Wed, September 16, 2026

تعلیم ہماری ترجیح کیوں نہیں؟

تعلیم ہماری ترجیح کیوں نہیں؟

 تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے بحث و مباحثہ جاری ہے مگر عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق تعلیمی نصاب کوا بھی تک جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا نہیں جاسکا ،نصاب کو قومی دوست بنانے کے لئے ہر طرح کے تعصب سے پاک کیا جانا ضروری ہے۔ لیکن اس حوالے سے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹ آراء اور مضامین کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ 80 کی دہائی میں جنرل ضیا الحق کے زیرِسایہ نصاب کے ذریعے انتہاپسندی کو فروغ دینے والے جس ایجنڈا کا آغاز ہوا تھا،اس سے ابھی تک جان نہیں چھڑائی جا سکی۔ اس دور میں نصاب کو دوسروں سے نفرت اور عدم برداشت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ 
 پاکستان کے آئین کے تحت 16سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جس امر کو مملکت کا دستور سب کے لئے لازم قرار دے اس میں یکسانیت کی شرط خود بخود لاگو ہو جاتی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ غریب کے بچے کو کوئی اور تعلیمی نصاب غیر تربیت یافتہ اساتذہ کے ذریعے پڑھایا جائے اور امیروں کے بچے اپنے پیسے یا اثر و رسوخ کی بنا پر اعلیٰ سہولتوں والے اداروں میں زیادہ لیاقت و تجربے کے حامل اساتذہ سے تعلیم حاصل کریں۔نصاب تعلیم کا انحصار ریاست کی قومی تعلیمی پالیسی پر ہوتا ہے، جس میں مستقبل کے اہداف کا تعین کیا جاتا ہے۔ وقت اور حالات کے تحت جہاں دیگر ریاستی امور و معاملات تبدیلیوں اور تغیرات سے گزرتے ہیں، وہیں تعلیمی اہداف بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں چونکہ نصاب تعلیم قومی اہداف سے مشروط ہوتا ہے، اس لیے اس میں بھی وقتاً فوقتاً تبدیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایک ترقی دوست ریاست رونما ہونے والے اندرونی و بیرونی تغیرات کا ادراک کرتے ہوئے اپنی دیگر پالیسیوں کے ساتھ تعلیمی نظام کی فعالیت کو برقرار رکھنے کی خاطر اس میں بھی حسب ضرورت ترامیم و اضافہ کرتی رہتی ہے۔ پاکستان کے نظام تعلیم میں گو کہ مختلف ادوار میں تبدیلیاں ضرور لائی گئیں، لیکن یہ تبدیلیاں حقیقت پسندی کا مظہر ہونے کے بجائے فکری نرگسیت کے زیر اثر زیادہ رہی ہیں جس کی وجہ سے نظام تعلیم معاشرے پر خاطر خواہ مثبت اثرات مرتب کرنے میں ناکام ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان جس خطے میں قائم 
ہوا ہے، وہ انگریز ہی نہیں بلکہ مغلیہ دور سے پسماندہ چلا آرہا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت ملک کے مغربی حصے میں خواندگی کی شرح صرف 8.5فیصد تھی،جو اربن علاقوں سے ہجرت کر کے آنے والوں کی وجہ سے14.7فیصد ہوگئی تھی ، لیکن اس شرح میں اگلے چار برس یعنی1951تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔البتہ مشرقی حصے میں خواندگی کی شرح مغربی حصے کے مقابلے میں قدرے بہتر تھی۔ تعلیم کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے قیام پاکستان کے فوراً بعد یعنی اسی برس قومی تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، لیکن ماہرین کی کمیابی اور وسائل کی عدم دستیابی کے سبب تمام سطحوں پر برطانوی دور کے نصاب کو جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا۔
1951میں ہونے والی تعلیمی کانفرنس میں پہلی بار اہداف کا تعین کرنے کی کوشش کی گئی اور ایک چھ سالہ منصوبہ(1951-57) ترتیب دیا گیا۔ اس وقت صورتحال یہ تھی کہ 4سے10برس عمر کے بچوں کی دو تہائی اکثریت سکولوں سے باہر تھی۔ انھیں سکولوں میں داخل کرنے کے لیے نئے سکولوں کی تعمیر کے ساتھ فوری طور پر 87ہزار تربیت یافتہ اساتذہ کی ضرورت تھی لیکن سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ صرف تربیت یافتہ اساتذہ ہی کی قلت نہیں تھی، بلکہ میٹرک تک تعلیم یافتہ افرادی قوت بھی بہت کم دستیاب تھی جو اساتذہ درس و تدریس کی ذمے داریاں ادا کررہے تھے، وہ مطلوبہ تعداد کا تقریباً ایک چوتھائی تھے جن میں سے بیشتر غیر تربیت یافتہ تھے۔اسی دوران پہلا پنج سالہ منصوبہ (1955-60) پیش کیا گیا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ4 ہزار نئے سکول قائم کیے جائیں ، تاکہ1960 تک سکولوں کی تعداد کو کم از کم20ہزار تک پہنچایا جا سکے۔یہ بھی طے کیا گیا کہ تعلیم کے فروغ کی خاطر نجی شعبے کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے مگر اس دوران پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں جو سکول کھلے وہ زیادہ تر شہروں میں تھے جس کی وجہ سے دیہی علاقوں کی تعلیمی پسماندگی میں کوئی زیادہ فرق نہیں آ سکا۔
پاکستان کا المیہ یہ رہا ہے کہ جہاں صاحب بصیرت سیاستدانوں کے فقدان کے باعث مختلف ریاستی پالیسیوں پر بیوروکریسی حاوی ہوتی چلی گئی ہے، وہیں تعلیم کے شعبے میں اہل ماہرین تعلیم کی عدم موجودگی کے باعث تعلیمی پالیسیوں کی تشکیل پر بھی روز اول سے بیوروکریسی ہی حاوی چلی آ رہی ہے۔ دوسری طرف ریاستی منصوبہ سازوں نے ریاست کے منطقی جواز کی تھیوکریٹک تفہیم کے لیے ہر سطح پر فکری نرگسیت کا سہارا لیا۔ تعلیم کا شعبہ اس سوچ کی پہلی تجربہ گاہ بن گیا۔ اس پر طرہ یہ ہوا کہ ابھی چھ سالہ منصوبے پر مکمل طور پر عمل درآمد بھی نہیں ہو پایا تھا کہ ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کردیا۔
ایوب خان کا دور حکومت گو کہ خاصا لبرل کہلاتا ہے، لیکن نصاب تعلیم میں نفرت انگیز مواد( Material Hate)پہلی بار انھی کے دور میں شامل کیا گیا۔ 1959 میںانھوں نے ایک نیا تعلیمی کمیشن قائم کیا جس میں نصاب کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ خاص طور پر تاریخ، جغرافیہ اور شہریت جو چھٹی سے نویں جماعت تک الگ مضمون کے طور پر پڑھائے جاتے تھے، انھیں معاشرتی علوم کے مضمون میں ضم کردیا گیا۔
میاں نواز شریف نے اپنے دونوں ادوار میں تعلیمی پالیسیاں دیں، پہلی1992اور دوسری 1998میں۔ ان میں تعلیم کے فروغ کے لیے بعض ٹھوس اقدامات تجویز کیے جانے کے باوجود نصاب میں موجود نفرت انگیز مواد کو خارج کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔جنرل پرویز مشرف نے 2001میں تعلیم کو عالمی معیار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے چند ترقی دوست ماہرین تعلیم سے رابطہ کیا جن میں ڈاکٹر اے ایچ نیر، ڈاکٹر پرویزہود بھائی اور دیگر شامل تھے۔ مگر بیوروکریسی نے ان کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔گو کہ بعض سطحوں پر خوشگوار تبدیلیاں آئیں لیکن نفرت انگیز مواد بدستور نصاب کا حصہ رہا۔
گذشتہ دور حکومت میں طبقاتی تعلیمی نظام ختم کرنے، یکساں تعلیمی نصاب و نظام رائج کرنے، مدارس کے طلبہ کو عصری تعلیم کے ذریعے اعلیٰ مناصب سمیت ترقی کے مواقع فراہم کرنے اور ہر بچے کو محنت و صلاحیت کے بل پر پاکستان کی شناخت کا ذریعہ بنانے کا جو وژن دیا، اس باب میں بنیادی کام ہوا بھی ہے۔
لیکن اس پر بھی بحث مباحثہ ہوا اور مختلف طبقات کے تحفظات کے بعد کئی تبدیلیاں کی گئیں لیکن یکساں نصاب کا خواب پھر بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا یوں لگتا ہے تعلیم ہماری نہ ترجیح ہے اور نہ ہم تعلیم کے ذریعے ترقی چاہتے ہیں۔ پاکستان میں ایک ترقی یافتہ نصاب کی تیاری میں سب سے بڑی رکاوٹ ریاست کے منطقی جواز کے حوالے سے پایا جانے والا ابہام ہے جسے دور کئے بنا ترقی یافتہ نصاب کی تیاری شائد خواب ہی رہے۔

ٹیگز: