لاہور : وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ آئین میں ترمیم کرنا عوامی نمائندوں کا دستوری حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر اہم انکشافات بھی کیے۔
وفاقی وزیر نے حالیہ آئینی ترامیم پر ہونے والی بحث کا رخ موڑتے ہوئے کہا آئینی ترمیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے، کسی اور کو نہیں۔ مجھ پر اس حوالے سے بہت تنقید ہوئی، لیکن اختلافِ رائے کو لڑائی کے بجائے مہذب معاشرے کے حسن کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تنقید سے گھبرانے کے بجائے اسے اصلاح کا ذریعہ سمجھنا چاہیے، تاہم پارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔اعظم نذیر تارڑ نے مسنگ پرسنز کے معاملے پر حکومتی حکمتِ عملی بیان کرتے ہوئے کہا حکومت لاپتہ افراد کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنا چاہتی ہے، اس لیے موجودہ کمیشن کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ سطح کی نئی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کئی مواقع پر یہ دیکھا گیا ہے کہ مختلف آپریشنز میں مارے گئے دہشت گردوں کی شناخت ان افراد کے طور پر ہوئی جنہیں لاپتہ قرار دے کر شور مچایا جا رہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ صرف پاکستان نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی موجود ہے۔
سوشل میڈیا پر قابو پانے کے حوالے سے وزیر قانون نے بتایا حکومت نے سوشل میڈیا پر توہینِ مذہب کے مواد کو روکنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے پھیلائی جانے والی نفرت کی روک تھام ہماری اولین ترجیح ہے۔