قائم کی جاتی ہیں مگر یہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے اپنے مفادات کیلئے ترامیم لائی جاتی ہیں اور پھر وہی ترامیم گلے پڑ جاتی ہیں ،پارلیمنٹ میں کوئی بھی شق عوام کے حق کے لیے منظور نہیں کی جا رہی ہے اس وقت پاکستان کے ایک کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے مختلف بیماریوں سے لڑ رہے ہیں جبکہ حکمران اپنے مفادات کے لیے کبھی اٹھارویں کبھی 25ویں کبھی 26 ویں اور اب 27 ویں ترمیم لا رہے ہیں جو انتہائی افسوس ناک ہے،ملک وقوم کی امانت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کے گرد شکنجہ کسا جانا چاہیے لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا کیونکہ کرپشن کے حمام میں تو سب ننگے ہیں۔

ٹیگز: